سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(146) بہو کا ساس کو ماں اور سسر کو باپ کہنا

  • 646
  • تاریخ اشاعت : 2012-05-12
  • مشاہدات : 2077

سوال


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا لڑکی شادی کے بعد اپنے شوہر کے والدین یعنی اپنی ساس کو ماں اور سسر کو ابو کہہ سکتی ہے؟ ازرہ کرم کتاب وسنت کی روشنی میں جواب دیں۔جزاکم اللہ خیرا

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

عبداللہ بن عبدالرحمٰن الجبرین سے سوال کیا گیا:

ہمارے ہاں بہو اور داماد اپنی ساس کو ماں اور سسر کو باپ کہتے ہیں۔ تو کیا یہ جائز ہے؟

تو ان کا جواب تھا:

جب کسی شہر میں اظہار محبت کے لیے قریبی رشتہ داروں کو اس طرح پکارنا معروف ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ جیسا کہ عام طور پر بطور محبت و احترام چچا، پھوپھی، ماموں اور خالہ وغیرہ کو ابو یا امی کہہ لیا جاتاہے۔

عبد الله بن عبد الرحمن الجبرين

http://ibn-jebreen.com/ftawa.php?view=vmasal&subid=12795&parent=3577

وبالله التوفيق

محدث فتویٰ

فتویٰ کمیٹی

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ