سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(166) قبرستان کے علاوہ جگہ پر قرآن خوانی کرنا

  • 19815
  • تاریخ اشاعت : 2017-03-29
  • مشاہدات : 160

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
اہل حدیث شمارہ نمبر17 مجریہ 23اپریل میں قبرستان  میں قرآن خوانی کے متعلق ایک فتویٰ شائع ہواہے ،آپ نے لکھاہے کہ قبرستان چونکہ قراءت قرآن کامحل نہیں ہے لہذا اس میں قرآن خوانی کا اہتمام خلاف شریعت ہے،اس فتویٰ میں عدم جواز کے لیے اس امر کو علت قرار دیاگیا ہے کہ قبرستان،قراءت قرآن کامحل نہیں ہے،اس سے یہ متبادر ہوتا ہے کہ جومقامات قراءت قرآن کا محل ہیں وہاں قرآن خوانی کی جاسکتی ہے مثلاً:
ا۔گھروں میں برکت کے لیے قرآن خوانی کا اہتمام کیا جاتا ہے۔
2۔کارخانوں اور فیکٹریوں میں کاروبار کی ترقی کے لیے قرآن خوانی کرائی جاتی ہے۔
3۔کسی بیمار کی شفا یابی کے لیے بھی گھروں میں قرآن پڑھایا جاتا ہے۔
4۔ناگہانی آفات سے محفوظ رہنے کے لیے بسوں میں قرآن خوانی بھی کی جاتی ہے۔
5۔شادی ہال میں قرآن خوانی کااہتمام ہوتاہے۔
6۔فوت شدگان کے ایصال ثواب کے لیے حفاظ کرام کی خدمات حاصل کی جاسکتی ہیں ،اس قسم کا  اہتمام گھروں اور مساجد میں کیاجاتا ہے۔
یہ مذکورہ تمام مقامات قرآن پڑھنے کامحل ہیں ،کیا ان مقامات میں قرآن خوانی کرائی جاسکتی ہے،امید ہے کہ اس مسئلہ کی وضاحت اولین فرصت میں کردیں گے تاکہ آپ کے استعمال کردہ الفاظ سے شکوک وشبہات پیدا نہ ہوں۔

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اہل حدیث شمارہ نمبر17 مجریہ 23اپریل میں قبرستان  میں قرآن خوانی کے متعلق ایک فتویٰ شائع ہواہے ،آپ نے لکھاہے کہ قبرستان چونکہ قراءت قرآن کامحل نہیں ہے لہذا اس میں قرآن خوانی کا اہتمام خلاف شریعت ہے،اس فتویٰ میں عدم جواز کے لیے اس امر کو علت قرار دیاگیا ہے کہ قبرستان،قراءت قرآن کامحل نہیں ہے،اس سے یہ متبادر ہوتا ہے کہ جومقامات قراءت قرآن کا محل ہیں وہاں قرآن خوانی کی جاسکتی ہے مثلاً:

ا۔گھروں میں برکت کے لیے قرآن خوانی کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

2۔کارخانوں اور فیکٹریوں میں کاروبار کی ترقی کے لیے قرآن خوانی کرائی جاتی ہے۔

3۔کسی بیمار کی شفا یابی کے لیے بھی گھروں میں قرآن پڑھایا جاتا ہے۔

4۔ناگہانی آفات سے محفوظ رہنے کے لیے بسوں میں قرآن خوانی بھی کی جاتی ہے۔

5۔شادی ہال میں قرآن خوانی کااہتمام ہوتاہے۔

6۔فوت شدگان کے ایصال ثواب کے لیے حفاظ کرام کی خدمات حاصل کی جاسکتی ہیں ،اس قسم کا  اہتمام گھروں اور مساجد میں کیاجاتا ہے۔

یہ مذکورہ تمام مقامات قرآن پڑھنے کامحل ہیں ،کیا ان مقامات میں قرآن خوانی کرائی جاسکتی ہے،امید ہے کہ اس مسئلہ کی وضاحت اولین فرصت میں کردیں گے تاکہ آپ کے استعمال کردہ الفاظ سے شکوک وشبہات پیدا نہ ہوں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اصل بات یہ ہے کہ مروجہ قرآن خوانی کئی ایک اعتبار سے محل نظر ہے ،قبرستان میں اس کا اہتمام کسی طرح سے بھی درست نہیں،اس کے ناجائز ہونے کی کئی ایک وجوہات ہیں،جن میں سے ہم نے صرف ایک علت کو بیان کیاتھا کہ قبرستان قراءت قرآن کا محل نہیں،لہذا وہاں قرآن خوانی کااہتمام خلاف شریعت ہے،اس عبارت کا قطعاًیہ مطلب نہیں ہے کہ جن مقامات میں قرآن پڑھا جاسکتا ہے وہاں مروجہ قرآن خوانی جائز ہے،بہرحال  ہمارے رجحان کے مطابق مروجہ قرآن خوانی برائے حصول برکت یا شفاء مریضاں یا ترقی کاروبار یا ایصال ثواب ناجائز ہے،کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  اور  صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  سے یہ عمل ثابت نہیں ہے ،اگر ایسا کرنا خیروبرکت کا ذریعہ ہوتا تو اسلاف ضرور عمل میں لاتے ،خیر القرون میں اس کااہتمام نہ کرنا اس کے محل نظر ہونے کے لیے کافی ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کاارشاد  گرامی ہے :

"جو شخص ہمارے اس  امر دین میں نیا کام کرتا ہے وہ مردود اور ناقابل قبول ہے۔"[1]

نیز آپ کا فرمان ہے:"جس نے کوئی ایسا کام کیا جس پر ہماری مہر ثبت نہیں وہ رد کردینے کے قابل ہے۔"[2]

اس طرح کے غیر مشروع کام کو جائز قرار دینا انتہائی سنگین اقدام ہے،اس کا مطلب یہ ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے دور میں دین مکمل نہیں ہوا تھا،حالانکہ قرآن کریم نے صراحت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی زندگی میں ہی دین اسلام مکمل ہوچکا تھا ،اب اس میں کسی چیز کے اضافہ کی قطعاً ضرورت نہیں ہے،ایسا کرنا بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی کاپیش خیمہ ہوتی ہے۔بہرحال مروجہ قرآن خوانی بدعت ہے اور اس سے اجتناب کرنا چاہیے(واللہ اعلم)


[1] ۔صحیح بخاری الصلح:2697۔

[2] ۔صحیح مسلم الاقضیہ:1718۔

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد3۔صفحہ نمبر 163

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ