سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(3) ’رحموں‘ کا علم صرف اللہ کے پاس ہے

  • 11919
  • تاریخ اشاعت : 2014-05-21
  • مشاہدات : 467

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کی ایک صفت بایں الفاظ بیان ہوئی کہ ‘‘وہ ہی پیٹ کی چیزوں کو جانتا ہے۔’’(۳۱/لقمان:۳۴)
یعنی ماں  کے پیٹ میں نر یا مادہ ہے اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے جبکہ آج جدید سائنس کے ذریعے معلوم کیا جاسکتا ہے کہ ماں کے پیٹ میں بچہ ہے یا  بچی۔ اس کےمتعلق ذہنی  الجھن کا شکار ہوں براہ کرم قرآن پاک اور حدیث کی روشنی میں جواب دے کر مجھے مطمئن کریں؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کی ایک صفت بایں الفاظ بیان ہوئی کہ ‘‘وہ ہی پیٹ کی چیزوں کو جانتا ہے۔’’(۳۱/لقمان:۳۴)

یعنی ماں  کے پیٹ میں نر یا مادہ ہے اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے جبکہ آج جدید سائنس کے ذریعے معلوم کیا جاسکتا ہے کہ ماں کے پیٹ میں بچہ ہے یا  بچی۔ اس کےمتعلق ذہنی  الجھن کا شکار ہوں براہ کرم قرآن پاک اور حدیث کی روشنی میں جواب دے کر مجھے مطمئن کریں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

قرآن پاک کی کوئی صراحت امر واقع سے متعارض نہیں ہے،اگر کوئی بظاہر قرآن پاک کے خلاف ہوتوامرواقع محض دعویٰ ہوگا،جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں یا پھر قرآن پاک کا امر واقع سے تعارض صریح نہیں ہوگا کیونکہ قرآن پاک کی صراحت اور واقع  کی حقیقت دو قطعی امر ہیں اور دو قطعی چیزوں میں کبھی تعارض نہیں ہوتا۔ اس تمہید کے بعد ہماری گزارش ہے کہ آج جدید سائنس ،مثلاًالٹراساؤنڈ کے ذریعے  اطباءحضرات کا دعویٰ ہے کہ وہ ماں کے پیٹ میں نر یا مادہ ہونے کےمتعلق معلومات فراہم کرسکتے ہیں،اگر یہ محض دعویٰ ہے تو اس کےمتعلق گفتگو کی ضرورت نہیں ہے،یہ بات ہمارے مشاہدہ میں ہے کہ بیوی خاوند نے اپنا شوق فضول پورا کرنے کےلیے کسی ڈاکٹر کی خدمات حاصل کیں،اس نے جدید آلات کے ذریعے زوجین کو تسلی دی کہ آپ کے ہاں پھول جیسا بچہ پیدا ہوگا لیکن ولادت اس کے برعکس ہوئی،یعنی بچی پیدا ہوئی ،بیسیوں واقعات شہادت کےطورپرپیش کیے جاسکتے ہیں۔اگر یہ جدید ‘‘تحقیق ’’نشانے پر بیٹھ جائے اور ڈاکٹر کی پیشین گوئی کے مطابق بچہ ہی پیدا ہوتو بھی آیت قرآن پاک کے خلاف نہیں ہے،کیونکہ آیت ایک غیبی امر پر دلالت کرتی ہے۔ اور جنین کےمتعلق غیبی امر صرف یہ نہیں کہ وہ نر ہے یا مادہ ،بلکہ حدیث کےمطابق شکم مادر کے اندر جب استقرار حمل ہوتا ہے تو پہلے نطفہ ہوتا ہے،پھر منجمد خون، اس کے بعد گوشت کا لوتھڑا ،پھر اس میں روح پھونکی جاتی ہے،ان مراحل میں جدید آلات سےمعلوم نہیں کیا جاسکتا ہے کہ شکم مادر میں نر ہے یا مادہ، اس کے بعد شکل و صورت بنتی ہے۔قرآن پاک کی تصریح کےمطابق یہ سب کچھ تاریکیوں کے اندر ہی ہوتا رہتا ہے ،حتی کہ وہ جنین مقررہ وقت کے بعد انسان کی شکل و صورت لےکر ماں کے پیٹ سے باہر آجاتا ہے ۔ ان تین پردوں میں پہلا پردہ ماں کا پیٹ،دوسرا ماں کے اندر رحم اور تیسرا رحم کے اندر جھلی جس میں وہ بچہ ملفوف اور محفوظ ہوتا ہے۔واضح رہے کہ چارماہ کے بعد جب جنین میں روح ڈالی جاتی ہے تو اس کی عمر ،اس کی روزی ،خوشحال ہوگا یا تنگ دست ،نیز یہ نیک بخت ہوگا یا بدبخت ، یہ تمام باتیں لکھ دی جاتی ہیں اور یہ رحم کے مراحل میں شامل ہیں۔ آیت کریمہ میں اس کے نر یا مادہ ہونے کو امور غیبی میں شمار ہی نہیں کیا گیا۔اسی طرح سنت میں بھی اس کی صراحت نہیں ہے کہ ‘‘مافی الارحام’’سے مراد اس کا نر یا مادہ ہوناہے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ شکم مادر کے اندر جب بچہ تین اندھیروں  میں پرورش پاتا ہے تو جدید آلات سے ان اندھیروں کو زائل کیا جاسکتا ہے اور اس کی تصویر بھی لی جاسکتی ہے اور یہ کوئی بعید بات نہیں ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ایسی قوی شعائیں پیدا کررکھی ہیں جو ان اندھیروں کو پھاڑدیتی ہیں اور یہ واضح ہوجاتا ہے کہ جنین نر ہے یا مادہ ،جسم کے اندر ٹوٹے ہوئے اعضاءکو ایکسرے کے ذریعے معلوم کیا جاسکتا ہے تو جدید الٹراساؤنڈ سے اندھیرے میں تصویر بھی لی جاسکتی ہے اور ایسا کرنا قرآن پاک کے خلاف نہیں ہے،اس کے باوجود ہم کہتے ہیں کہ ان اطباءکا علم محض ظن و تخمین پر مبنی ہے کوئی یقینی بات نہیں ہے۔جبکہ قرآن پاک کا دعویٰ حقیقت پر مبنی ہے۔واضح رہے کہ عربی قواعد کے اعتبار سے ‘‘مافی الارحام’’روح پڑنے سےپہلے تک ہے جب اس میں روح پڑجائے تو ‘‘ما’’کی حدود سے نکل جاتا ہے ،واضح رہے کہ ہمارے نزدیک قبل ازوقت جنین کے متعلق معلومات حاصل کرنا کہ نر ہے یا مادہ محل نظر ہے۔کیونکہ یہ ایک فضول شوق جو بلاضرورت ہے،اسلام ایسے فضول کاموں کی اجازت نہیں دیتا ۔(واللہ اعلم )

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

ج2ص47

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ