سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(153) محرم کے بغیر سفر

  • 49
  • تاریخ اشاعت : 2024-05-22
  • مشاہدات : 4140

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته کیا عورت محرم کے بغیر سفر کر سکتی ہے؟ اور اگر کر سکتی ہے تو کتنا؟ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ کیا عورت محرم بن سکتی، جس طرح کہ کوئی عورت اپنی والدہ کے ساتھ سفر پر جائے؟

 

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

عورت محرم کے بغیر سفر نہیں کر سکتی ہے لیکن اب سفر کی تعریف میں اختلاف ہے کہ سفر کسے کہیں گے۔ جمہور اہل علم کے نزدیک سفر کم از کم 48 میل یعنی 80 کلو میٹر بنتا ہے جبکہ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے نزدیک جسے عرف میں سفر کہیں گے وہ سفر ہو گا اور جو اپنے وقت کے عرف میں سفر نہ کہلاتا ہو وہ سفر نہیں ہو گا۔

شیخ صالح المنجد اپنے ایک فتاوی میں لکھتے ہیں:

شیخ ابن باز رحمہ اللہ تعالی نے سفر کے بارہ میں مجموع الفتاوی میں کہا ہے:

جمہور اہل علم کے ہاں گاڑی میں تقریباً اسی کلو میٹر بنتا ہے، اور اسی طرح ہوائی جہاز اور کشتیوں اور بحری جہازوں کی مسافت بنتی ہے۔ اسی 80 کلو میٹر یا اس کے قریب کی مسافت کو سفر کا نام دیا جاتا ہے اورعرف عام میں سفر شمار کیا جاتا ہے، اور مسلمانوں میں بھی یہ سفر معروف ہے، لہذا اگر کوئی انسان اونٹ پر یا پیدل یا گاڑی یا پھر ہوائی جہاز یا بحری جہاز اور کشتیوں اتنی یا اس سے زيادہ مسافت طے کر کے تو اسے مسافر قرار دیا جائے گا۔مجموع الفتاوی ( 12 / 267 )

شیخ ابن ‏عثیمین رحمہ اللہ تعالی سے پوچھا گيا کہ: نماز قصر کی مسافت کیا ہے، اور کیا بغیر قصر کے نماز جمع کی جاسکتی ہے؟

توشیخ رحمہ اللہ تعالی کا جواب تھا:

بعض علماء کرام نے نماز قصر کرنے کے لیے تراسی ( 83 ) کلو میٹر کی مسافت مقرر کی ہے، اور بعض کہتے ہیں کہ عرف عام میں جسے سفر کہا جائے اس میں نماز قصر ہو گی چاہے اس کی مسافت تراسی کلو میٹر نہ بھی ہو، اور جسے لوگ سفر نہ کہيں وہ سفر نہیں چاہے وہ ایک سو کلو میٹر ہی کيوں نہ ہو۔

یہی آخری قول شیخ الاسلام ابن تیمیۃ رحمہ اللہ تعالی نے اختیار کیا ہے، کیونکہ اللہ تعالی نے بھی نماز قصر کے جواز میں مسافت کی تحدید نہيں کی اور اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کی کوئی معین مسافت محدود نہیں فرمائی۔

اورانس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہيں کہ :

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب تین میل کی مسافت کے لیے یا پھر تین فرسخ کی مسافت کے لیے نکلتے تو نماز دو رکعت ادا کیا کرتے تھے۔

(مسلم:691)

شیخ الاسلام ابن تیمیۃ رحمہ اللہ تعالی کا قول اقرب الی الصواب معلوم ہوتا ہے۔

دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ کیا عورت محرم بن سکتی ہے، جس طرح کے کوئی عورت اپنی والدہ کے ساتھ سفر پر جائے۔؟ شیخ صالح المنجد اس بارے ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں:

عورت کسی دوسری عورت کے لیے محرم نہيں، بلکہ محرم تو وہ مرد ہے جواس عورت پر نسب کی وجہ سے حرام ہو مثلا اس کا والد، اس کا بھائی، یا کسی مباح سبب کے حرام ہوتا ہو، مثلا خاوند، سسر، خاوند کا بیٹا، اور رضاعی باپ، رضاعی بھائی وغیرہ۔

اور کسی بھی مرد کے لیے کسی اجنبی عورت سے خلوت کرنا اور اس کے ساتھ سفر کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

’’کوئی بھی عورت محرم کے بغیر سفر نہ کرے‘‘ (متفق علیہ)

اوراس لیے کہ بھی اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

’’کوئی مرد بھی کسی عورت سے خلوت نہ کرے، کیونکہ ان دونوں کے مابین تیسرا شیطان ہے‘‘

مسند احمد وغیرہ نے اسے ابن عمر رضي اللہ تعالی عنہ سے صحیح سند کے ساتھ بیان کیا ہے۔

اللہ سبحانہ وتعالی ہی توفیق بخشنے والا ہے۔ (دیکھیں کتاب: مجموع فتاوی ومقالات متنوعۃ، تالیف فضلیۃ الشیخ علامہ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ تعالی)

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 2 کتاب الصلوۃ

محدث فتویٰ کمیٹی

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ