سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(613) امت کے تہتر (۷۳) فرقوں والی حدیث کی وضاحت

  • 25728
  • تاریخ اشاعت : 2018-04-21
  • مشاہدات : 177

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
رسول اللہﷺ کی حدیث ہے کہ بنی اسرائیل ۷۲ فرقوں میں بٹ گئے تھے، میری امت کے ۷۳ فرقے ہوں گے صرف ایک جنتی ہو گا۔ کیا اہل حدیث، دیوبندی اور بریلوی بھی فرقے شمار ہوں گے؟ (ظفر اقبال۔وزیرآباد) (۵ جولائی ۲۰۰۲ئ)

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

رسول اللہﷺ کی حدیث ہے کہ بنی اسرائیل ۷۲ فرقوں میں بٹ گئے تھے، میری امت کے ۷۳ فرقے ہوں گے صرف ایک جنتی ہو گا۔ کیا اہل حدیث، دیوبندی اور بریلوی بھی فرقے شمار ہوں گے؟ (ظفر اقبال۔وزیرآباد) (۵ جولائی ۲۰۰۲ئ)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

کسی کو نشانہ بنانے کی بجائے اصول بیان کردیتا ہوں جس سے آپ پرکھ لیں کہ کون کس گروہ میں داخل ہے۔ امت کی ان جماعتوں کے مختلف درجات ہیں۔ ان میں سے ایک جماعت شریعت کے احکام دل و جان سے تسلیم کرنے اور شریعت کی اتباع کرنے کا انتہائی شوق رکھتی ہے اور دین میں بدعتیں ایجاد کرنے یا نصوص میں تحریف کرنے یا ان میں کمی و بیشی کرنے سے انتہائی گریزاں رہتی ہے ، تو ایسے خوش نصیب لوگ ہی فرقہ ناجیہ میں شمار ہوتے ہیں۔

کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ وہ شریعت کی بعض نصوص کا انکار کردیتے ہیں۔اس کی وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ اسلام میں ابھی ابھی( نئے نئے) داخل ہوئے ہیں( اور انھیں ان نصوص کا علم نہیں) یا وہ اسلامی علاقوں کے دور دراز خطے میں پیدا ہوئے۔ (جہاں اسلامی تعلیمات عام نہیں) تو انھیں یہ شرعی حکم معلوم نہیں ہو سکا جس کا انھوں نے انکار کیا ہے۔ بعض افراد ایسے ہوتے ہیں جو کسی گناہ کا ارتکاب کرتے ہیں یا ایسی بدعت ایجاد کرتے ہیں جو دائرہ اسلام سے خارج نہیں کرتی تو یہ مومن ہیں۔ انھوں نے جو نیکی کی اس کے لحاظ سے وہ اللہ کے فرماں بردار ہیں۔ اور جس گناہ یا بدعت کا ارتکاب کی اس کے لحاظ سے گناہ گار ہیں یہ لوگ اللہ کی مشیت میں داخل ہیں، چاہے تو معاف کردے یا سزا دے۔

کچھ وہ لوگ ہیں جو واضح ہو جانے کے بعد بھی دین کے کسی بنیادی مسئلے کا انکار کردیتے ہیں اور اللہ کی ہدایت چھوڑ کر اپنی خواہش نفس کی پیروی کرتے ہیں یا شرعی نصوص کی ایسی بعید تاویل کرتے ہیں، جو پہلے گزرے ہوئے تمام مسلمانوں کے خلاف ہوتی ہے۔ جب ان کے سامنے حق واضح کیا جائے اور مباحثہ و مناظرہ کے ذریعے حجت قائم کردی جائے تب بھی حق کو قبول نہیں کرتے تو ایسے لوگ کافر اور مرتد ہیں، خواہ وہ خود کو مسلمان کہیں، خواہ اپنے عقیدہ و طریقہ کے مطابق پوری کوشش سے اسلام کی تبلیغ کریں۔( ملخص فتاوٰی شیخنا ابن باز رحمہ اللہ ، ص: ۱۵۰،جلد دوم)

    ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ حافظ ثناء اللہ مدنی

جلد:3،کتاب الجہاد:صفحہ:456

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ