سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(225) قبروں میں حیات انبیاء والی حدیث کا حکم

  • 1423
  • تاریخ اشاعت : 2012-07-04
  • مشاہدات : 960

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

حديث إن اللہ حرم علی الارض أن تأکل أجساد الأنبیاء.....الخ کی استنادی حالت کیا ہے۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

سنن ابن ماجہ کی ایک طویل حدیث میں آپؐ نے فرمایا:

عن أبي الدرداء قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: (أکثروا الصلاة علي یوم الجمعة، فإنّہ مشھود تشھدہ الملائکۃ، فإنّ أحداً لن یصلي علي إلاّ عرضت علي صلاتہ حتی یفرغ منھا، قال قلت: وبعد الموت؟ قال: وبعد الموت، إنّ اللہ حرم علی الأرض أن تأکل أجساد الأنبیاء علیہم السلام، فنبي اللہ حي یرزق)  ( ''سنن ابن ماجہ''، أبواب الجنائز، باب ذکر وفاتہ ودفنہ، الحدیث: ۱۶۳۷، ج۲، ص۲۹۱)

یہ روایت ضعیف ہے اس کی سند میں دو جگہ انقطاع ہے حضرت ابوداؤد سے عبادہ بن نسی کا اور عبادہ بن نسی سے زیدبن ایمن کا سماع ثابت نہیں۔

وبالله التوفيق

فتویٰ کمیٹی

محدث فتویٰ


ماخذ:مستند کتب فتاویٰ