سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(261)ابوداؤد ومسلم شریف میں ہے’’ صلیت مع الجمعة فی المقصورة ،، مقصورہ سےکیامراد ہے؟

  • 17283
  • تاریخ اشاعت : 2016-10-25
  • مشاہدات : 420

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ابوداؤد ومسلم شریف میں ہے’’ صلیت مع الجمعة فی المقصورة  ،، مقصورہ سےکیامراد ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

قال القاری:’’المقصورة،موضع معين فى الجامع،،وقال ابن عابدين :’’الظاهرأن المقصود فى زمانهم ، اسم لبيت فى داخل الجدار القبلى من المسجد ، كان يصلى فيها الأمراء الجمعة ، ويمنعون الناس من دخولها خوفا من العدو ،، انتهى . قالو : وأول من عملها معاوية بن ابى سفيان ، حين ضربة الخارجى .(محدث دهلى / 1942ء)

٭ ’’ فتاویٰ عالمگیری میں شرائط وجوب جمعہ سےمتعلق مرقومہ بعض عبارتوں سےمعلوم ہوتاہےکہ اسلامی حکومت میں قیدخانہ میں جولوگ مقیدہوں ،انہیں قیدخانہ میں جمعہ  کےدن ظہرکی نماز اکیلے اکیلے پڑھنا چاہیے ، اور وہ بھی اس وقت جبکہ شہر کی جامع مسجد میں امام جمعہ کی نماز سےفارغ ہونے کےبعد۔لیکن احادیث کی رو سےجمعہ کی فرضیت  کےلیے حریت ،بلوغ ، ذکورۃ، عقل ، سلام،اقامت اورجماعت کےعلاوہ  مزید کوئی اورشرط نہیں معلوم ہوتی ۔ اس لیے موجودہ جیلوں کی کسی ایک بارک میں دس بیس یااس سےزیادہ مسلمان قیدی ہوں اوروہ بسہولت جماعت اورجمعہ کی نماز ادا کرسکتےہوں ، تو وہ جیل میں  جمعہ اورعیدین کی نماز باجماعت اداکرسکتےہیں ۔میرے نزدیک اس میں کوئی مضائقہ نہیں معلوم ہوتا واللہ اعلم۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ شیخ الحدیث مبارکپوری

جلد نمبر 1

صفحہ نمبر 411

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ