سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(99) کیا عورت سراپا شر ہے؟

  • 23851
  • تاریخ اشاعت : 2017-12-13
  • مشاہدات : 106

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
نہج البلاغہ میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی طرف ایک قول منسوب ہے کہ انہوں نے فرمایا:
"الْمَرْأَةُ شَرٌّ كُلُّهَا"
"یعنی عورت سراپا شر ہے"
اسلامی نقطہءنظرسے یہ قول کس حد تک درست ہے؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

نہج البلاغہ میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی طرف ایک قول منسوب ہے کہ انہوں نے فرمایا:

"الْمَرْأَةُ شَرٌّ كُلُّهَا"

"یعنی عورت سراپا شر ہے"

اسلامی نقطہءنظرسے یہ قول کس حد تک درست ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

سب سے پہلے میں دو باتیں واضح طور پر بتانا چاہوں گا۔

1۔پہلی بات یہ ہے کہ کسی بھی مسئلے میں صرف قرآن اور حدیث ہی ایسے دو مراجع ہیں،جواسلامی نقطعہ نظر کی نمائندگی کرتےہیں۔ان دونوں کے علاوہ کسی اور کی بات قبول بھی کی جاسکتی ہے اور رد بھی۔

2۔محققین کے نزدیک نہج البلاغہ میں بہت سارے اقوال ایسے ہیں،جن کا حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی طرف انتساب صحیح نہیں ہے۔ایک ہوش مند قاری اس بات کو محسوس کرسکتا ہے کہ یہ باتیں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ  جیسے جلیل القدر صحابی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور عالم دین کی نہیں ہوسکتیں۔

اسلامی قاعدے کے مطابق کسی قول کو اس کے قائل کی طرف منسوب کرنے کے لیے معتبر سند کی ضرورت ہوتی ہے۔معتبر سند کے بغیر کسی قول میں کوئی وزن نہیں ہوتا۔آپ ذرا مجھے بتائیں کہ نہج البلاغہ میں ایسی کسی معتبر سند کا تذکرہ کہاں ہے؟اگرکسی معتبر سند سے بھی یہ قول حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے ثابت ہوتوبھی پہلی فرصت میں اس قول کو رد کیا جاسکتا ہے کیوں کہ یہ قول واضح طور پر قرآن وسنت اور اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ  اس طرح کی بات کیسے کہہ سکتے ہیں اس لیے کہ وہ قرآن پڑھتے تھے اورجانتے تھے کہ قرآن نے اصل خلقت میں اور مکلف ہونے میں عورت اور مرد دونوں کو مساوی قراردیا ہے۔حتیٰ کہ جزاوسزا میں بھی دونوں یکساں ہیں۔

قرآن کا ارشاد ہے:

﴿يـٰأَيُّهَا النّاسُ اتَّقوا رَبَّكُمُ الَّذى خَلَقَكُم مِن نَفسٍ و‌ٰحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنها زَوجَها وَبَثَّ مِنهُما رِجالًا كَثيرًا وَنِساءً... ﴿١﴾... سورة النساء

"اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اسی جان سے اس کا جوڑ بنایا اور ان دونوں سے بہت سارے مرد اور عورت دنیا میں پھیلا دیے"

اورقرآن کہتا ہے:

﴿فَاستَجابَ لَهُم رَبُّهُم أَنّى لا أُضيعُ عَمَلَ عـٰمِلٍ مِنكُم مِن ذَكَرٍ أَو أُنثىٰ بَعضُكُم مِن بَعضٍ...﴿١٩٥﴾... سورة آل عمران

"جواب میں ان کے رب نے فرمایا میں تم میں سے کسی کا عمل ضائع نہیں کرلوں گا خواہ مردد ہویا عورت تم سب ایک دوسرے کے ہم جنس ہو"

حضور صلی اللہ علیہ وسلم  نے عورت کو ایک نعمت سے تعبیر کیا ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم  فرماتے ہیں:

"الدُّنْيَا مَتَاعٌ وَخَيْرُ مَتَاعِ الدُّنْيَا الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ"

"دنیا ایک متاع ہے۔اس دنیا کی بہترین متاع صالح عورت ہے"

"اورحضور صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا کہ چار چیزیں جسے عطا ہوئیں اسے دنیا کی تمام نعمتیں عطا ہوئیں۔ان میں سے ایک نعمت صالح عورت ہے۔(1)

اورحضور صلی اللہ علیہ وسلم  اپنے بارے میں فرماتے ہیں:

"حبب إلى من دنياكم النساء والطيب"

"تمہاری دنیا میں سے مجھے عورت اور خوش بومحبوب ہے"

ان کے علاوہ متعدد احادیث ہیں،جن میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم  نے صالح عورت کو نعمت قراردیا ہے۔قرآن میں عورت کی تخلیق کا مقصد یہ بتایاگیا ہے کہ اسے مرد کے لیے باعث سکون بنایا گیا ہے۔(2)۔اگر عورت سراپا شر ہوتی تو وہ دنیا کی عظیم نعمت کیسے ہوتی اور مردوں کے لیے باعث سکون کیونکر قرارپاتی؟

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ  قرآن وحدیث کی مخالفت کرتے ہوئے یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ عورت سراپا شر ہے۔اگر انہوں نے یہ بات کہی تو ان کا اپنی زوجہ یعنی حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا   کے بارے  میں کیا خیال ہے۔جن کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا کہ وہ جنت کی عورتوں کی سردار ہوں گی۔کیا ان کے بارے میں بھی یہی کہا جائے گا کہ وہ سراپا شر ہیں؟

عورت کی فطرت مرد کی فطرت سے بہت مختلف نہیں ہے۔جس طرح مرد نیکی اور بدی دونوں کےمرتکب ہوتے ہیں،اسی طرح عورتیں بھی نیک اور بد دونوں طرح کی ہوتی ہیں۔البتہ ایک حدیث ہے جس میں عورتوں کے فتنے سے خبردار کیا گیاہے۔حدیث ہے:

"مَا تَرَكْتُ بَعْدِي فِتْنَةً أَضَرَّ عَلَى الرِّجَالِ مِنْ النِّسَاءِ"(بخاری)

"میرے بعد کوئی ایسا فتنہ نہیں رہ جائے گا جومردوں کے لیے خطرناک ہو،عورتوں سے بڑھ کر۔"

اس حدیث میں عورتوں کے فتنے سے خبردار کرنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ عورتیں سراپاشر ہیں بلکہ اس کامطلب یہ ہے کہ عورتوں میں ایسی کشش اور جاذبیت ہوتی ہے کہ اس بات کا بڑا خدشہ ہوتا ہے کہ مرد ان میں الجھ کر خدا اور آخرت کو فراموش کر بیٹھیں۔اور یہ ایسی حقیقت  ہے جس سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔قرآن میں اللہ تعالیٰ نے مال ودولت اور اولاد کے فتنے سے بھی خبردار کیا ہے:

﴿إِنَّما أَمو‌ٰلُكُم وَأَولـٰدُكُم فِتنَةٌ ...﴿١٥﴾... سورة التغابن

"تمہارے مال اور اولاد تو ایک آزمائش ہیں"

لیکن اس کے باوجود کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ مال ودولت اور اولاد سراپاشر ہیں۔اس کے برعکس قرآن نے مال ودولت کو"خیر" سے تعبیر کیا ہے اور اولاد کو نعمت قراردیا ہے اور ساتھ ہی یہ دونوں چیزیں  فتنہ بھی ہیں کہ ان میں انسان کو مشغول کرکے خدا سے غافل کرنے کی پوری صلاحیت ہوتی ہے،یہی حال عورت کا ہے کہ نعمت ہونے کے باوجود وہ فتنہ بھی ہے۔

مسلم عورتوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان چالوں کو سمجھیں اور ان چیزوں سے دور رہیں جو ترقی اورآزادی کے نام پر ان کی عزت وآبرو کو تباہ وبرباد کرسکتی ہیں۔ان کے لیے فلاح اور کامیابی اس میں ہے کہ خداکے مقرر کردہ حدود کے اندر پوری آزادی کے ساتھ زندگی بسر کریں جس طرح قرون اولیٰ کی صالح عورتیں بسر کرتی تھیں۔

  ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاوی یوسف القرضاوی

عورت اور خاندانی مسائل،جلد:1،صفحہ:226

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ