سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(47)جس نے صفوں کی بائیں جانب کو آباد کیا ، اس کے لیے دو اجر ہیں کیا یہ حدیث صحیح ہے؟

  • 16207
  • تاریخ اشاعت : 2016-06-08
  • مشاہدات : 482

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

عشاء کی نماز کھڑی ہوئی اور پہل صف کی دائیں جانب مکمل ہوگئی جبکہ بائیں جانب صرف چند ایک لوگ کھڑے تھے تو ہم نے کہا: بائیں جانب سے صف برابر کرو۔ نمازیوں میں سے ایک کہنے لگا:’’ دائیں جانب افضل ہے‘‘ کسی شخص نے اس کا تعاقب کرتے ہوئے یہ حدیث پیش کی کہ ’’ جوشخض صفوں کی بائیں جانب کو آباد کرے اس کے لیے دو اجر ہیں ‘‘۔ بتلائے اس مسئلہ میں راہ صواب کیا ہے؟
مطلق ۔ع۔ ا۔ الخرج

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

عشاء کی نماز کھڑی ہوئی اور پہل صف کی دائیں جانب مکمل ہوگئی جبکہ بائیں جانب صرف چند ایک لوگ کھڑے تھے تو ہم نے کہا: بائیں جانب سے صف برابر کرو۔ نمازیوں میں سے ایک کہنے لگا:’’ دائیں جانب افضل ہے‘‘ کسی شخص نے اس کا تعاقب کرتے ہوئے یہ حدیث پیش کی کہ ’’ جوشخض صفوں کی بائیں جانب کو آباد کرے اس کے لیے دو اجر ہیں ‘‘۔ بتلائے اس مسئلہ میں راہ صواب کیا ہے؟

مطلق ۔ع۔ ا۔ الخرج

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

نبیﷺ سے ثابت ہے جو اس بات پر دلالت کر تا ہے کہ ہر صف کی دائیں جانب اس کی بائیں سے افضل ہے۔ اور لوگوں کو إعدالو الصف کہنامشروع نہیں اور اس بات میں کوئی حرج نہیں کہ صف کی دائیں جانب لوگ زیادہ ہوں تاکہ فضیلت حاصل کر سکیں۔

اور حاضرین میں سے کسی نے جو یہ حدیث پیش کی :

((من عَمَر میاسر الُفُوفِ فله أجْران۔))
مجھے اس ک کوئی اصل معلوم نہیں اورراجح بات یہی ہے کہ یہ حدیث موضوع ہے۔ جسے کسی ایسے کاہل نے گھڑا ہے جو نہ صف کی دائیں جانب کے لیے حریص ہوتے ہیں اور نہ مسابقت کے لیے… اور اللہ ہی سیدھی راہ کی طرف ہدایت دینے والا ہے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ دارالسلام

ج 1

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ