سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(344) ضرورت کے لئے منع حمل کا حکم

  • 22410
  • تاریخ اشاعت : 2017-09-17
  • مشاہدات : 186

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
میری عمر ستائیس برس ہے، میں شوگر کی مریضہ ہوں، آخری حمل کے دوران شوگر نے مجھے بے بس کر دیا تو میں نے انسولین کا انجکشن لگوانا شروع کر دیا، بچے کی ولادت آپریشن کے ذریعے عمل میں آئی، بناء بریں میں نے نس بندی کرا لی، کیا یہ حلال ہے یا حرام؟ میں آپ کو یہ بتاتی چلوں کہ میں اس وقت آٹھ بچوں کی ماں ہوں۔ (جزاکم اللہ احسن الجزاء)

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میری عمر ستائیس برس ہے، میں شوگر کی مریضہ ہوں، آخری حمل کے دوران شوگر نے مجھے بے بس کر دیا تو میں نے انسولین کا انجکشن لگوانا شروع کر دیا، بچے کی ولادت آپریشن کے ذریعے عمل میں آئی، بناء بریں میں نے نس بندی کرا لی، کیا یہ حلال ہے یا حرام؟ میں آپ کو یہ بتاتی چلوں کہ میں اس وقت آٹھ بچوں کی ماں ہوں۔ (جزاکم اللہ احسن الجزاء)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ضرورت کے علاوہ مستقل طور پر حمل روکنا یا اسے وقتی طور پر معطل کرنا ناجائز ہے۔ ضرورت کے پیمانہ یہ ہے کہ کوالیفائیڈ ڈاکٹر یہ فیصلہ دے دیں کہ ولادت بیماری میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے، یا حمل اور پھر وضع حمل سے عورت کی ہلاکت کا ڈر ہے۔ علاوہ ازیں مستقل حمل روکنے یا وقتی طور پر معطل کرنے کے لئے خاوند کی رضامندی بھی ضروری ہے۔ پھر عذر ختم ہونے پر عورت گزشتہ حالت پر لوٹ آئے گی۔ بیوی کی بیماری، جسمانی کمزوری، وضع حمل کی تکلیف کا عدم برداشت اور مناسب طور پر بچوں کی تربیت نہ کر سکنا بھی ضرورت کے ضمن میں آتا ہے۔شیخ ابن جبرین

 ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ برائے خواتین

مختلف فتاویٰ جات،صفحہ:359

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ