سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(211) عقیدو توحید ٹھیک نہ ہونے والے کی عبادات کا حکم

  • 26157
  • تاریخ اشاعت : 2020-12-01
  • مشاہدات : 655

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک انسان نماز پڑھتا ہے، روزے رکھتا ہے، حج ، زکاۃ اور صدقہ و خیرات کرتا ہے لوگوں کی نظر میں متقی ہے۔ لیکن اس کا عقیدہ توحید ٹھیک نہیں۔ جیسا کہ بعض حضرات نبی آخرالزمان ﷺ کو غیب دان اور مختار کل وغیرہ جانتے ہیں تو کیا ایسے انسان کی عبادات اللہ کے ہاں قبول ہوں گی؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

غلط عقیدے کے حالم آدمی کے ساتھ معاملہ اس کے اعمال کے مطابق ہوگا۔ سوال میں مذکور عقائد اسلامی تعلیمات سے متصادم ہیں جن کی اصلاح ازبس ضروری ہے۔ بصورت دیگر شرک کے ساتھ کسی عمل کے قبول ہونے کی امید نہیں رکھنی چاہیے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے:

﴿نَّ اللَّهَ لا يَغفِرُ أَن يُشرَكَ بِهِ وَيَغفِرُ ما دونَ ذلِكَ لِمَن يَشاءُ وَمَن يُشرِك بِاللَّهِ فَقَدِ افتَرى إِثمًا عَظيمًا ﴿٤٨﴾... سورة النساء

’’ اللہ یہ گناہ نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے اور اس کے علاوہ دوسرے گناہ کو جسے چاہے معاف کردے۔‘‘

ھذا ما عندي واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ

ج1ص513

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ