سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(59) کیا عورت ماہواری کےایام میں درس وتدریس کر سکتی ہے ؟

  • 14132
  • تاریخ اشاعت : 2015-07-07
  • مشاہدات : 753

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا کوئی عورت ماہواری کے دنوں میں مسجد میں آکر درس وتدریس کر سکتی ہے ؟


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا کوئی عورت ماہواری کے دنوں میں مسجد میں آکر درس وتدریس کر سکتی ہے ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

1۔ ماہواری کےایام میں عورت کےلیے مسجد میں ٹھہرنا اوردرس وتدریس کرنا جائز نہیں ہے ، چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا  سے روایت ہے :

قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَقُولُ: جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوُجُوهُ بُيُوتِ أَصْحَابِهِ شَارِعَةٌ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: «وَجِّهُوا هَذِهِ الْبُيُوتَ عَنِ الْمَسْجِدِ». ثُمَّ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَصْنَعِ الْقَوْمُ شَيْئًا رَجَاءَ أَنْ تَنْزِلَ فِيهِمْ رُخْصَةٌ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ بَعْدُ فَقَالَ: «وَجِّهُوا هَذِهِ الْبُيُوتَ عَنِ الْمَسْجِدِ، فَإِنِّي لَا أُحِلُّ الْمَسْجِدَ لِحَائِضٍ وَلَا جُنُبٍ» (رواہ ابو داؤد۔ بحواله فقه السنة ج۱ص۵۹)

’’صحابہ کے گھروں کےدروازے مسجد میں کھلتے تھے ۔ آپ نے فرمایا:دروازہ کو مسجد سے پھیرا لو۔ مگر صحابہ نے رخصت کی امید پر اس حکم پرعمل نہ کیا، پھر آپ نے دوربارہ فرمایا کہ اپنے گھروں کےدروازوں کورخ پھیر لو، میں مسجد کوحائضہ عورت اورجنبی مردکےلیے حلال نہیں کرسکتا ،یعنی ماہواری والی عورت اورجنبی مرد کو مسجد میں ٹھہرنا جائز نہیں ۔

عن أُمُّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَرْحَةَ هَذَا الْمَسْجِدِ، فَنَادَى بِأَعْلَى صَوْتِهِ «إِنَّ الْمَسْجِدَ لَا يَحِلُّ لِجُنُبٍ، وَلَا لِحَائِضٍ» (رواہ ابن ماجه والطبرانی۔ حواله ایضا۔)

’’رسول اللہ ﷺ مسجد کے آنگن میں تشریف لائے اور بآواز بلند فرمایا کہ مسجد میں حائضہ اورجنبی کا قیام حرام ہے ۔ ہاں ،گزر جائز ہے ۔‘‘

محقق عصر حاضر الشیخ السید محمد سابق مصری ارقام فرماتے ہیں :

والحدیثان یدلان علی عدم حل اللبث فی المسجد والمکث فیہ للحائض والجنب لکن یرخص لھما فی امتیازہ یقول اللہ تعالی (ولا جنبا الا عابر ی سیل حتی تغتسلوا)

’’یہ دونوں احادیث اس کی دلیل ہیں کہ ماہواری والی عورت اورجنبی کےلیے مسجد میں قیام کرنا اورٹھہرنا جائز نہیں ۔ ہاں وہ دونوں مسجد میں سے گزر سکتے ہیں ۔‘‘

لہذا ان دونوں احادیث سے ثابت ہواکہ حائضہ عورت کےلیے مسجد میں ٹھہرنا جائز نہیں ۔ جمہور علماء کےنزدیک حائضہ عورت اپنے گھروں میں تلاوت نہیں کرسکتی ۔ چہ جائیکہ وہ مسجد میں بیٹھ کردرس وتدریس کرے۔ واللہ اعلم ۔

فتاویٰ محمدیہ

ج1ص300

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ