سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(92) مخصوص لوگوں کے لیے مخصوص دعائیہ کلمات

  • 26154
  • تاریخ اشاعت : 2020-11-30
  • مشاہدات : 14

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

1.... الفاظ صلوۃ اور علیہ السلام کن کے لیے مخصوص ہیں؟

2.... الفاظ رضی اللہ عنہ کن کے لیے مخصوص ہیں؟

3.... الفاظ رحمہ اللہ کن کے لیے مخصوص ہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ساری امت مسلمہ اس بات پر متفق ہے کہ صلوۃ اور سلام کا اطلاق انبیاء علیہم السلام کی ذوات عالیہ کے ہے اس بارے میں اہل علم کا اختلاف ہے کہ ان لفظوں کا اطلاق غیر نبی پر ہو سکتا ہے کہ نہیں؟اس باب میں حافظ ابن کثیر نے اپنی شہرۂ آفاق تفسیر میں زیر آیت ﴿نَّ اللَّهَ وَمَلـئِكَتَهُ يُصَلّونَ عَلَى النَّبِىِّ﴾... سورةالاحزاب" نہایت عمدہ اور قیمتی بہث کی ہے جو پیش خدمت ہے چنانچہ فرماتے ہیں: نبیوں کے سوا غیر نبیوں پر صلوۃ بھیجنا اگر تبغاِ ہو تو بے شک جائز ہے۔ جیسا کہ حدیث میں ہے:

«اللهم صل على محمد واله وازواجه وذريته»

ہاں صرف غیر نبیوں پر صلوۃ بھیجنے میں اختلاف ہے، بعض تو اسے جائز بتلاتے ہیں اور دلیل میں آیت:﴿هُوَ الَّذى يُصَلّى عَلَيكُم اور ﴿أُولـئِكَ عَلَيهِم صَلَوتٌ اور ﴿صَلِّ عَلَيهِم پیش کرتے ہیں، اور حدیث بھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کسی قوم کا صدقہ آتا تو آپ فرماتے «اللهم صل عليهم» چنانچہ عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب میرے والد آپ کے پاس صدقہ کا مال لائے تو آپ ﷺ نے فرمایا:

«اللهم صل على آل ابى اوفى» صحيحن

ایک اور حدیث میں ہے کہ ایک عورت نے کہا یا رسول اللہ! مجھ پر اور میرے خاوند پر صلوۃ بھیجئے تو آپ نے فرمایا:

«صلى الله عليك و على زوجك»

لیکن جمہور علماء اس کےخلاف ہیں اور کہتے ہیں کہ انبیاء کے سوا اوروں پر خالصتاَ ’ صلوۃ’ بھیجنا ممنوع ہے۔اس لیے کہ اس لفظ کا استعمال انبیاء علیہم السلام کے لیے اس قدر بہ کثرت ہوگیا کہ سنتےہی ذہن میں یہ خیال آتا ہے کہ یہ نام کسی نبی علیہ السلام کا ہے تو احتیاط اسی میں ہے کہ یہ الفاظ نہ کہے جائیں مثلا ابوبکر ، صلی اللہ علیہ وسلم ، یا علی صلی اللہ علیہ وسلم نہ کہا جائے۔ گو معناَ اس میں کوئی قباحت نہیں ۔ جیسے محمد عزوجل نہیں کہا جاتا ۔ حالانکہ ذی عزت اور ذی مرتبہ آپ بھی ہیں۔اسی لیے یہ الفاظ اللہ تعالی کی ذات کے لیے مشہور ہوچکے ہیں اور کتاب و سنت میں صلوۃ کا استعمال غیر انبیاء کے لیے ہوا ہے وہ بطور دعا کے ہیں۔ اسی وجہ سے ’’ آل ابی اوفی’’ کو اس کے بعد کسی نے ان الفاظ سے یاد نہیں کیا نہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کو اور نہ ہی ان کی بیوی کو ۔ یہی مسلک ہمیں بھی اچھا لگتا ہے۔

ھذا ما عندي واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ

ج1ص276

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ