سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(10) ایک حدیث میں ’ ہ‘ ضمیر کے مرجع

  • 21775
  • تاریخ اشاعت : 2017-07-31
  • مشاہدات : 235

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
"إن الله خلق آدم على صورته" اس میں "ہ"ضمیر کا مرجع کیا ہے؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

"إن الله خلق آدم على صورته" اس میں "ہ"ضمیر کا مرجع کیا ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

میرے علم کے مطابق اس حدیث میں تاویل کی گنجائش نہیں ہے۔کیونکہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ  نے یہ حدیث اپنی صحیح میں مکمل روایت کی ہے کہ جس وجہ سے اس میں تاویل کی ضرورت نہیں ہے۔حدیث اس طرح ہے:

((عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ طُولُهُ....))

"بے شک آدم علیہ السلام  کو اللہ تعالیٰ نے آدم کی انہی صورت پر پیدا کیا کہ ان کا قد ساٹھ ہاتھ ہے۔"صُورَتِهِ"اس لفظ میں جو ضمیر ہے یہ اللہ کے بجائے آدم ہی کی طرف لوٹ رہی ہے۔

یہی حدیث بعض سنن کی کتب میں یوں مروی ہے:

"إن الله خلق آدم على صورة الرحمن "

"کہ بے شک اللہ تعالیٰ نے آدم کو رحمٰن کی شکل وصورت میں پیدا کیا"

تویہ حدیث ان الفاظ کے ساتھ ضعیف ہے۔کیونکہ حبیب بن ابی ثابت کی روایت سے مروی ہے۔یہ راوی مدلس ہے اوراس سے تمام طرق میں عنعن سے روایت کیا ہے ۔ہمارے علم کے مطابق اسی پر ساری حدیث کادارومدار ہے۔

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ البانیہ

توحید اسماء وصفات کے مسائل صفحہ:84

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ