سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(11) اہل حدیث کے پیچھے حنفی المذہب کا نماز پڑھنا

  • 531
  • تاریخ اشاعت : 2012-04-23
  • مشاہدات : 521

سوال

 
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
اہل حدیث کےپیچھے حنفی المذہب کو اقتداء کرنا درست ہے یانہیں؟ ازراہِ کرم کتاب وسنت کی روشنی میں جواب دیں۔ جزاكم الله خيرا

 

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اہل حدیث کےپیچھے حنفی المذہب کو اقتداء کرنا درست ہے یانہیں؟ ازراہِ کرم کتاب وسنت کی روشنی میں جواب دیں۔ جزاكم الله خيرا


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

اس میں تفصیل ہے بعض صورتوں میں درست ہے اوربعض صورتوں میں مکروہ ہے یا درست نہیں پس احتیاط اسی میں ہے کہ اقتداء ان کی نہ کی جائے لیکن جس نے لاعلمی سے اقتداء کرلی یا علم سے اقتداء کی اس کو درمیان نماز کے نیت توڑنا نہ چاہیے۔اگرتوڑ دی اس نماز کوپھرپڑھ لے۔(عزیزالفتاوی ص 152’’المفتی‘‘ماہ رجب 1355ھ)

محدث ؒ روپڑی کاجواب

اس میں شبہ نہیں کہ ائمہ مجتہدین کا وضوء اورطہارت وغیرہ کے متعلق آپس میں بہت اختلاف ہے۔ ایک کے نزدیک ایک بات درست  ہے تو دوسرا اس کوغیردرست کہتا ہے۔ اگرایک حرمت کاقائل ہے تو دوسراحلت کا۔ خاص کر امام ابوحنیفہ ؒ صاحب کا دوسرے ائمہ سے اختلاف زیادہ ہے اوربہت سی باتوں میں امام ابوحنیفہ صاحبؒ کے شاگردبھی ان کے خلاف ہیں۔ تو ان سے جب کوئی اپنےخیال کے مطابق وضوء ،طہارت وغیرہ کرے تو ان دوفتووں کےمطابق امام ابوحنیفہ صاحبؒ اس کے پیچھےنماز نہیں پڑھ سکتے۔ مثلاً امام ابوحنیفہ صاحب ؒ کے نزدیک نکسیرپھوٹنے سے وضوٹوٹ جاتاہے اور امام شافعی ؒکے نزدیک نہیں ٹوٹتا۔ اب امام شافعی ؒ کےنزدیک وضوکیا ، پھرنکسیرپھوٹ گئی۔ چونکہ امام شافعی ؒ کے نزدیک وضوقائم ہےا س لیے وہ بغیرنیاوضوکئے مصلیٰ پرجا کھڑے ہوئے اورنماز شروع کردی اب امام ابوحنیفہ صاحب ؒ فوراً جماعت سے علیحدہ ہوجائیں گے کیونکہ امام ابوحنیفہ صاحب ؒ کے مذہب کے مطابق امام شافعی ؒ بلاوضوء نما ز پڑھارہے ہیں ۔

اسی طرح امام شافعی ؒ کے نزدیک دو2قلہ(دومٹکہ)پانی میں نجاست پڑجائے توجب تک رنگ، بو یا مزہ نہ بدلے پلیدنہیں ہوتا۔ امام ابوحنیفہ صاحب ؒ کے نزدیک پلیدہوجاتاہے ، امام شافعی ؒ نےاس پانی سے وضوء کرکے نماز پڑھانی شروع کردی۔ امام ابوحنیفہ صاحبؒ  کے نزدیک امام شافعی ؒ کا وضوء تو کیا ہونا تھا اس نجس پانی سے سارابدن ہی پلیدہوگیا۔ اس حالت میں امام ابوحنیفہ صاحبؒ امام شافعی ؒ کے پیچھے کس طرح نماز پڑھ سکتے ہیں۔

اسی طرح پانی نہ ملے تو امام ابوحنیفہ صاحب ؒ کےنزدیک کجھوروں کے شربت سے وضو ہوجاتاہے امام شافعی ؒ کے نزدیک نہیں ہوتا۔ اگرامام ابوحنیفہ صاحب ؒ کجھوروں کے شربت سے وضوکرکے نماز پڑھاناچاہیں توامام شافعیؒ ضرورعلیحدہ ہوجائیں گے۔

اسی طرح کتا وغیرہ بسم اللہ پڑھ کرذبح کرنے سے امام ابوحنیفہ صاحب ؒ کے نزدیک پاک ہوجاتاہے تو اگراس کےخون کاقطرہ یا کوئی اورحصہ پانی میں مل جائے اور اس پانی سے وضوکرکے امام ابوحنیفہ صاحب ؒ نما ز پڑھانا چاہیں یا اس کتے کے چمڑے سے سترڈھانک کرنماز پڑھانا چاہیں تو اس صورت میں بھی امام شافعی ؒ صاحب علیحدہ ہوجائیں گے۔

اس قسم کے سینکڑوں اختلافی صورتیں ہیں جوفریقین کی طرف سے مانع امامت ہیں۔ اسی طرح امام ابوحنیفہ صاحب ؒ کے شاگرد آپس میں اور اپنے استادوں سے بہت مسائل میں مختلف ہیں۔ تو ان کی اقتداء بھی آپس میں درست نہ ہوگی۔ مثلاً اگرپیٹ  سے منہ کے راستے سے خون آئے اور جما ہوا نہ ہو تو اس وقت امام محمدؒ شاگرد امام ابوحنیفہ ؒ کہتے ہیں کہ اگرمنہ بھرکر نہ آئے تووضونہیں ٹوٹتا۔ اورامام ابوحنیفہ صاحب ؒ اورامام ابویوسف صاحب ؒ کےنزدیک ٹوٹ جاتاہے۔ اگرایسے موقعہ پرامام محمدؒ امام ہوجائیں تو امام ابوحنیفہ صاحب ؒ اورامام ابویوسف صاحب ؒ کی نماز ان کے پیچھے نہیں ہوسکتی۔

غرض اس طرح کا اختلاف امام ابوحنیفہ صاحب ؒ کا اپنے شاگردوں سے اور دیگرائمہ سے بہت ہے تو اگراہلحدیث کے پیچھے نماز اس لیے نہیں ہوئی کہ ان کے وضو طہارت وغیرہ کے مسائل حنفی مذہب کے مطابق نہیں توامام ابوحنیفہ صاحب ؒ کی کسی بھی امام کے پیچھےنہیں ہوگی۔ بلکہ دوسرے اماموں کی اور امام ابوحنیفہ صاحب ؒ کے شاگردوں کی بھی امام  ابوحنیفہ صاحب ؒ کےپیچھے نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ جو وجہ اُدھرسے ہے وہی وجہ اِدھرسے ہے۔ مثلاً امام ابوحنیفہ صاحب ؒ کہتے ہیں کہ اگرزخم سے خون نکل کرزخم کے منہ پرآجائے اور اِدھراُدھرنہ بہے تووضونہیں ٹوٹتا اور امام محمدصاحب ؒ کہتےہیں ٹوٹ جاتاہے۔ (ملاحظہ ہوردالمختارجلداول ص 100وص 103) تواس وقت امام محمدؒ کی نماز اپنے استادکے پیچھے کیونکرہوگی ؟

ناظرین خیال فرمائیں! کہ کہاں تک نوبت پہنچی ہے۔ حاصل کلام یہ ہواکہ کوئی کسی کے پیچھے نماز نہ پڑھے۔ پس جماعت کا سلسلہ ہی فضول ہے بلکہ مسجدوں میں آنا ہی فضول ہے۔ گھروں میں اپنی اپنی نماز پڑھ لی اور فارغ ہوگئے اورجب ایسا ہوا تو مسجدوں کی بھی ضرورت نہ رہی۔ خواہ مخواہ اللہ کا مال بیکارعمارتوں پرکیوں لگایاجائے۔یہ ہے ایسے فتوؤں کانتیجہ ۔اناللہ واناالیہ راجعون

یہ ٹھہرے ہیں دین کے رہنمااب                      لقب ان کاہے وارث انبیاء اب

تنبیہ :۔اگرمسئلہ اقتداء کی پوری تفصیل اوراس کے پورے وجوہات معلوم کرنے مطلوب ہوں توہماری کتاب تعریف اہلحدیث حصہ دوم ص 92۔93ملاحظہ ہو۔

جولوگ تقلید میں ایسے سرشار ہیں کہ ان کی کسی کے پیچھے نماز ہی نہیں ہوتی۔ بلکہ ان کے پیچھے ہی نماز ہوتی ہے۔ ان کے پیچھے نماز سے پرہیز چاہیے۔ کیونکہ ان کی تقلیدحدشرک تک پہنچ گئی ہے اورمشرک کے پیچھے نماز درست نہیں۔ایسے ہی لوگوں کے متعلق کسی نے استفتاء کیاہے کہ یہ ناجی ہیں یانہیں اور ان کی اقتداء درست ہے یانہیں اوربعض استفتاء بھی کیے ہیں ۔

مفتی فضل عظیم عثمانی بھیروی

اعتراض :

مفتی فضل عظیم عثمانی بھیروی ضلع شاہ پورنے محدث ؒ روپڑی کے رسالہ’’ایک مجلس کی تین طلاق‘‘کاحوالہ دیتے ہوئے لکھاہے :

کہ آپ (محدث ؒ روپڑی) نےایک مجلس کی تین طلاق کے صفحہ 11پرلکھاہے کہ حضرت عمر﷜ نے خلافت کے دو سال بعدتین طلاق کےتین واقعہ ہونے کاجوفیصلہ کیا تھا۔ وہ قضاء ً اورسیاستہ تھا۔ ان کے یہ الفاظ حضرت عمر﷜ اورابن عباس﷜  کے حق میں گوہر افشانی ہے۔ جس سے مجھے حد درجہ یقین ہوگیا کہ نہ آپ کوقرآن کریم سے واسطہ اور نہ رسول کریمﷺ سے تعلق اور نہ بزرگان دین سے محبت۔ اللہ تعالی نے وَكَرَّ‌هَ إِلَيْكُمُ الْكُفْرَ‌ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْيَانَ آیت میں صحابہ  کی تعریف کی ہے۔ اورآپ نے ہردوکوبددیانت بنادیا۔ طلاق کا مسئلہ ہردوکومعلوم نہ ہوا اقتدوابالذین من بعدی ابوبکروعمرہائے تکبرتیراستیاناس۔

جواب:۔حضرت محدث ؒ روپڑی نے جواب میں فرمایا۔کہ آپ کے اس ’’جملہ بددیانت ‘‘سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو فقہ وغیرہ سے بھی مس نہیں۔ مثلاً ہدایہ وغیرہ میں کتاب القاضی کے شروع میں لکھاہے کہ فاسق قاضی بن سکتاہے۔ مفتی نہیں بن سکتا۔ دلیل اس کی یہ دی ہے کہ فتوی اموردین سے ہے فاسق کی خبردیانت میں معتبرنہیں ۔۔۔۔ بتلائیے اس کے مقابلہ میں قضابے دینی اور بددیانتی ہے۔ خدا جانے آپ مفتی کس طرح بن گئے جب ان باتوں کونہیں سمجھتے۔ سنیے ہم آپ کوسمجھائیں۔آپ موقع محل کا لحاظ نہیں رکھتے بھینس اوربھیڑکوایک لکڑی سے ہانکتے ہیں۔ مثلاً علم عربیت میں اسم کےکئی استعمال ہیں۔ ایک فعل اورحرف کے مقابلہ میں ایک صفت کے مقابلہ میں ایک ظرف کےمقابلہ میں اب ہر ایک کو اپنے محل میں نہ رکھاجائے تو مسائل عربیت میں کتنی گڑبڑ ہوگئی۔ ٹھیک اس طرح دیانت کا لفظ ہے کبھی تو یہ عدالت کے مقابلہ میں استعمال ہوتاہے کبھی فسق وفجور کے مقابلہ میں کبھی قضا یا سیاست کے مقابلہ میں۔ اول استعمال کے لحاظ سے بعض اہل بدعت کو بھی متدین کہاگیاہے۔ چنانچہ کتب اسماء الرجال میں یہ استعمال عام طورپرموجود ہے اور دوسرا استعمال عام طورپر زبان زدہے رات دن دنیابولتی ہے۔ تیسرا اس کا یہ مطلب خدا اور بندہ کے درمیانی معاملہ اور اس کے مقابلہ میں قضاء کامطلب یہ ہے کہ بندوں بندوں کامعاملہ

 میں نے حضرت عمر کے تین طلاق جاری کرنے کے متعلق قضا اورسیاست کااستعما ل کیاہے اس کوآپ نے معاذ اللہ بددیانتی اوربے دینی بنالیاہے جوزبان زدعالم ہے اناللہ سچ ہے ۔

وکومن غائب قولا صحیحاوآفتہ من الفہم السقیم

 


فتاویٰ ابن باز

جلد اول

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ