سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(551) عورت کا جانور ذبح کرنا

  • 20200
  • تاریخ اشاعت : 2017-04-09
  • مشاہدات : 187

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
کیا عورت کوئی جانور ذبح کر سکتی ہے،اگر عورت ذبح کرے تو اس جانور کا گوشت کھایا جا سکتا ہے؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا عورت کوئی جانور ذبح کر سکتی ہے،اگر عورت ذبح کرے تو اس جانور کا گوشت کھایا جا سکتا ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

قرآن وحدیث میں عورت کے متعلق کوئی ممانعت نہیں ہے کہ وہ ذبح نہ کرے یا اس کا ذبیحہ ناجائز ہے ،اس لیے عورت ذبح بھی کر سکتی ہے اور عورت کا ذبح کردہ جانور کھایا بھی جا سکتا ہےچنانچہ حضرت کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے عہد مبارک میں ایک عورت  نے پتھر کی دھارسے بکری کو ذبح کردیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  سے اس کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ نے اسے کھانے کا حکم دیا۔[1]

اس حدیث سے دومسائل کا پتہ چلا: (1)ذبح کرنے کے لیے صرف چھری ہی نہیں بلکہ ہر تیز دھار چیز سے ذبح کیا جاسکتا ہے۔(2)عورت ذبح کر سکتی ہے اور اس کا ذبح کیا جانور استعمال کیا جاسکتا ہے(واللہ اعلم)


[1] ۔صحیح بخاری،الوکالہ:2304۔

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد3۔صفحہ نمبر 458

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ