سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(41) اسقاط حمل

  • 23944
  • تاریخ اشاعت : 2017-12-19
  • مشاہدات : 138

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
اسقاط حمل (Abortion)کن حالات میں جائز ہے؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اسقاط حمل (Abortion)کن حالات میں جائز ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اسلامی شریعت کی نظر میں جنین (پیٹ کا بچہ) کی زندگی کی وہی اہمیت و حرمت ہے جوکسی زندہ انسان کی ہے۔ اس لیے اس زندگی کی حفاظت بھی اسی طرح فرض ہے جس طرح زندہ انسان کی زندگی کی حفاظت ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حاملہ عورت رمضان کے مہینے میں روزے توڑسکتی ہے اور اگرجنین کو کسی قسم کاخطرہ ہوتو ایسی صورت میں روزہ رکھنا درست نہیں ہے یہ سب اس لیے تاکہ پیٹ میں نشوونما پانے والے بچے کی زندگی کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچے اسلامی شریعت نے کسی شخص کو حتی کہ خود ماں کو اس بات کا حق نہیں دیا ہے کہ جان بوجھ کر جنین کو نقصان پہنچائے ۔

یہی وجہ ہے کہ زنا کی وجہ سے ٹھہرانے والےحمل کا بھی عورت اسقاط نہیں کراسکتی کیوں کہ اس بچے کی حیثیت بھی ایک زندہ انسان کی سی ہے۔اگریہ حرام کا بچہ ہے تو اس میں اس کا کیا قصور ہے۔

جنین کی اسی حیثیت کی وجہ سے اسلامی شریعت کا یہ قانون ہے کہ موت کی سزا پانے والی عورت اگر حاملہ ہے تو اسے اس وقت تک موت کی سزا نہیں دی جا سکتی جب تک وہ بچے کو جنم نہ دے لے اور اس کے دودھ چھڑانے کی عمر نہ ہو جائے اور یہی وجہ ہے کہ اس شخص پر پوری دیت دینا لازم ہے جو کسی حاملہ عورت کے پیٹ پر ضرب لگائے اور اس کی وجہ سے اس کا بچہ ساقط ہو جائے اور تھوڑی دیر زندہ رہ کر چل بسے۔

علامہ ابن حزم  رحمۃ اللہ علیہ  کہتے ہیں کہ روح پھونکنے کے بعد جنین ایک مکمل انسان تصور کیا جائے گا۔ جنین کی اس حقیقت کی بنیاد پر تمام فقہاء اس بات پر متفق ہیں کہ روح پھونکنے (بچے میں جان پڑنے) کے بعد اسقاط حمل جائز نہیں ہے اور کسی نے جان بوجھ کر ایسا کیا تو اسے قتل میں شمار کیا جائے گا۔

البتہ روح پھونکنے سے قبل اسقاط حمل جائز ہے یا نہیں۔ اس سلسلے میں فقہائے کرام کے درمیان اختلاف ہے۔ بعض فقہائے کرام یہ وقت ضرورت اسقاط حمل  کو جائز قراردیتے ہیں ۔کیوں کہ روح پھونکنے سے قبل جنین محض گوشت اور خون کا بے جان لوتھڑا ہے۔ لیکن وہ علمائے کرام جو"عزل" (مباشرت کے وقت منی کو باہر گرادینے )کو ناجائز قراردیتے ہیں ان کے نزدیک روح پھونکنے سے قبل بھی اسقاط حمل جائز نہیں ہے اور علمائے کرام جو عزل کو جائز قراردیتے ہیں ان کے نزدیک روح پھونکنے سے قبل اسقاط حمل جائز ہے بہ شرطے کہ معتبر اورمستند ڈاکٹروں کی ٹیم طبی بنیادوں پر اسقاط حمل کو ضروری قراردے ۔ عزل کو جائز قراردینے والے بعض علماء ایسے بھی ہیں جو روح پھونکنے سے قبل اسقاط حمل کو جائز نہیں قراردیتے ہیں امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ  کہتے ہیں کہ عزل اور اسقاط حمل میں بہت فرق ہے۔ اسقاط یہ ہے کہ بچے کے وجود میں آنے کے بعد اسے گرادیا جائے جب کہ عزل میں بچے کے وجود کا سرے سے کوئی تصور ہی نہیں ہوتا ہے۔

بعض علمائے کرام کے نزدیک روح پھونکنے سے قبل اسقاط حمل حرام تو نہیں لیکن مکروہ ضرور ہے۔ ان کا مطمح نظر یہ ہے کہ روح پھونکنے سے قبل جنین اگرچہ بے جان لوتھڑا ہے لیکن آخر کبھی نہ کبھی اس میں روح پھونکی جائے گی اور اسےزندگی عطا ہوگی۔

روح پھونکنے اور جان پڑنے کا وقت کون سا ہوتا ہے۔ اس میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے۔ بخاری و مسلم کی وہ مشہور حدیث جسے وہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے حوالے سے روایت کرتے ہیں کے مطابق جنین کے اندر ایک سو بیس دن کے بعد روح پھونکی جاتی ہے لیکن مسلم شریف کی ایک دوسری صحیح حدیث ہے جسے حضرت حذیفہ بن اسید رضی اللہ تعالیٰ عنہ  روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم   کو کہتے ہوئے سنا ہے:

 "إِذَا مَرَّ بِالنُّطْفَةِ ثِنْتَانِ وَأَرْبَعُونَ لَيْلَةً ، بَعَثَ اللهُ إِلَيْهَا مَلَكًا ، فَصَوَّرَهَا ، وَخَلَقَ سَمْعَهَا وَبَصَرَهَا وَجِلْدَهَا وَلَحْمَهَا وَعِظَامَهَا....."

"نطفہ پر جب بیالیس دن گزرجاتے ہیں تو اللہ اس کےپاس ایک فرشتہ بھیجتا ہے اور اس کی صورت گری کرتا ہے۔ اس کے کان آنکھ جلد گوشت اور ہڈیوں کی تخلیق کرتا ہے۔"

یہ ایک لمبی حدیث ہے جو یہ واضح کرتی ہے بیالیس دن گزرنے کے بعد نطفہ ایک انسانی شکل اختیار کر لیتا ہے اور اس کی تقدیر لکھ دی جاتی ہے۔ اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ یہ سب کچھ ہونے کے بعد اس کے وجود کو ختم کرنا گویا اسے قتل کرنا ہے۔ بہ ظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ حدیث جس میں ایک سوبیس دن کے بعد روح پھونکنے کی بات کہی گئی ہے اور وہ حدیث جس میں بیالیس دن کے بعد تخلیق کی بات کہی گئی ہے یہ دونوں حدیثیں آپس میں ٹکرا رہی ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان دونوں میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ ان دونوں کے درمیان تطابق کی صورت علمائے کرام نے یہ بتائی ہے کہ فرشتے دو دفعہ بھیجے جاتے ہیں ایک دفعہ بیالیس دن کے بعد جنین کی تخلیق اوراس کی صورت گری کے لیے اور دوسری دفعہ ایک سو بیس دن کے بعد اس نئی مخلوق میں روح پھونکنے کے لیے دورحاضر کے کے بعض ماہرین طب کہتے ہیں کہ پرانے زمانے کے وہ علمائے کرام جو ایک سو بیس دن سے قبل بہ وقت ضرورت اسقاط حمل کو جائز قراردیتے ہیں وہ دراصل اپنے دور کے مجدد علم کی بنیاد پر ایسا کہتے ہیں اگر انھیں دور جدید کی غیر معمولی سائنسی تحقیقات کا علم ہوتا تو وہ ہرگز ایسا فتوی نہ دیتے حقیقت یہ ہے کہ جدید سائنسی تحقیقات کے مطابق چھ ہفتے بعد ہی نطفہ اس مرحلے میں پہنچ جاتا ہے جس میں اسے انسانی خصائص عطا ہوجاتے ہیں یہی وہ بات ہے جو مسلم شریف کی مذکورہ حدیث میں بیان کی گئی ہے۔

ان دونوں احادیث اور علمائے کرام کی مختلف رایوں کو مد نظر رکھتے ہوئے میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اصولی طور پر اسقاط حمل ناجائز اور حرام ہے۔ لیکن اس حرمت کے کئی درجے ہیں۔

ظاہر ہے کہ حمل کے ابتدائی ایام میں اسقاط حمل کی حرمت اتنی شدید نہیں ہے جتنی اس کی تخلیق شروع ہونے(بیالیس دن گزرنے)کے بعد اس کی حرمت ہے۔ روح پھونکنے کے بعد اسقاط حمل سراسر قتل اور بھیانک جرم ہے۔ صرف انتہائی ناگزیر حالت میں اس کی اجازت دی جا سکتی ہے اور وہ ناگزیر حالت یہ ہے کہ اسقاط نہ کرنے کی صورت میں ماں کی جان خطرے میں پڑجائے۔ جنین کے مقابلے میں ماں کی جان کی زیادہ اہمیت ہے۔ اس لیے بچے کے مقابلے میں  ماں کو بچانا زیادہ ضروری ہے۔

دور حاضر کے بعض علمائے کرام کے نزدیک انتہائی ناگزیر صورت یہ بھی کہ جنین میں کچھ ایسا تخلیقی نقص یعنی پیدائشی عیب پیدا ہو جائے کہ پیدا ہونے کے بعد اس کی زندگی اس کے لیے مصیبت اور عذاب بن کر رہ جائے۔ الٹراساؤنڈ اور بعض دوسرے جدید آلات کے ذریعے پیدائش سے قبل پتہ لگایا جا سکتا ہے کہ بچے میں اس طرح کا نقص پایا جاتا ہے اگر یہ ایسا ہے۔کہ پیدائش کے بعد ساری زندگی بچے کے لیے مصیبت بن کر رہ جائے تو ایسی صورت میں اسقاط حمل جائز ہے لیکن میں ان علمائے کرام کی اس رائے سے متفق نہیں ہوں اس لیے کہ:

(1)جب چار مہینے گزرجائیں تو ان تخلیقی عیوب و نقائص کے باوجود جنین ایک زندہ انسان کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایسی صورت میں اس کا اسقاط اسے قتل کرنے کے مترادف ہے۔

(2)طبی معائنے اور ڈاکٹروں کی اس رپورٹ کے باوجود کہ بچے میں تخلیقی نقص ہے۔بسااوقات بچہ صحیح وسالم پیدا ہوا ہے۔ ایسا ہی ایک کیس میری نظر سے گزرا ہےہوا یہ کہ ایک شخص نے مجھ سے فتوی پوچھا کہ میری بیوی کے پیٹ میں پانچ مہینے کا بچہ ہے اور میڈیکل رپورٹ کے مطابق اس میں تخلیقی نقص ہے۔ کیا ہم اس کا اسقاط کرا سکتے ہیں؟ میں نے انھیں مشورہ دیا کہ اللہ پر بھروسا کریں اور اسقاط  نہ کرائیں ،کچھ دنوں کے بعد میرے پاس ایک کارڈ آیا جو اس نومولود بچے کی طرف سے تھا۔ اس میں لکھا تھا کہ میرے محسن! اللہ کے بعد میں آپ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتا ہوں کہ آپ نے مجھے بچا لیا ورنہ میرے والدین میرا اسقاط کرا کے مجھے پیدائش سے قبل ہی مار ڈالتے۔ اس لیے میری نظر میں طبی معائنے کو حرف آخر سمجھ کر اسقاط کرادینا جائز نہیں ہے۔

(3)اب میڈیکل سائنس نے اتنی ترقی کر لی ہے کہ پیدائش کے بعد آپریشن وغیرہ کے ذریعہ ان تخلیقی عیوب پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

(4)تخلیقی عیوب سے مراد اگر اندھا پن اور بہرہ پن ہے تو یہ ایسے عیوب نہیں ہیں جن کی وجہ سے اسقاط کی اجازت دی جا سکے۔کتنے ہی ایسے اندھے اور بہرےلوگ گزر چکے ہیں جنھوں نے اس پیدائشی نقص کے باوجود کار ہائے نمایاں انجام دیے ہیں اور کامیاب زندگی گزاری ہے۔ اور یہ بات تجربے سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ جسے اندھا یا بہراہ پیدا کرتا ہے اسے اس نقص کے بدلے کوئی دوسری غیر معمولی صلاحیت عطا کر دیتا ہے۔ اس لیے اس طرح کے پیدائشی نقائص کی وجہ سے اسقاط کرانا میری نظر میں جائز نہیں ہے۔

مختصر یہ کہ میری نظر میں صرف ایک ہی ایسی صورت ہے جس میں اسقاط کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ وہ یہ کہ اسقاط نہ کرایا گیا تو ماں کی جان کو خطرہ لاحق ہو جائے۔ ایسی صورت میں ماں کی جان بچانے کے لیے حمل کو ساقط کرایا جا سکتا ہے کیوں کہ ماں کی جان بہر حال بچے کی جان سے زیادہ اہم ہے(واللہ اعلم بالصواب)

  ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاوی یوسف القرضاوی

طبی مسائل،جلد:2،صفحہ:263

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ