سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(519) لفظ "حنان" کی حیثیت؟

  • 20782
  • تاریخ اشاعت : 2017-05-17
  • مشاہدات : 1261

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہمارے ہاں عام طور پر یا حنّان ، یا منّان پکار کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی جاتی ہے جبکہ کچھ اہل علم کہتے ہیں کہ حنان کا نام اسمائے حسنیٰ سے نہیں ہے، قرآن مجید و حدیث کی روشنی میں اس کی وضاحت درکار ہے ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

عربی زبان میں لفظ حنان دو طرح سے استعمال ہوتا ہے ایک تخفیف کے ساتھ یعنی شدّ کے بغیر بطور مصدر مستعمل ہے جس کا معنی رحمت و شفقت ہے ، ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’﴿وَ حَنَانًا مِّن لَّدُنَّا وَ زَکَاۃً﴾[1] ’’ ہم نے یحییٰ کو اپنی طرف سے رحمت و شفقت اور پاکیزگی عطا کی فرمائی ہے۔‘‘

اس آیت کریمہ میں حنان اللہ تعالیٰ کی صفت کے طور پر واقع ہوا ہے، حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل جہنم پر ’’ یتحسن‘‘ اپنی رحمت سےشفقت فرمائے گا۔[2]

دوسرا لفظ حنان شد کے ساتھ بطور نام استعمال ہوتا ہے ، اس کا معنی شفقت کرنے والا ہے، کچھ اہل علم نے اس لفظ کو اسمائے حسنیٰ میں شمار کیا ہے جبکہ محققین اہل علم کے نزدیک یہ اللہ تعالیٰ کا نام نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ناک توفقیفی ہیں یعنی جو نام اللہ تعالی کی کتاب میں ہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نشاندہی کی ہے انہیں اسماء حسنیٰ کا درجہ دیا جا سکتا ہے، اللہ تعالیٰ کی کسی صفت کے پیش نظر کسی لفظ کو اسماء حسنیٰ قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ یہی وجہ ہے کہ امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے امام مالک رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کیا ہے کہ وہ یا حنّان یا حنَان کے الفاظ سے دعا کرنے کو مکروہ خیال کرتے تھے ۔[3]

البتہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک حلقہ میں تھا جبکہ ایک آدمی نماز پڑھ رہا تھا ، اس نے تشہد کے دوران میں یہ دعا پڑھی : ’’ اللھم إني اسئلک بان لک الحمد لا الہ الا انت الحنان‘‘

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کلمات سن کر فرمایا کہ اس کی دعا ضرور قبول ہو گی ۔[4]

اس حدیث میں لفظ حنّان بطور اسم حسنیٰ استعمال ہوا ہے اور یہ روایت مسند امام احمد کے دیگر مقامات کے علاوہ ابو داؤد اور ابن ماجہ میں بھی ہے لیکن کسی مقام میں یہ لفظ نہیں آیا، اس بناء پر ہمارا رجحان یہ ہے کہ اس لفظ کے متعلق توقف اختیار کیا جائے، اگر استعمال کرنا ہو تو یا ذالحنّان کہہ دیا جائے۔ ( واللہ اعلم)


[1] مریم : ۱۳۔

[2] مسند احمد ص ۱۱ ج۳۔

[3] فتاویٰ ابن تیمیه ص ۷۸۵ج ۱۰۔

[4] مسند امام احمد ص ۱۵۸ ج۳۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد4۔ صفحہ نمبر:452

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ