سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(19) ایک رات میں قرآن ختم کرنا

  • 20835
  • تاریخ اشاعت : 2017-05-21
  • مشاہدات : 602

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا ایک رات میں قیام کےاندر قرآن ختم کرنا شرعا درست ہے؟اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کا کیا معمول تھا؟صحیح احادیث کی رو سے وضاحت فرمائیں۔(محمد افضل،مریدکے)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کی صحیح احادیث کی رو سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے کبھی بھی ایک رات میں قرآن حکیم ختم نہیں کیابلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی قراءت مختلف اوقات میں مختلف ہوتی تھی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کبھی زیادہ قرآن پڑھتے اورکبھی کم۔چند ایک احادیث ملاحظہ ہوں۔

1۔حذیفہ بن یمان  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے مروی ہے کہ:

"عن حذيفة قال صليت مع النبي صلى الله عليه وسلم ذات ليلة فافتتح البقرة فقلت يركع عند المائة ثم مضى فقلت يصلي بها في ركعة فمضى فقلت يركع بها ثم افتتح النساء فقرأها ثم افتتح آل عمران فقرأها - ص 537 - يقرأ مترسلا إذا مر بآية فيها تسبيح سبح وإذا مر بسؤال سأل وإذا مر بتعوذ تعوذ ثم ركع"

(صحیح مسلم کتاب صلوٰۃ المسافرین (772) نسائی 3/226 مسند احمد 5/382 ابن ماجہ (897) ابوداود (871) شرح السنہ 4/20)

"میں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھ نماز پڑھی ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے سورہ بقرہ شروع کی۔میں نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم  سو آیت پر رکوع کریں گے۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم  جاری رہے میں نے سوچا یہ سورت ایک رکعت میں پڑھیں گے،مگر  آپ جاری رہے۔میں نے کہا شاید یہ پڑھ کر رکوع کریں گے۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے سورہ نساء شروع کی،اسےپڑھا۔پھر آل عمران شروع کردی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے اسے پڑھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم  ٹھہر ٹھہر کر تلاوت کرتے جب ایسی آیت کے پاس سے  گزرتے جس میں تسبیح کا ذکر ہوتا تو آپ تسبیح کرتے اور جب سوال والی آیت کے پاس سے گزرتے تو سوال کرتے اور جب پناہ والی آیت کے پاس سے گزرتے تو پناہ پکڑتے۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے رکوع کیا۔"

2۔حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے روایت ہے کہ:

"صَلَّيْتُ مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فَأَطَالَ حتى هَمَمْتُ بِأَمْرِ سَوْءٍ، قِيلَ: وما هَمَمْتَ بِهِ؟ قال: هَمَمْتُ أَنْ أَجْلِسَ وَأَدَعَهُ"

(صحیح مسلم کتاب المسافرین 1/537(773)

"میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھ نماز پڑھی آپ نے قراءت لمبی کر دی۔یہاں تک کہ میں نے غلط معاملے کاارادہ کرلیا۔آپ سے کہا گیا:آپ نے کیا ارادہ کیا:کہنے لگے۔میں نے ارادہ کیا کہ بیٹھ جاؤں  اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کو چھوڑ دوں۔"

3۔حضرت عائشہ صدیقہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا   فرماتی ہیں:

"وَلَا أَعْلَمُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ الْقُرْآنَ كُلَّهُ فِي لَيْلَةٍ"

(مسلم کتاب الصلوٰۃ المسافرین (139) المغنی لابن قدامہ 2/612)

"میں نہیں جانتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ایک  رات میں پورا قرآن پڑھا ہو۔"

4۔عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

"قال اقرأ القرآن في شهر قلت إني أجد قوة، حتى قال فاقرأه في سبع ولا تزد على ذلك"

(بخاری مع الفتح 9/95 کتاب فضائل القرآن :باب فی کم یقرء القرآن؟مسلم کتاب الصیام (1159) باب النھی عن صوم الدھر)

"ایک مہینے میں قرآن پڑھ،میں نے کہا:میں(اس سے کم وقت میں پڑھنے کی) قوت پاتا ہوں یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:سات دنوں میں پڑھ اور اس سے زیادہ نہ کر۔"

اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے انہیں مزید رخصت دیتے ہوئے فرمایا:

"لم يفقه من قرأ القرآن في أقل من ثلاث"

(ابوداود کتاب الصلوٰۃ باب تحزیب القرآن(1394) ترمذی مع تحفۃ الاحوذی 4/63)

"جس نے تین دن سے کم میں قرآن پڑھا اس نے اسے نہیں سمجھا۔"

5۔اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  خود بھی تین دنوں سے کم میں قرآن ختم نہیں کرتے تھے:

(كانَ صلي الله عليه وسلم لا يَقْرَأُ القرآنَ في أقلّ من ثلاثٍ)

(ابن سعد ١/٣٧٦ كتاب اخلاق النبی صلی اللہ علیہ وسلم لابی شیخ(281) بحوالہ صفۃ صلاۃ النبی للشیخ الالبانی /120)

"نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  تین دن سے کم میں قرآن نہیں پڑھتے تھے۔"

6۔سنن سعید بن منصور میں بسند صحیح عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا:

"اقرءوا القرآن في سبع ولا تقرءوه في أقل من ثلاث"(فتح الباری 9/97)

"قرآن مجید کو سات دنوں میں پڑھو اور تین سے کم میں نہ پڑھو۔"

مذکورہ بالا احادیث صحیحہ سے معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  ایک رات میں قرآن مجید ختم نہیں کرتےتھے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم  تین راتوں سے کم میں قرآن مکمل نہیں کرتے تھے۔اور عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کو بھی فرمایا کہ جس نے تین دن سے کم میں قرآن پڑھا اس نے اسے سمجھا نہیں۔لہذا مختار مذہب یہی ہے کہ تین دنوں سے کم میں قرآن نہ پڑھاجائے ۔فتح الباری میں ہے کہ:

"وهذا اختيار أحمد وأبي عبيد وإسحاق بن راهويه وغيرهم"

(9/97)

"یہ مذہب امام احمد،امام ابوعبید اور امام اسحاق بن راہویہ  رحمۃ اللہ علیہ  وغیرہ نے اختیار کیا ہے۔"

مولانا عبدالرحمٰن مبارک پوری  رحمۃ اللہ علیہ  تحفۃ الاحوذی 4/63 میں رقم طراز ہیں:

وَالْمُخْتَارُ عِنْدِي مَا ذَهَبَ إِلَيْهِ الْإِمَامُ أَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ بْنُ رَاهْوَيْهِ وَغَيْرُهُمَا وَاَللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ "

"میرے نزدیک مختار مذہب وہ ہے جسے امام احمد اور امام اسحاق بن راہویہ وغیرہما نے اختیار کیا ہے۔"

سلف صالحین  رحمۃ اللہ علیہ  میں سے کئی افراد سے تین دنوں سے کم میں قرآن پڑھنے کا ذکر کتب احادیث میں ملتا ہے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کاعمل اور حکم سب پر فائق ہےممکن ہے ان اسلاف کو یہ معلوم نہ ہو۔

اس لیے  ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کے اسوہ کو سامنے رکھنا چاہیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  سے بہتر عمل کسی کا نہیں ہوسکتا ہے۔اس لیے ہمارے نزدیک راجح بات یہی ہے کہ قرآن مجید کو تین دنوں سے کم میں نہ ختم کیاجائے۔(مجلۃ الدعوۃ جون 1988ء)

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

آپ کے مسائل اور ان کا حل

جلد2۔كتاب الصلاة۔صفحہ نمبر 157

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ