سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(04) ڈاکٹر ذاکر نائیک کے بارے آپ کی کیا رائے ہے؟

  • 524
  • تاریخ اشاعت : 2012-04-18
  • مشاہدات : 4361

سوال

 

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ڈاکٹر ذاکر نائیک کی اس ویڈیو کی روشنی میں ان سوالوں کےجوابات عنایت فرمائیں۔

1۔ہمیں منطق کا استعمال مذہب کو سمجھانے کےلیےکرنا چاہیے؟

2۔کیا اللہ تعالیٰ ایک ہی وقت میں ایک آدمی موٹااور پتلا تخلیق نہیں دے سکتے ؟

3۔کیا اللہ تعالیٰ ایک ہی وقت میں ہزار باتیں نہیں کرسکتے۔

ازراہ کرم کتاب وسنت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔جزاکم اللہ خیرا


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

1۔ دین اسلام ہمیں دین کو سمجھنے کے لیے عقل ومنطق کے استعمال سے منع نہیں فرماتا لیکن عقل ومنطق سے مراد یونانی عقل ومنطق نہیں بلکہ جسے ہم عرف عام میں عقل عام یا کامن سینس کہتے ہیں‘ وہ مراد ہے۔ اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں بار بار اپنے بندوں کو اس کائنات اور آفاق و انفس میں غور وفکر کی دعوت دی ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ اور اس کے دین کی معرفت میں عقل کا استعمال بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اور منطق بھی در اصل عقل ہی کے استعمال کا ایک خاص طریق کار ہے۔ہمارے ہاں اصول کے علوم میں اصول حدیث اور اصول فقہ کی کئی ایک اصطلاحات ایسی ہیں جو منطق پر مبنی ہیں جیسا کہ خبر متواتر اور خبر آحاد کی بحث یا اقتضائے نص کی بحث وغیرہ۔

2۔ یہ کہنا درست نہیں ہے لہذا ڈاکٹر ذاکر نائیک کا یہ جملہ غلط فہمی پر مبنی ہے۔

ایسے سوالات کہ جن میں یہ پوچھا جائے کہ اللہ تعالیٰ کیا ایک ہی وقت میں موٹا اور پتلا آدمی بنا سکتے ہیں یا ایک ہی وقت میں چھوٹا اور لمبا آدمی بنا سکتے ہیں یا ایسا پتھر بنا سکتے ہیں کہ جس کو خود بھی نہ اٹھا سکتے ہوں تو ایسے تمام سوالات ہی شرعا ًوعقلاً ہی غلط ہیں چہ جائیکہ ان کا جواب دیا جائے۔ کسی سوال کے درست جواب کے لیے یہ پہلی شرط ہے کہ سوال درست ہو۔ جب سوال ہی درست نہ ہو گا اور غلط فہمیوں کا مجموعہ ہو گا تو اس کا جواب بھی درست نہ ہو گا۔ ڈاکٹر ذاکر نائیک صاحب کی غلطی یہ ہے کہ وہ اس سوال کے گنجلک پن کو سمجھ نہ سکے اور انھوں نے اس کا جواب دینے کی کوشش کی ہے اور اس میں غلطی کی۔

پس ایسے سوالات کا صحیح جواب یہ ہے کہ یہ سوالات عقلاً وشرعاً درست نہیں ہیں، یعنی غلط ہیں۔ عقلاً تو اس لیے کہ یہ اجتماع نقیضین ہے اور اجتماع نقیضین ممتنع ہے۔ پس جب سوال کی عبارت ہی ممتنع قرار پائی تو سوال کیسے درست ہو سکتا ہے۔ جہاں تک شرع کا تعلق ہے تو شرع میں ذات باری تعالی کے حوالہ سے ایسے سوالات کو پسند نہیں کیا گیا ہے اور بعض روایات میں ایسے سوالات کو شیطان کے وساوس قرار دیا گیا ہے۔امام مالک رحمہ اللہ نے استوا علی العرش کے بارے ایک ایسے ہی سوال کو بدعت قرار دیا تھا۔

3۔ دوسرے سوال میں اس کا جواب گزر چکا ہے۔

4۔ یہ سوال سمجھ نہیں آیا۔ اس کو وضاحت سے درج کر دیں۔ صرف ویڈیو لنک نقل کرنے پر انحصار نہ کریں ۔ اہل علم کے پاس اس قدر وقت نہیں ہوتا کہ وہ ویڈیوز ان کے سیاق وسباق کے ساتھ دیکھ پائیں۔ پس آپ اس ویڈیو کلپ کو اس کے سیاق وسباق کی تقریر کے ساتھ رکھتے ہوئے اپنا سوال نقل کریں۔

وباللہ التوفیق

 

فتاویٰ ابن باز

جلد اول

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ