سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(24) عورتیں اور حصول تعلیم

  • 22090
  • تاریخ اشاعت : 2017-08-27
  • مشاہدات : 649

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین کے  لیے  ایک دن مقرر فرما  رکھا تھا تاکہ وہ اپنے دینی امور سے آگاہی حاصل کر سکیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو مردوں سے پیچھے رہتے ہوئے مساجد میں حصول تعلیم کے  لیے  حاضر ہونے کی اجازت بھی دے رکھی تھی۔ تو  اب حضرات علماء کرام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں ایسا کیوں نہیں کرتے؟ اگرچہ علماء نے اس بارے میں کچھ کارگذاری دکھائی ہے مگر وہ ناکافی ہے اور مزید کچھ کرنے کی ضرورت ہے جس کا ہمیں انتظار ہے۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس میں کوئی شک نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا عمل اپنایا اور الحمدللہ علماء کا بھی یہی معمول رہا ہے۔ خود میں نے بھی کئی بار نہ صرف یہاں بلکہ مکہ مکرمہ، طائف اور جدہ میں بھی اس پر عمل کیا ہے۔ اگر مجھے دعوت دی جائے تو میں کسی بھی جگہ خواتین کے  لیے  کچھ وقت مخصوص کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں پاتا۔ میرے دیگر ساتھی علماء کا بھی یہی موقف ہے۔

ریڈیو پروگرام (نور علی الدرب) کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے خیر کثیر کے دروازے کھول دئیے ہیں کسی بھی خاتون کے  لیے  اس پروگرام میں سوالات ارسال کرنا اور ان کے جوابات حاصل کرنا ممکن ہے۔ یہ پروگرام ریڈیو نداء الاسلام (مکہ مکرمہ) اور ریڈیو قرآن کریم (ریاض) سے ہر رات دو بار نشر کیا جاتا ہے۔ اسی طرح خواتین براہ راست دارالافتاء کو بھی سوالات ارسال کر سکتی ہیں جس میں علماء کی ایک کمیٹی سوالات کے جوابات دیتی ہے۔ یہ کمیٹی صرف اسی مقصد کے  لیے  تشکیل دی گئی ہے۔ بہرحال حصول علم کے  لیے  مردوں اور عورتوں کو برابر حقوق حاصل ہیں۔ اگر کوئی عورت باپردہ ہو کر زیب و زینت کے بغیر علماء کا   خطاب سننے کے  لیے  جانا چاہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ شیخ ابن باز

ھٰذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ برائے خواتین

علم،صفحہ:65

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ