سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(24) عورتیں اور حصول تعلیم

  • 22090
  • تاریخ اشاعت : 2017-08-27
  • مشاہدات : 190

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین کے لئے ایک دن مقرر فرما رکھا تھا تاکہ وہ اپنے دینی امور سے آگاہی حاصل کر سکیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو مردوں سے پیچھے رہتے ہوئے مساجد میں حصول تعلیم کے لئے حاضر ہونے کی اجازت بھی دے رکھی تھی۔ تو اب حضرات علماء کرام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں ایسا کیوں نہیں کرتے؟ اگرچہ علماء نے اس بارے میں کچھ کارگذاری دکھائی ہے مگر وہ ناکافی ہے اور مزید کچھ کرنے کی ضرورت ہے جس کا ہمیں انتظار ہے۔

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین کے لئے ایک دن مقرر فرما رکھا تھا تاکہ وہ اپنے دینی امور سے آگاہی حاصل کر سکیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو مردوں سے پیچھے رہتے ہوئے مساجد میں حصول تعلیم کے لئے حاضر ہونے کی اجازت بھی دے رکھی تھی۔ تو اب حضرات علماء کرام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں ایسا کیوں نہیں کرتے؟ اگرچہ علماء نے اس بارے میں کچھ کارگذاری دکھائی ہے مگر وہ ناکافی ہے اور مزید کچھ کرنے کی ضرورت ہے جس کا ہمیں انتظار ہے۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس میں کوئی شک نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا عمل اپنایا اور الحمدللہ علماء کا بھی یہی معمول رہا ہے۔ خود میں نے بھی کئی بار نہ صرف یہاں بلکہ مکہ مکرمہ، طائف اور جدہ میں بھی اس پر عمل کیا ہے۔ اگر مجھے دعوت دی جائے تو میں کسی بھی جگہ خواتین کے لئے کچھ وقت مخصوص کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں پاتا۔ میرے دیگر ساتھی علماء کا بھی یہی موقف ہے۔

ریڈیو پروگرام (نور علی الدرب) کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے خیر کثیر کے دروازے کھول دئیے ہیں کسی بھی خاتون کے لئے اس پروگرام میں سوالات ارسال کرنا اور ان کے جوابات حاصل کرنا ممکن ہے۔ یہ پروگرام ریڈیو نداء الاسلام (مکہ مکرمہ) اور ریڈیو قرآن کریم (ریاض) سے ہر رات دو بار نشر کیا جاتا ہے۔ اسی طرح خواتین براہ راست دارالافتاء کو بھی سوالات ارسال کر سکتی ہیں جس میں علماء کی ایک کمیٹی سوالات کے جوابات دیتی ہے۔ یہ کمیٹی صرف اسی مقصد کے لئے تشکیل دی گئی ہے۔ بہرحال حصول علم کے لئے مردوں اور عورتوں کو برابر حقوق حاصل ہیں۔ اگر کوئی عورت باپردہ ہو کر زیب و زینت کے بغیر علماء کا کطاب سننے کے لئے جانا چاہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔

 ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ برائے خواتین

علم،صفحہ:65

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ