سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(144) قرآن پاک کی تلاوت کا اجر و ثواب

  • 12102
  • تاریخ اشاعت : 2014-05-27
  • مشاہدات : 1835

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

قرآن پاک کی تلاو ت باعث اجرو ثواب ہے ۔رمضان المبارک میں اس کی تلاوت  کا ثواب کئی گنابڑھ جاتا ہے۔

ہمارے ہاں ایک کتابچہ اس حوالہ سے تقسیم کیا جاتا ہے جس کا عنوان ہے ‘‘صرف ۹ منٹ میں ۹ قرآن پاک اور ایک ہزار آیات پڑھنے کا ثواب مل سکتا ہے۔’’ اس میں احادیث کے حوالہ جات بھی موجود ہیں حقیقت حال سے آگاہ فرمائیں؟


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

قرآن پاک کی تلاو ت باعث اجرو ثواب ہے ۔رمضان المبارک میں اس کی تلاوت  کا ثواب کئی گنابڑھ جاتا ہے۔

ہمارے ہاں ایک کتابچہ اس حوالہ سے تقسیم کیا جاتا ہے جس کا عنوان ہے ‘‘صرف ۹ منٹ میں ۹ قرآن پاک اور ایک ہزار آیات پڑھنے کا ثواب مل سکتا ہے۔’’ اس میں احادیث کے حوالہ جات بھی موجود ہیں حقیقت حال سے آگاہ فرمائیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

احادیث میں بعض سورتوں اور آیات کی فضیلت کے پیش نظر سوال میں مذکورہ اعداد وشمار کو کافی خیال کرلیا گیا ہے،مثلاً:سورۂ اخلاص کو رسول اللہﷺ نے ایک تہائی قرآن پاک کے برابر قرار دیا ہے۔ (صحیح بخاری،فضائل القران:۵۰۱۳)

محدثین کرام نے اس کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ قرآن کریم احکام ،اخبار اور توحید کے بیان پر مشتمل ہے  چونکہ اس میں توحید خالص بیان کی گئی ہے ، اس لئے اسے ثلث قرآن کے مساوی قرار دیا گیا ہے،اگرچہ بعض حضرات نے اس کی قراءت کے ثواب کو ایک تہائی قرآن پاک پڑھنے کے ثواب کے برابر بتایا ہے۔ (فتح الباری،ص:۷۷،ج۹)

لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ انسان سوال میں ذکر کردہ اعداد و شمار کی جمع تفریق میں لگارہے اور قرآن کریم کی تلاوت کو نظر انداز کردے۔ جیساکہ حدیث میں ہےکہ اگر کوئی رمضان المبارک میں عمرہ کرتا ہے تو اسے حج کےبرابر ثواب ملتا ہے۔ اس کا مطلب فریضہ حج سے صرف نظر کرنا قطعاً نہیں ہے بعض سورتوں کےفضائل احادیث میں مروی ہیں لیکن وہ احادیث محدثین  کے معیار صحت پر پوری نہیں اترتیں، جیسا کہ سورۃ الزلزال کےمتعلق ہےکہ وہ نصٖف قرآن پاک اور سورۃ الکافرون ربع قرآن کے مساوی ہے لیکن اس کی سند میں یمان  بن مغیرہ نامی راوی ضعیف ہے،نیز بعض احادیث میں ہے کہ سورۃ النصر ربع قرآن اور آیت الکرسی بھی ربع قرآن کے برابر ہے لیکن ا س کی سند میں ایک راوی سلمہ بن وردان ضعیف ہے، جیسا کہ محدثین کرام نے اس کی وضاحت کی ہے۔ (فتح الباری،ص:۷۸،ج۹)

مذکورہ کتابچہ میں بعض احادیث مسند ویلمی کے حوالہ سے بیان کی گئی ہیں ۔محدثین کرام کے فیصلے کےمطابق اس کتاب کی بیشتر احادیث موضوعہ اور خودساختہ ہیں۔

بہرحال سورۂ اخلاص کی فضیلت صحیح احادیث سے ثابت ہے لیکن کسی صحیح حدیث سے یہ ثابت نہیں ہے کہ رسول اللہﷺ یا دیگر صحابہ کرام ؓ نے قرآن کریم کی تلاوت کو نظر انداز کرکے صرف سورۂ اخلاص کو تین مرتبہ پڑھنے کا کافی سمجھ لیا ہو،عام مشہور ہے کہ برگد کے دودھ میں والدہ کے دودھ کی تاثیر ہوتی ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ بچے کو والدہ کا دودھ نہ پلایا جائے ،صرف برگد کے دودھ پر اکتفا کرلیا جائے۔ اسی طرح قرآنی آیات سورتوں کی فضیلت اپنی جگہ درست ہے لیکن اعدادوشمار کےپیش نظر صرف انہیں پڑھتا رہے اور قرآن کریم کی تلاوت نہ کرے یہ کسی صورت میں صحیح نہیں ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

 

فتاوی اصحاب الحدیث

جلد:2 صفحہ:182

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ