سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(366) عورتوں کا قبروں کی زیارت کرنا

  • 1822
  • تاریخ اشاعت : 2012-08-27
  • مشاہدات : 1104

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

قبر کی زیارت کے لیے مردوں اور عورتوں کے لیے کیا حکم ہے۔ کئی مولوی حضرات کہتے ہیں کہ پہلے نبی کریمﷺنے منع فرمایا تھا اور بعد میں رخصت دے دی۔ اور اس کی ہم نے تحقیق کی تو دونوں طرح کی احادیث موجود تھیں۔ مشکوٰۃ شریف میں اور ایک سنن ابوداود کی حدیث پڑھی جس پر لکھا ہوا تھا کہ (لعنت ہو ان عورتوں پر جو قبروں کی زیارت کرتی ہیں اور چراغاں کرنے والے پر اور مجاور بننے والے پر) تو اس سے ذہن الجھ گیا اب آپ مہربانی کر کے ذرا وضاحت سے تحریر سمجھا دیں۔ نوازش ہو گی؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ بات درست ہے کہ رسول اللہﷺنے پہلے پہل زیارت قبور سے منع فرما دیا تھا بعد میں آپﷺ نے اجازت دے دی۔(ترمذی۔الجلدالاول۔ابواب الجنائز۔باب ماجاء فی الرخصۃ فی زیارۃ القبور) اور اس اجازت میں مرد وعورت دونوں شامل ہیں مگر شرط یہ ہے کہ محض زیارت قبور کی خاطر شدر حال نہ ہو اور عورت بکثرت زیارت نہ کرے کیونکہ حدیث میں ہے : «لاَ تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلاَّ إِلٰی ثَلاَثَةِ مَسَاجِدَ»بخارى-كتاب فضل الصلاة فى مسجد مكة,المدية باب فضل الصلاة فى مسجدمكة والمدينة الخ ’’نہ سامان سفر باندھا جائے مگر تین مسجدوں کی طرف‘‘ اور ترمذی شریف میں ہے«لَعَنَ رَسُوْلُ اﷲِ ﷺ زَوَّارَاتِ الْقُبُوْرَ»تحفه3/156 ’’رسول اللہﷺ نے ایسی عورتوں پر لعنت کی جو بکثرت زیارت قبور کریں‘‘ مزید تفصیل کے لیے شیخ البانی حفظہ اللہ کی کتاب احکام الجنائز کا مطالعہ فرمائیں ۔ خصوصاً صفحہ ۱۷۸ تا ۱۸۷۔

وباللہ التوفیق

احکام و مسائل

جنازے کے مسائل ج1ص 266

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ