سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں

علاج ومعالجہ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین:9945
  • اس ہفتے کے قارئین:102578
  • اس ماہ کے قارئین:227925
  • کل قارئین:33472978
کل فتاوی:379
15170

(41) نفسیاتی بیماری اور دین

11-04-2016
16988

(388)شکوک اور وساوس شیطان کی طرف سے ہوتے ہیں

13-07-2016
7741

(17) ایک شخص کو نفسیاتی مرض لاحق ہوگیا...الخ

07-11-2013
11021

(644) نفسیاتی بیماری اور دین

08-04-2014
26875

جب بھی کسی سہیلی کی شادی ہوتی ہے تو اسے اپنی شادی دیر سے ہونے کی فکر کھا جاتی ہے۔

02-11-2024
26886

كئى برس تك اپنے والد كے پاس قليل سى تنخواہ پر كام كيا اور اب عليحدہ ہو كر اپنا كام كرنا والد سے قطع رحمى تو نہيں كہلائيگى

02-11-2024
27012

لڑكى كے ولى نے بار بار رشتہ آنے پر انكار كر ديا تو كيا لڑكى خود ہى اپنا نكاح كر لے

22-11-2024
27037

گھر والوں نے لڑكى كى كاغذى شادى كر دى تا كہ خاوند رہائش پرمٹ اور نيشنلٹى حاصل كر سكے

23-11-2024
27038

گھر والوں نے لڑكى كى كاغذى شادى كر دى تا كہ خاوند رہائش پرمٹ اور نيشنلٹى حاصل كر سكے

23-11-2024
27042

چچا كے بيٹے سے محبت كرتى ہے اور والد اس سے شادى كرنے سے اس ليے انكار كرتا ہے كہ وہ شادى شدہ ہےميرى عمر سولہ برس ہے ميں نے اپنى تعليم ختم كر كے اپنى والدہ سے گھريلو كام كاج اور خاوند كے متعلقہ امور سيكھنا شروع كر ديے ہيں، يہ ميرے ارادہ سے ہى ہوا كسى نے مجھ پر جبر نہيں كيا. ميرا ايك چچازاد ہے جس كى عمر بتيس برس ہے اور وہ شادى شدہ بھى ہے، اس كا اخلاق بھى اچھا ہے اور ديندار بھى ہے اور مالى حالت بھى اچھى ہے، ميں اس سے جنون كى حد تك محبت كرتى ہوں، اور كسى دوسرى كے ليے اس سے محبت كرنے كو مباح نہيں كرتى. ميرے چچا كے بيٹے نے دوسرى شادى كرنا چاہى اور ميرا نصيب كہ اس نے سب لڑكيوں ميں مجھے ہى اختيار كيا، اور اس وقت ميرى محبت كے بارہ ميں جانا ميں نے سب كو كہہ ديا كہ ميں اس سے محبت كرتى ہوں اور اس كى دوسرى بيوى بننے پر موافق ہوں. اور حقيقتا اس نے آ كر ميرے والد سے ميرا رشتہ طلب كيا ليكن ميرے والد نے انكار كر ديا، اور مجھے كہنےلگے: ميں آپ كى شادى كسى شادى شدہ مرد سے نہيں كرونگا، تم ابھى چھوٹى عمر كى ہو اور اپنى مصلحت كو نہيں پہچانتى، ميرے چچا كے بيٹے نے ابھى اس كو تسليم نہيں كيا اور ابھى تك وہ ميرے ساتھ شادى كرنے پر اصرار كر رہا ہے، ليكن پہلے كى طرح وہ ہمارے گھر نہيں آتا، تا كہ كوئى فضول بات نہ ہو اور مجھے اور باقى سب كو تنگى كا سامنا نہ كرنا پڑے، ليكن وہ عادت كے مطابق گھر ميں آتا اور ڈرائنگ روم ميں ميرے دادا اور چچاؤں كے ساتھ بيٹھتا ہے. يہاں يہ بات قابل ذكر ہے كہ ميں اسے روزانہ ديكھتى ہوں ليكن وہ مجھ سے بات نہيں كرتا، ميں دين پر عمل كرنے والى ہوں اور جانتى ہوں كہ ايك بالغ شخص اللہ كے سامنے اپنے اعمال كا جواب دينے والا ہے اور ہر چيز كا محاسبہ ہونا ہے، اور ميرے والد كو يہ حق نہيں كہ وہ اس چيز كو حرام كرے جسے اللہ نے حلال كيا ہے. حديث ميں ہے: " جب تمہارے پاس ايسا شخص آئے جس كے دين اور اخلاق كو تم پسند كرتے ہو تو تم اس كے ساتھ ( اپنى لڑكى كا ) نكاح كر دو، اگر ايسا نہيں كرو گے تو زمين ميں بہت زيادہ فتنہ و فساد بپا ہو گا " برائے مہربانى آپ اس كا جواب ديں اور كوئى نصيحت كريں كہ ميں اپنےوالد كى نافرمانى كيے بغير كيا كروں، اور ميرا چچا زاد بيٹا كيا كرے ؟

23-11-2024