سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(347) امام بخاریو مسلم ۔ ترمزی۔ نسائی۔ دارمی۔ ابن ماجہ مقلد تھے؟

  • 5990
  • تاریخ اشاعت : 2013-07-28
  • مشاہدات : 1871

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کتاب حنفیاں میں لکھا ہے۔ کہ امام بخاریو مسلم ۔ ترمزی۔ نسائی۔ دارمی۔ ابن ماجہ وغیرہ امام شافعی کے مقلد تھے۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

امام بخاری وغیرہ سب اہل حدیث تھے۔ جو انھیں شافعی کا مقلد کہتا ہے اس نے کتابیں نہیں پڑھی ہوں گی۔ یہ تو کئی جگہ امام شافعی کی تردید بھی کرتے ہیں۔ (21 اپریل 16ء؁)

تشریح

امام بخاری کا مجتہد ہونا اور امام شافعی کا مقلد نہ ہونا اس طور پر ثابت ہے کہ صحیح بخاری میں امام شافعی سے آپ نے کچھ اخذ نہیں کیا۔ صر ف ایک جگہ بلفظ ابن ادریس ان کا نام تو لیا ہے۔ مگر نہ ان سے کوئی حدیث لی ہے۔ اور نہ کوئی کسی اجتہادی مسئلہ میں ان کی پیوری ہے۔ اور نہ کسی جگہ میں ان کا نام لے کر کسی مسئلہ میں ان کی تسیئد کی ہے پس اس سے ثابت ہوا کہ وہ امام شافعی کو لائق اتباع وباخذ روایت نہیں سمجھتے تھے۔ اگرایسا سمجھتے تو ان کی روایت کو ترک نہ کرتے۔ پس باوجود ثقہ ہونے امام شافعی کے ان سے امام بخاری نے کوئی حدیث روایت  نہیں کی۔ تو پھر وہ امام شافعی کو اپنا امام کعب سمجھ سکتے  تھے۔ اور ان کی  تقلید کیسے اختیار کر سکتے تھے۔ اگر امام بخاری امام شافعی کے مقلد ہوتے۔ تو امام شافعی سے کسی مسئلہ میں اختلاف نہ کرتے۔ جیسا کہ بہت سے مسائل میں آپ نے اامام شافعی سے اختلاف کیا ہے۔ مثلاامام شافعی فرماتے ہیں کہ انسان کے بال بدن سے جدا ہونے پر  نجس وناپاک ہوجاتے ہیں۔ اورجس پانی میں وہ بال پڑ جایئں وہ پانی ناپاک اور پلہد ہوجاتا ہے۔ سو امام بخاری نے اس قول کواپنی کتاب میں رد کیا ہے۔ اور اس پانی کا پاک ہونا اختیار فرمایا ہے۔ چنانچہ عینی نے شرح بخاری میں فرمایا ہے۔ ''یعنی ابن ابطال نے کہا ہے مراد امام بخاری کی شافعی کے قول کو رد کرنا ہے۔

امام شافعی فرماتے ہیں کہ وضو میں تمام سر کا مسح کرنا واجب نہیں ہے بلکہ ایک دو بال کا مسح بھی کافی ہے۔ سو امام بخاری نے اس قول کا خلاف کیاہے۔ اور اس کے مقابلے میں امام مالک کا وہ قول وارد کیا ہے جس سے بعض حصہ سر کے مسح کا عدم جوازمعلوم ہوتا ہے۔ امام شافعی کاقول ہے کہ سونے چا ندی کی ذکواۃ میں صرف دینار درہم لئے جایئں نہ کے ان کی قیمت کے کپڑے سو امام بخار ی نے اس کا خلاف کیا ہے۔ اور یہ ثابت کیا ہے کہ کپڑے وغیرہ بھی زکواۃ میں لینے درست ہیں۔ چنانچہ بخاری میں  باب العرض فی الذکواۃ کا باب باندھا ہے۔ علامہ عینی اپنی شرح میں لکھتے ہیں۔ کہ اس حدیث کے ساتھ ہمارے لوگوں (یعنی حنفیہ )  نے دلیل پکڑی ہے۔ اس پر کہ زکواۃ میں قیمت دینی جائز ہے۔ اور اسی واسطے ابن رشید نے کہا کہ بخاری اس مسئلہ میں باوجود یہ کہ حنفیوں کے ساتھ بہت مخالف ہیں موافق ہو گئے ہیں۔ اور کرمانی شرح بخاری نے کہا ہے۔ کہ امام شافعی کے نزدیک زکواۃ میں قیمت دینی جائز نہیں ہے۔ امام شافعی کاقول ہے کہ جیسا امام مالک کا قول ہے۔ کہ ایک شہر کی ذکواۃ دوسرے شہر کے مسکینوں کے واسطے منتقل نہ ہو۔ سو امام بخاری نے اس کا خلاف کیا۔ اور اپنی صحیح میں فرمایا کہ جہاں کہیں فقیر ہوں۔ ان کو زکواۃ دی جائے چنانچہ لکھا ہے۔

باب اخذ الصدقة عن الاغنياء ورده علي الفقراء حيث كانوا

علی ھذ القیاس صحیح بخاری میں اس قسم کی بہت سی مثالیں ہیں۔ پس ان مثالوں کودیکھ کر کوئی منصف مزاج یہ نہیں کہہ سکتا کہ کہ امام بخاری امام شافعی ے مقلد تھے۔ ہاں یہ بات مسلم ہے کہ امام بخاری کو بہت سے مسائل میں امام شافعی کی رائے سے اتفاق ہے۔ مگر چونکہ کئی ایک مسائل میں ان کو امام شافعی سے اختلاف بھی ہے۔ لہذا اس امرک کوئی وجہ نہیں ہے کہ ان مسائل اتفاقیہ کے لہاظ سے امام بخاری کو  امام شافعی کا مقلد ٹھرایا جاوے۔ اور ان مسائل اختلافیہ کے لہاظ سے ان کو تارک تقلید امام شافعی نہ خیال کیا جاوے۔ یہ ترجیح بلا مرجح ہے۔ جس کا کوئی عقل وا نصاف والا قائل نہیں ہوسکتا۔ (حررہ محمد دائود راز عفی عنہ)


فتاویٰ  ثنائیہ

جلد 01 ص 384

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ