سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(739) لاہوری علماء کا عجیب فتویٰ

  • 7292
  • تاریخ اشاعت : 2013-10-27
  • مشاہدات : 532

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

لاہوری علماء کا عجیب فتویٰ


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

پیسہ اخبار مورخہ 15 نومبر میں ایک فتویٰ قربانی کے متعلق چھپا ہے جس کے جواب سے سوال عجیب ہے اورسوال سے جواب عجیب تر سوال یہ ہے۔

کیا فرماتے ہیں۔ علمائے دین اور مفتیان شرح متین اس بارے میں کہ جو شخص شرعا قربانی کر سکتا ہو۔ اور اس کی نیت قربانی کرنے کی ہو۔ اور وہ یہ چاہتا ہو کہ تھوڑے سے روپے میں قربانی کردے۔ اگر کوئی شخص یہ کہ جو شخص قربانی کرنا چاہتا ہے۔ اوراس کے پاس زیادہ خرچ کی طاقت نہیں۔ وہ مجھ سے امداد لے۔ اس کو بھیڑ بکری کی قیمت کےلئے روپیہ پیسہ دوں گا۔ کیا ایسا کرناشرعا ًجائز ہے۔ یعنی کسی سے روپیہ لے کر قربانی کرنا یا قرضہ لے کر قربانی کرنا شرعا جائز ہے یا نہیں؟بینواتوجروا

اس سوال کا ابتداء کچھ ہے۔ اور انتہاکچھ بہرحال ہم انتہائی خلاصہ کو صحیح سمجھتے ہیں۔ جس کا مطلب دو لفظوں میں یہ ہے کہ کوئی شخص صاحب مقدرت(مستطیع) کسی سے کچھ لے کر یا قرضہ اُٹھا کر قربانی کرے تو جائز ہے یا نہیں؟ قرضہ کالفظ تو صاف ہے اس سے قبل کے لفظ(روپیہ لے کر)سے مراد غالبا یہ ہے کہ کسی سے احسانا کچھ لے کر قربانی کرے۔ یعنی کوئی شخص بطور خود اس سے سلوک کرے۔ یا وہ قرضہ لے کر قربانی کرے۔ تو علمائے لاہور فتویٰ دیتے ہیں۔ اول۔

جواب؛،۔ کسی سے قرضہ لے کر یا دوسرے سے امداد لے کر کوئی شخص قربانی کرنے کا شرعا مجاز نہیں ہوسکتا۔ (محمد عبدالحکیم شمس العلماء کلانوری (ازلاہور)اس جواب کا مطلب صاف ہے۔ مگر دلیل ندار د آگے چلئے دوسرے صاحب فرماتے ہیں۔

الجواب۔ بے شک جو شخص قربانی کر سکتا ہے۔ وہ دوسرے کی امداد لے کر قربانی کرے۔ (وهو العالم من الاحقر خادم الشريعة علي الحائري ولاهوري)

بہت خوب !دلیل ندارد آگے سنیئے ! تیسرے بزرگ فرماتے ہیں۔

الجواب۔ واقعی جس شخص کو قربانی کرنے کا مقدور ہو اسے چاہیے کہ خود قربانی کرے۔ اور غیر کی اعانت کا ہرگز طالب نہ ہو۔ علی الخصوص صورت معلومہ میں کوئی شخص محض بطلب نامودی اس کی امداد کرنے مستعد ہو۔ قربانی تو تقرب الی اللہ کی خاطر ہے۔ لہذا وہ حسبۃ اللہ ہونی چاہیے۔ اگر کوئی شخص اس میں نمود اور شہرت کا خواہاں ہو۔ تو البتہ قربانی کا مقصد اس سے مفقود ہوجائےگا۔ نعوذ باللہ من دیاء الناس ونطلب منہ الاخلاص فی العبادات واللہ اعلم وعلمہ اتم واحکم وانا الراجی الغھران محمد المعز دث بہ فضل میراں۔

ان بزرگوں نے یہ لفظ بڑھایا ہے بغرض ناموری نہ جانے کہاں سے لیا ہے۔ سوال میں تو یہ درج نہیں اس سوال سے معلوم ہوتا ہے یہ سوال کسی خاص شخص کےلئے بتایا گیا ہے۔ چوتھے بزرگ فرماتے ہیں۔

الجواب۔ اگر قربانی بحکم شریعت کسی شخص پر واجب نہ ہو۔ بایں وجہ کہ وہ مالک نصاب نہ ہو تو اس صورت میں اس شخص پر واجب نہیں کہ کسی سے امداد لے یا قرض اُٹھاوے اسکے جائز ہے کہ قربانی نہ کرے۔ شرعا اس پر کوئی مواخذہ نہیں۔ اگر وہ مالک نصاب ہے تو اس کے لئے جائز ہے۔ کہ قربانی کم قیمت والی ذبح کردے۔ بشرط یہ کہ وہ قربانی شرعا جائز ہوسکتی ہو۔ ھذا ما فھمت من السوال و اللہ اعلم بالکمال۔ الراقم۔ خادم العلماء الابرار محمد یارعفی عنہ امام مسجد طلائی لاہور۔ )

یہ جواب بذاتہ صحیح ہے۔ مگر اس کو سوال سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ نہ تو سوال میں غیر مستطیع کا ذکر ہے۔ بلکہ مستطیع مذکور ہے۔ کیونکہ صاف الفاظ میں مرقوم ہے کہ جو شخص قربانی کر سکتا ہے نہ واجب او ر فرض سے سوال ہے بلکہ جائز ہے۔ فاضل مجیب نے کہا ہے کہ غیر مالک نصاب پرقربانی واجب نہیں۔ سائل کاسوال جواز سے ہے۔ اور مجیب کاجواب سلب وجوب ہے۔ یہی معنی ہے سوال از آسمان جواب از۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان حضرات (علماء لاہور) نے اس مسئلے پرغور نہیں فرمایا اب سینئے سوال کی صورت صاف ہے۔ کہ ایک شخص قربانی کر سکتاہے۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس کو قربانی کا حکم ہے۔ بہت خوب اب اس کے ادا کرنے کی دو صورتیں ہیں۔ یا تو اس کو کوئی شخص دوستانہ امداد دیتاہے۔ جس کو وہ قبول کرکے قربانی پر خرچ کرتا ہے۔ یہ ہے سوال کا مطلب جواب کا مدار اس پر ہے۔ کہ پہلے یہ امر تنقیح کیا جائے۔ کہ صورت مرقومہ میں جو روپیہ کسی سے بطور احسان یابطور قرض اس نے لیا ہے۔ وہ اس کی جائز مالک ہے یا نہیں۔ یقینا اس کی ملک ہونے میں کسی کو شک نہ ہوگا۔ تو پھر اس سے قربانی خرید کردہ کے جواز میں کیا شک ہے۔ فاعتبروا یا اولی الالباب۔ (اہلحدیث 27 نومبر 14ء؁)

 

فتاویٰ ثنائیہ

جلد 2 ص 641

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ