سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(734) علما ئے راسخین سے چند سوال کے جواب

  • 7287
  • تاریخ اشاعت : 2013-10-27
  • مشاہدات : 600

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

علما ئے راسخین سے چند سوال کے جواب

 اخبار اہلحد یث نمبر 43جلد12 میں حکیم محمد سجاد و صا حب کے چند سوال بغرض جواب چھپے ہیں جن کے جواب عرض ہیں۔

1)حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شہید یا قتل ہو نے کے بارے میں علمائے مو ر خین اہلحد یث کا کیا خیا ل ہے۔ کہ وہ قتل ہو ئے یا کہیں بغرض تجارت تشریف لے گئے تھے اور وہی وفات پا ئی مفصل اور مد لل تحر یر فر ما دیں۔

میرے نزدیک چونکہ یہ لڑائی درمیان میں دو مسلما نوں کے محض ایک ملکی جنگ تھی کلمتہ اللہ کے لئے نہ تھی اس لئے حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ شہید نہیں بلکہ مقتول ہوئے۔

یا زیا دہ سے زیا دہ شہادت صغریٰ کہنا چاہیے انتہی بلفظہ۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
 در حقیقت دو سوال ہیں پہلے سوال کا جواب یہ ہے بلا شبہ حضرت سیدنا حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ میدان کر بلا میں جبرا مع اعوان کے شہد کئے گئے تھے اس پر تمام محدثین و علماء مور خین اہلحد یث کا اتفاق ہے اور کہیں تجارت کے لئے نہیں گئے تھے کہ ان کی وفا ت وہاں پر ہو ئی یہ سب چانڈو خانہ کی گپیں ہیں۔ جو ثبوت سب سے مستند اور صحیح اور تا ر یخی حیثیت سے بھی سب سے اعلیٰ ہے اس سے یہ امر بخو بی ثا بت ہے وہ کون ثبوت فن حدیث دفن رجال ہے جس میں شک کی گنجائش نہیں بلکہ کا الشمس فی النہار ہے۔ صحیح بخاری میں ہے۔

عن انس رضي الله عنه قال اني عبد الله بن زياد براس الحسين فجعل في طشت فجعل يننكت وقال في حسنه شيئا قال انس رضي الله عنه فقلت والله انه كان اشبهم برسول الله صلي الله عليه وسلم وكان مخضو بابا لوسمة

یعنی امام حسین رضی اللہ عنہ کا سر عبید اللہ بن زیاد کے پاس لایا گیا (یہی فوج کا سردار تھا اور ایک طشت میں رکھا گیا۔ تو عبید اللہ بن زیاد آپ کے حسن میں کچھ کلام کر نے لگا اور اس کے ہاتھ میں کوئی لکڑی تھی جس نے ٹھکرانے لگا تو حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں میں کہا خدا کی قسم حسین رسول اللہﷺ کے سا تھ زیادہ مشابہ تھے ان کے سر میں دسمہ لگا ہوا تھا یعنی بحالت شہا دت جس وقت سر لایا گیا دسمہ سے خضاب کیا ہوا تھا حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا سر کو فہ میں عبیداللہ بن زیاد کے پاس بعد قتل کے لایا گیا تھا اور حضرت انسرضی اللہ تعالیٰ عنہ وہیں مو جود تھے اسی وقت کا یہ قصہ ہے۔

صحیح بخاری کی روایت ہے۔

 عن عبد الرحمٰن بن ابي انعم قال سمعت عبد الله بن عمر رساله عن المحرم قال شعية احسبه قتل الذباب قال اهل العراق يسئوني عن القتل الذباب وقد قتلوا ابن بنت رسول لله صلي الله عليه وسلم وقد قال صلي الله عليه وسلم همار يحانتي من الدنيا

عبد الر حمن بن ابی نعم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر کے بیٹے عبداللہ سے کسی نے محرم کے بارے میں مسئلہ پو چھا کہ محرم مکھی مار سکتا ہےیا مکھی مارے تو اس کا کیا کفارہ ہے حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے تعجب سے فر مایا کہ عراق والے مکھی کے مارنے کا مسئلہ پو چھتے ہیں حالانکہ رسول اللہ ﷺ کے نوا سے کو قتل کر ڈالا جن کے بارے میں آپ نے فرمایا تھا کہ یہ دو نوں میرے پھو ل ہیں۔ خلاصہ تہذیب الکمال میں ہے۔

استشهد بكر بلا من ارض العراق يوم عاشوراء يوم الجمعة سنة احد وستين بكر بلا من ارض العراق فيما بين الكوفة والحة قتله سنان بن انس او شمر زي الجوشن

 

 اسی طرح جس قدر فن رجال کی کتا بیں ہیں خواہ بسیط ہوں یا قصیر ہوں جہاں سید نا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذکرہے با لا اتفاق یہی مضمون لکھا ہے تہز یب الکما ل تہز یب التہذیب کا شف معنی وغیرہ وغیر ہ اگر فن رجال کی کتا بوں کو غیر معتبر کہا جا ئے تو با لکل امن ہی جا تا رہے گا یہ چند عبارتیں بطور اختصار نقل کر دی ہیں۔

دوسر ے سوال کا جواب۔ امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مقتول ہو نا شہادت ہے اور بلا شبہ شہادت ہے جیسا کہ فاضل ایڈیٹر نے اس کی طرف اشارہ بھی کیا ہے اس پر تمام محد ثین اورفقہا ء کا اتفاق ہے کیوں کہ شہيد کی تعریف یہ ہے

 وهو سلم طا هر با لغ قتل ظلما ولم يجب به مال ولم ير قث

اگرچہ یہ تعر یف اس شہد کی کی گئی ہے جس پر نماز جنازہ نہیں پڑھی جا تی جس کی وجہ سے اس میں قیود بہت بڑہائے گئے ہیں مگر پھر بھی آپ پر یہ تعر یف صادق ہے اور یہ ظاہر ہے کہ حضرت سید نا حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر بے انتہاء ظلم کیا گیا جس کی نظیر ملنی مشکل ہے بلکہ اعوان انصار کو چھوڑو بچوں اور مستورات پر اس قدر ظلم کیا گیا ،کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طر ح ان پر بھی دانہ پا نی بند کر دیا گیا اور یہ کوئی جنگ نہ تھی چہ جائے ملکی جنگ کہاں چند کس کہاں فوج صرف اس بعیت کا انکار تھا جو قیصر اور کسری کی سنت پر کی گئی تھی اور اس انکار میں کوئی خصو صیت امام حسینرضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی کی نہ تھی بلکہ بہت سے صحابہ رضوان للہ عنہم اجمعین اس جرم میں شہد کیے گئے حضرت ابو ہر یرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اسی جرم میں داغا کیا گیا تھا دیکھو واقعہ حرہ سائل نے لکھا ہے غایت یہ کہ شہادت شہادت صغرٰی ہے لیکن سائل نے شہادت صغری کی تعر یف نہیں لکھی کہ اس پر غور کیا جا ئے بلا شبہ امام حسینرضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قصدا علائے کلمۃ اللہ ہی تھا اسی بناء پر اس بعیت سے انکار کیا تھا جو ایک فاسق مجاہر کے ہاتھ پر بمع سنت کسری و قیصر ہوئی تھی اسی بناء پر تمام صحا بہرضوان للہ عنہم اجمعین نے انکا ر کر دیا تھا بلا شبہ سید نا حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت عظمی ہے حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت طلحہرضی اللہ تعالیٰ عنہ یا حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادتیں شہادت میں پیش کی جا سکتی ہیں واللہ اعلم۔

 فرعون نے جو ڈدبتے وقت آیت امنت برب هارون وموسي کہا تھا تو ایسے وقت کا ایمان شرعا مقبول ہے کہ نہیں میرے نز دیک چونکہ حد یث میں ما لم يغر غر آیا ہے اور وہ قبل غر غرہ کے ایمان لا یا تھا لہذا اس کا ایمان مقبول ہے اس کا جواب خود قرآن مجید میں موجود ہے ایڈیٹر)

حضرت سائلین کو سوال کرنے کے وقت کیا کچھ غور کر لینا کوئی جرم ہے ایسے سوالات سے عوام کے خیالات میں تشو یش پیدا ہو تی ہے بالخصوص جب کہ سائل عربی جا نتے ہوں تو ضرور اس طرح بے نکا (1)سوال کرنا ان کے لئے منا سب نہیں قرآن مجید میں فرعون کے بارے میں نص مو جو د ہے ؛۔

 يَقْدُمُ قَوْمَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَوْرَدَهُمُ النَّارَ ۖ وَبِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُودُ ﴿٩٨﴾ وَأُتْبِعُوا فِي هَـٰذِهِ لَعْنَةً وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ ۚ بِئْسَ الرِّفْدُ الْمَرْفُودُ

دوسری جگہ فرمایا آیت-وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ

اس طرح کے نصوص تمام قرآن میں مو جود ہیں جن سے فرعون یا فرعون کا جہنمی ہونا یا معلون ہونا ظاہر ہے۔ پھر اس کے ایمان کو مالم یغر غر سے مقبول کہنا ابوالعجبی ہے آپ نے جلدی میں جس لفظ کی وجہ سے اس کا ایمان مقبول بتایا ہے۔ اس پرغو رنہیں کیا۔ کلام اللہ میں ہے۔ آیت حَتَّىٰ إِذَا أَدْرَكَهُ الْغَرَقُ قَالَ آمَنتُ-اور ایک غر قاب سے غرقا ب کا اسےتھام لینا ہے غرق نے اسی وقت تھا ما جب دو چا ر غوتے کھا چکا اور یقین ہلاکت ہو گیا اور دو سرے عالم کا نقشہ سا منے ہو گیا اور غر غر سے بھی یہی مطلب ہے کہ یقین ہلا کت ہو جا ئے اور دو سرے عا لم کے نقشے سامنے ہو جا ئیں نہ کہ صرف سانس اکھڑنا افسوس کہ آپ نے قر آن کے کھلے الفاظ کے باوجود بھی اپنے نزدیک فرعون کا ایمان قبول کر لیا خدا کرے کہیں ایسی وسعت مقبو لیت کو علمائے زمانہ مو جو د ہ کے نزدیک بھی حاصل ہو جا ئے تو بہترے لو گوں کو نجات مل جا ئے۔ والعلم عند اللہ

-------------------------------------

1۔ اس قسم کے ہتک آمیز الفاظ بھی مناسب نہیں۔

 

فتاویٰ ثنائیہ

جلد 2 ص 630

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ