سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(42) مسائل شرعیہ میں شاگرد کا استاد سے اختلاف

  • 543
  • تاریخ اشاعت : 2012-04-24
  • مشاہدات : 896

سوال


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیاشاگرداستادسے مسائل میں اختلاف کرسکتاہے ؟اس اختلاف کی بناپراستاد شاگردکوعاق کہنے کا مجاز ہے ؟ جزاكم الله خيرا


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

مسائل کے اختلاف سے شاگردعاق نہیں بنتا بلکہ یہ ایک لازمی شے ہے اس لیے ہمیشہ شاگرداپنے اساتذہ کی مخالفت کرتے رہے ۔امام شافعی ؒ امام مالک ؒ کے شاگردہیں مگربہت سے مسائل میں ان کے خلاف ہیں ۔اس لیے یہ دومذہب الگ الگ قرارپائے ۔اسی طرح امام احمدؒ ،امام شافعی ؒ کے شاگردہیں مگرمذہب ان کابھی الگ الگ ہے امام ابوحنیفہ ؒ کےبڑے دونوں شاگردامام ابویوسف ؒ اورامام محمدؒ اپنے استادسے قریباً دوتہائی مذہب میں خلاف ہیں ۔امام مسلمؒ ،امام بخاری کے شاگردہیں ۔مگربعض مسائل میں ایسے خلاف ہیں کہ استادکے حق میں سختی پراترآئے ہیں ۔مقدمہ مسلم پڑھ کردیکھیےاسی طرح امام بخاری ؒ بواسطہ امام حمیدی ؒ ۔امام شافعی ؒ کے شاگردہیں ۔لیکن مسائل میں امام شافعی ؒ کی ذراپرواہ نہیں کرتے ۔جوکچھ اپنی تحقیق ہے اس کے پابندہیں۔خیرقرون میں اس قسم کے اختلافات بہت ہیں مگرکسی استادنے شاگردکواس بناء پرعاق نہیں کہا۔

جس شخص نے مسئلہ کے اختلاف کی وجہ سے اپنے شاگردکوعاق کہاہے وہ خودشریعت کاعاق ہے۔کیونکہ شریعت اندھی تقلیدکی اجازت نہیں دیتی اس قسم کی تقلیدشریعت میں ایک امرمحدث ہے ۔ جوایسی تقلیدکرانی چاہتاہے وہ ایک امرمحدث کامرتکب  ہواہے۔ رسول اللہﷺ فرماتے ہیں۔

وشرالامورمحدثاتہاوکل محدث بدعة وکل بدعة ضلالة ۔

پس اس شخص کولازم ہے کہ اس بات سے توبہ کرے اورآئندہ  اس قسم کے مسائل میں اختلاف کی وجہ سے اپنے کسی شاگردکوعاق نہ کہے ورنہ خودشریعت سے عاق سمجھاجائے گا۔

وباللہ التوفیق

فتاویٰ اہلحدیث

کتاب الایمان، مذاہب، ج1ص106 

محدث فتویٰ


ماخذ:مستند کتب فتاویٰ