سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(35) کیا ائمہ اربعہ حق پر تھے؟

  • 536
  • تاریخ اشاعت : 2012-04-24
  • مشاہدات : 1184

سوال


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا ائمہ اربعہ چاروں حق پرتھے؟ جزاكم الله خيرا


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

ائمہ اربعہ کے حق ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ ان سے ہر ایک کے تمام مسائل حق ہیں۔ بلکہ اختلاف کی صورت میں ایک حق پرہوگا دوسرا غلطی پر۔ مثلاً قرآن مجیدمیں قروع کی بابت اختلاف ہے۔ اما م شافعی ؒ کہتےہیں اس سے طہرمرادہے۔ امام ابوحنیفہ ؒ کہتے ہیں حیض مرادہے۔ فاتحہ کے مسئلہ میں امام شافعی ؒ کہتے ہیں۔ اس کے بغیرنمازنہیں امام ابوحنیفہ ؒ کا مشہورقول ہے کہ منع ہے۔ اس قسم کے بہت سے مسائل ہیں جن میں اختلاف ہے مگرحق ایک ہی ہے اورحق ایک ہی کے ساتھ رہتاہے۔ اور یہی اہل سنت کاعقیدہ ہے۔ ہاں چاروں مذاہب کےحق ہونے کا یہ مطلب ہوسکتاہے کہ ان کوغلطی پربھی ایک اجرملتاہے۔ کیونکہ ان کا اختلاف سلف ؒ کی روش کے اندرہے۔ ورنہ مسائل توسارے صحابہ  کے بھی حق ہیں۔ حضرت عمر کہتے ہیں جنبی کےلیے تیمم نہیں۔ عبداللہ بن مسعور کا بھی یہی مذہب ہے۔ نیزوہ معوذتین کوقرآن مجیدی صورتیں نہیں مانتے۔ تین آدمی  ہوں تو نماز میں جماعت کے وقت ایک کو دائیں طرف کھڑاکرتے ہیں دوسرے کوبائیں طرف۔ اس قسم کے بیسیوں مسائل ہیں۔  کیا یہ حق ہیں ؟ اس طرح ائمہؒ کےمسائل کوسمجھ لیناچاہیے۔

وباللہ التوفیق

فتاویٰ اہلحدیث

کتاب الایمان، مذاہب، ج1ص102 

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ