سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(08) مولوی مرتضیٰ حسن دیوبندی

  • 528
  • تاریخ اشاعت : 2012-04-22
  • مشاہدات : 663

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
مولوی مرتضیٰ حسن نے لکھاہے کہ
’’شیطان یعنی یا تو خداوند کے قول اور اس کی حکومت کی وجہ سے اس کے قول کومطلقاً واجب التسلیم نہیں جانتاتھا یا جانتا تھا مگر یہ شرط تھی کہ وہ قول موجّہ اورحکمت کے موافق ہو۔ اس کےقول کو عین حکمت نہیں جانتا تھا ورنہ انکار نہ کرتا اورتعمیل بھی کرتا ورنہ اگرتعمیل نہ ہوتی تو انکار تو ضرور نہ ہوتا ۔ اب ارشادخداوندی اسجدولأدم اس کے نزدیک بے دلیل تھا۔ اب وہ سجدہ کرتا توتقلید ہوتی اورتقلید اس کے نزدیک ناجائز تھی۔ لہذا وہ ترک تقلید کی وجہ سے کافرمرتد سب کچھ ہوا۔ مگر اس نے اس قول کوبلا دلیل تسلیم نہ کیا۔‘‘العدل 7ستمبر1927ء
مولوی مرتضیٰ حسن کی اس تحریر کے متعلق وضاحت فرمائیں ؟


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

مولوی مرتضیٰ حسن نے لکھاہے کہ

’’شیطان یعنی یا تو خداوند کے قول اور اس کی حکومت کی وجہ سے اس کے قول کومطلقاً واجب التسلیم نہیں جانتاتھا یا جانتا تھا مگر یہ شرط تھی کہ وہ قول موجّہ اورحکمت کے موافق ہو۔ اس کےقول کو عین حکمت نہیں جانتا تھا ورنہ انکار نہ کرتا اورتعمیل بھی کرتا ورنہ اگرتعمیل نہ ہوتی تو انکار تو ضرور نہ ہوتا ۔ اب ارشادخداوندی اسجدولأدم اس کے نزدیک بے دلیل تھا۔ اب وہ سجدہ کرتا توتقلید ہوتی اورتقلید اس کے نزدیک ناجائز تھی۔ لہذا وہ ترک تقلید کی وجہ سے کافرمرتد سب کچھ ہوا۔ مگر اس نے اس قول کوبلا دلیل تسلیم نہ کیا۔‘‘العدل 7ستمبر1927ء

مولوی مرتضیٰ حسن کی اس تحریر کے متعلق وضاحت فرمائیں ؟

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

مولوی مرتضیٰ حسن کے خیال میں شیطان باوجودخدا کوخدا ماننے کے اور باوجودفرشتوں کا استادہونے کے یہ نہیں جانتاتھا کہ خدا عبث اوربیہودہ سے پاک ہے ،غلطی سے مبرّاہے جس کا قول عین حکمت ہے۔ دلیل اس کی یہ دیتے ہیں کہ شیطان نے انکارکیا اگرخدا کاقول عین حکمت سمجھتا تو انکار نہ کرتا۔ اور اتنا نہیں سمجھتے کہ جس نے سرکشی پرکمرباندھی ہو وہ باوجودعلم کے بھی انکارپرتلا رہتاہے۔ کیا ضداور ہٹ دھرمی کابھی کوئی علاج ہے؟ میرے خیال میں مولوی مرتضیٰ حسن صاحب کے نزدیک شیطان انصاف پرست تھا۔معاذاللہ ۔

یہ تو ایسا ہوا جیسے آج کل کے متصوفہ (بناوٹی صوفی) کہتے ہیں کہ شیطان بڑا موحدتھا اسی لیے اس نے غیرکو(یعنی آدم ؑ کو)سجدہ نہیں کیا۔ گویاخدا نے غلطی کی نعوذباللہ ۔

مولوی مرتضیٰ حسن صاحب! بھلا یہ تو بتلائیے کہ شیطان خدا کوخدا جانتاتھا یا نہ؟ اگرنہیں جانتا تھا تومدت تک اس کی عبادت کیوں کرتا رہا؟ اگرجانتاتھا توکیاخداکی خدائی اس کے نزدیک اطاعت کے لیے کافی نہ تھی؟ بڑے تعجب کی بات ہے کہ خدا کی خدائی کو عبادت کے لیے کافی سمجھے اور اطاعت کے لیے کافی نہ سمجھے حالانکہ اطاعت کامرتبہ عبادت سے بہت کم ہے۔ کیونکہ اطاعت توغیر(نبی) کی بھی جائز ہے ، عبادت غیرکی جائز نہیں۔

اس کے علاوہ اگرفرضی طورپر مان لیں کہ شیطان قول خدا کوحکمت کے موافق نہ جانتا تھا تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ مدلل بھی نہ جانتا ہو۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ محکوم کوحاکم کی اطاعت ضروری ہے اور دلیل اس کی اس کا حاکم ہوتاہے۔ اگرباوجودمحکم ہونے کے کوئی بات حاکم کی مانے کوئی نہ مانے۔ مثلاً جواس کے خیال میں معقول اور اس کی سمجھ میں حکمت کے موافق ہو وہ مانے دوسری کو نہ مانے تو وہ اپنی مرضی کامالک ہے۔ اس کومحکوم نہیں کہنا چاہیے۔ کیونکہ محکوم کے معنے میں داخل ہے کہ حاکم کے سامنے سرجھکادے اوراپنا دخل نہ رکھے۔ اب شیطان کا خدا کے حکم کوتسلیم نہ کرنا اس کی یا تو یہ وجہ ہوگی کہ اس کے خیال میں خدا حاکم نہیں ہوگا اوریہ بداہتہً باطل ہے کہ شیطان کوخدا کے حاکم ہونے کی خبرنہ ہو۔ یا یہ وجہ ہوگی کہ شیطان کو محکوم کے معنے کا پتہ نہ ہوگا۔ اور اس کے بطلان پہلے سے بھی زیادہ واضح ہے۔ اب سرکشی اورتکبرکے سوا اورکونسی وجہ عدم تسلیم ہوسکتی ہے ؟ پھرمعاذاللہ خداکی شان ایسی نہ تھی کہ شیطان کوواقعی خداکے حاکم ہونے کاعلم نہ ہوتا یا وہ محکوم کےمعنے نہ جانتا تووہ ارحم الراحمین اس کو اناخیرمنہ کا عذرکرنے پریہ نہ فرماتا کہ فاخرج منہا۔’’یعنی اس جگہ سے نکل جا۔‘‘بلکہ پہلے اس کواس بات سے واقف کرتا جس سے بے علم تھا۔ پھراس کے بعد اگروہ نہ مانتا توجوچاہتا اس کے ساتھ سلوک کرتا۔ خداکی ذات اس سے برترہے کہ وہ ناواقف کورانددے۔ اس سے بھی معلوم ہوا کہ شیطان بے خبری میں ہلاک نہیں ہوا بلکہ اس کوسب کچھ پتاتھا۔ اورآیہ کریمہ

’’مَا مَنَعَكَ أَلَّا تَسْجُدَ إِذْ أَمَرْ‌تُكَ‘‘

میں بھی اسی طرف اشارہ ہے کہ محکوم کوحاکم کے حکم کی فوراً تعمیل کرنی چاہیے تھی۔ تجھے اس تعمیل سے کس نے روکا اگرکوئی اورحکم دیتا تو اس میں شبہ بھی ہوسکتاتھا۔ حکم توخود میں نے دیاہے۔ پھرتعمیل کیوں نہ کی۔ اوریہی وجہ ہے کہ اس حکم کی تعمیل نہ کرنے کا اور اسے اناخیرمنہ کہہ کرٹال دینے کا نام خدانے سرکشی تکبر۔ فسق وغیرہ رکھاہے جیسے ایک آیت میں فرمایا:۔

’’أَبَىٰ وَاسْتَكْبَرَ‌ وَكَانَ مِنَ الْكَافِرِ‌ينَ‘‘

یعنی انکارکیااورتکبرکیااورکافرہوگیا۔‘‘

خلاصہ یہ کہ قول خدا شیطان کے نزدیک مطلقاً (بغیرشرط) واجب التسلیم تھا۔ کیونکہ اس کی دلیل اس کے ذہن میں تھی یعنی قائل کا حاکم بلکہ خدا ہونا۔ مگرتکبرکی وجہ سے اس کوتسلیم نہ کیا اورخواہش کے پیچھے لگ گیا۔اور یہ آیہ کریمہ

’’أَبَىٰ وَاسْتَكْبَرَ‌ وَكَانَ مِنَ الْكَافِرِ‌ينَ‘‘

وغیرہ بھی اسی مطلب کو اداکررہی ہیں جس کا خلاصہ شیخ سعدی ؒ کے الفاظ میں یہ ہے ۔

تکبرعزازیل راخوارکرد          بہ زندان لعنت گرفتارکرد

مولوی مرتضیٰ حسن صاحب پرتقلیدی اثر ہے کہ اندھا دھندلکھتے چلے جاتے ہیں اورنتائج پرغورنہیں کرتے۔ اس سے بڑھ کراورسنیے۔ مولوی مرتضیٰ حسن صاحب لکھتے ہیں :۔

’’جس طرح رسول اللہ علیہ السلام کی بات کوتسلیم کرنا امت کے حق میں تقلیدہے۔ اسی طرح انبیاء علیہم السلام کاباری تعالی کے قول کوبلادلیل تسلیم کرنابھی تقلیدہوگا۔‘‘        (العدل 4مارچ 1929ء ص 3)

گویا مولوی مرتضیٰ حسن صاحب کے اعتقادمیں شیطان کی طرح انبیاء علیہم السلام بھی خداکے قول کوعین حکمت یا حکمت کے موافق نہیں جانتے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ شیطان تسلیم نہ کرنے سے غیرمقلدہوگیااورانبیاء علیہم السلام تسلیم کرکے مقلدہوگئے۔

ناظرین خیال فرمائیں کہ یہ انبیاء علیہم السلام کے حق میں کس قدرگستاخی ہیں کہ معاذاللہ ان کا اعتقادشیطان کا اعتقاد بتایاجاتاہے۔سچ ہے

ناوک نے تیرے صیدنہ چھوڑازمانہ میں               تڑپے ہے مرغ قبلہ نماآشیانہ میں

تعجب

مولوی مرتضیٰ حسن صاحب پرتعجب ہے کہ انہوں نے اس محل میں اصول فقہ کی بھی کچھ پرواہ نہ کی۔ اصول فقہ میں صاف لکھاہے کہ قرآن وحدیث کا ماننا تقلیدنہیں۔ چنانچہ تحریرابن الہمام ؒ کے اخیرمیں ہے ۔

لیس الرجوع الی النبی صلی اللہ علیہ وسلم والاجماع منہ

’’یعنی رسول اللہﷺ کی طرف اور اجماع کی طرف رجوع کرناتقلیدنہیں ۔‘‘

خدا جانے یہ لوگ تقلیدکی محبت میں کیوں ایسے سرشارہیں کہ اپنا اصول بھی بھول جاتے ہیں ’’یکے برسرشاخ دبن مے برید‘‘والامضمون ہے ۔یعنی مذہب کے خیرخواہ بن کرمذہب کی بیخ کنی کررہے ہیں۔

اے چشم اشکبار!ذرادیکھنے تودے                     ہوتاہے جوخراب وہ میراہی گھرنہ ہو!

بلکہ خود مولوی مرتضیٰ حسن نے بھی اس کی تصریح کی ہے چنانچہ آپ فرماتے ہیں :

’’اطاعت تقلیدکے معنے سےعام ہے۔ خدائے قدوس اورسرورعالمﷺ کی اطاعت کوتقلیدنہیں کہا۔‘‘(العدل 18فروری 1929ء ص 3)

’’مجتہد کاقول فی نفسہ حجت شرعیہ نہیں۔ اورخداوندعالم جل مجدہ اورسرورعالمﷺ کاقول فی نفسہ حجت شرعیہ ہے ۔‘‘(العدل 18فروری 1929ء)

پس مولوی مرتضی حسن نے اپنی تقریرپرخودہی پانی پھیردیا۔ اورصاف غیرمقلدہوگئے۔ نتیجہ یہ کہ تقلیدایک ایسا ٹیڑھا راستہ ہے جس پرچل کرمقلدکبھی منزل مقصودپرنہیں پہنچ سکتا۔ اسی وجہ سے دنیا کی مشہورہستیوں نے تقلیدکوگمراہی اورخودکشی سے تعبیرکیاہے ۔مثلاً مولاناجلال الدین رومی ؒ اپنی مثنوی میں فرماتے ہیں ۔

آں مقلدہست چوں طفل علیل                گرچہ واردبحث باریک ودلیل

حضرت شیخ سعدی مرحوم فرماتے ہیں ۔

عبادت بہ تقلیدگمراہی است                  خنک راہروے راکہ آگاہی است

عصرحاضرکے مشہورشاعرسراقبال مرحوم فرماتے ہیں ۔

تقلیدکی روش سے توبہترہے خودکشی        رستہ بھی ڈھونڈخضرکاسودابھی چھوڑدے

ہماری دعاہے کہ اللہ تعالی مسلمانوں کوتقلیدکے پھندے سے محفوظ رکھے ۔آمین ۔

 وباللہ التوفیق


فتاویٰ ابن باز

جلد اول

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ