سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(06) مولانا ثناء اللہ امرتسری

  • 526
  • تاریخ اشاعت : 2012-04-21
  • مشاہدات : 1684

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
مولانا ثناءاللہ امرتسری نے قرآن کی تفسیرکرتے ہوئے بعض مقام پرتفسیرصحابہ رضی اللہ عنہم کی مخالفت کی ہے۔ اکابرعلماءِ خاندان غزنویہ و دیگرعلماء اہل حدیث نے مولانا موصوف کوتوجہ دلائی ہے۔ مگرانہوں نے اپنی اغلاط سے رجوع نہیں کیا۔ ان اغلاط کی روشنی میں ان کواہل حدیث کہا جاسکتا ہے؟


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

مولانا ثناءاللہ امرتسری نے قرآن کی تفسیرکرتے ہوئے بعض مقام پرتفسیرصحابہ رضی اللہ عنہم کی مخالفت کی ہے۔ اکابرعلماءِ خاندان غزنویہ و دیگرعلماء اہل حدیث نے مولانا موصوف کوتوجہ دلائی ہے۔ مگرانہوں نے اپنی اغلاط سے رجوع نہیں کیا۔ ان اغلاط کی روشنی میں ان کواہل حدیث کہا جاسکتا ہے؟

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

مولوی ثناءاللہ صاحب کا دعوی ہے کہ میں اہل حدیث ہوں۔ لیکن طرز عمل ان کا اہل حدیث کے خلاف ہے۔ توپھراہل حدیث ہونے کا دعوی ان کے منہ سے کس طرح زیبا ہوسکتا ہے۔ اہل حدیث توقرآن وحدیث کے بعد اقوال سلف کولیتے تھے۔ آپ اقوال سلف کی پرواہ نہیں کرتے۔ دیکھیے تفسیرالقرآن بکلام الرحمن میں اوردیگر کئی رسائل میں اس نے کس طرح سلف کی مخالفت کی ہے۔ ہم اس کی چند مثالیں نقل کئے دیتے ہیں۔ ان پرغورکرکے بتلائیں کیا وہ اہل حدیث کہلانے کے مستحق ہیں۔

مثلاً انہوں نے اپنی ’’تفسیرالقرآن الرحمن ‘‘ فی لوح محفوظ کے معنی فی علمہ سبحانہ یعنی الہی کے لکھے ہیں۔ تو یہ عرب اول یعنی صحابہ نے نہیں سمجھے بلکہ وہ تو اس سے تختی سمجھتے رہے۔ جس میں خیروشرلکھی ہوتی ہے۔

اسی طرح انہوں نے اپنی تفسیرمذکور میں والناس الحدید کے معنی یہ لکھتے ہیں

وعلمناہ الانۃ الحدید

(یعنی داؤدؑ کولو ہے کے نرم کرنے کا طریقہ سکھایا یعنی آگ کے ساتھ ) حالانکہ یہ معنی اہل زبان صحابہ نے نہیں سمجھے۔ وہ تویہی سمجھتے رہے کہ داؤدؑ کے ہاتھ میں لوہا موم کیا۔

اسی طرح وہ عند سدرۃ المنتہی کی تفسیرمیں لکھتے ہیں۔

عندانتہاء مراتب الکمال لانسان

(یعنی انسان کے کمالات کے ختم ہونے کی جگہ) حالانکہ یہ معنی اہل زبان سے کسی نے نہیں سمجھے۔ وہ تو بیری سمجھتے رہے جو ساتویں آسمان پرہے۔ چنانچہ بخاری مسلم وغیرہ میں صاف حدیث موجودہے۔

اسی طرح

’’وَالْوَزْنُ يَوْمَئِذٍ الْحَقُّ‘‘

کی تفسیر مقدارالاعمال بای وجہ کان کے ساتھ کی ہے۔ (یعنی اعمال کا اندازہ جس طرح ہو) اور

’’وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ‘‘

کی تفسیرحبطت اعمالہم کے ساتھ کی ہے (یعنی جن  کے عمل حبط ہوگئے) حالانکہ سلف نے ان کے معنی یہ کہے ہیں۔ کہ اعمال تولے جائیں گے اورحدیثوں میں بھی اعمال کے تولے جانے کا بہت ذکرہے۔

اسی طرح

’’اجْعَلْ عَلَىٰ كُلِّ جَبَلٍ مِّنْهُنَّ جُزْءًا‘‘

کی تفسیرواحدا واحدا کے ساتھ کی ہے (یعنی ایک ایک پرندہ پہاڑ پر رکھ دے) گویا پرندوں کے ذبح سے انکارہے۔

مولوی ثناء اللہ صاحب الکلام المبین کے ص 27 میں لکھتے ہیں۔ حکم ہوا کہ چارجانورلیکران کواپنے سے ہلا۔ پھران میں کا ایک ایک ٹکڑا پہاڑمیں رکھ کر ان کوبلا وہ تیری طرف دوڑتے ہوئے آئیں گے۔ انتہی ٰ اورالکلام المبین کے ص 29 میں لکھتے ہیں قرآن شریف میں حضرت مسیح کے معجزات کے متعلق جہاں کہیں مردوں کے زندہ کرنے کا ذکرہے وہاں باذن اللہ کی قید برابر لگائی جاتی ہے۔ تاکہ سامعین کواشتباہ نہ ہومگریہاں پراس کے برخلاف ہے۔ایک تویہ قیدنہیں دوئم احیاء یعنی زندہ کرنے کاذکرنہیں۔سوئم بڑی بات یہ قابل غورہے کہ آیت میں صرف اتنا مضمون ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ کوحکم ہے کہ تو ان کوبلا بس تیرے بلانے ہی سے وہ تیرے پاس بھاگتے چلے آویں گے۔اس سے معلوم ہوتاہے کہ ان جانوروں میں کوئی غیرمعمولی حرکت پیدانہیں ہوئی تھی جس کی بابت خدا تعالیٰ کوئی مزیدقیدلگاتا۔ بلکہ صرف اتنی ہی تھی جوانسانی طاقت میں مختصریہ کہ نہ قرآن میں نہ کسی حدیث میں اس بات کاثبوت ہے کہ جانوروں کوحضرت ابراہیم ؑ نے ذبح  یاقطع کیاتھا۔ پھربعدقطع ہونے کے وہ زندہ ہوئے تھے ۔انتہیٰ

اورالکلام المبین کے ص33 میں لکھتے ہیں جانوروں کا مرکریا مقطوع ہوکرزندہ ہونا چونکہ نہ توقرآن مجیدکی نص سے نہ حدیث سے اس کاثبوت ہے اس لیے میں نے یہ معنی کئے ہیں ۔انتہیٰ

غرض پرندوں کےذبح ہونے سے مولوی ثناء اللہ صاحب کوصاف انکارہے۔ حالانکہ ابومسلم معتزلی سے پہلے کسی نے پرندوں کے ذبح ہونے سے انکارنہیں کیا۔

اسی طرح  تفسیرمذکورمیں

’’وَظَلَّلْنَا عَلَيْكُمُ الْغَمَامَ‘‘

  کے معنی یہ لکھے ہیں

’’وَأَرْ‌سَلْنَا السَّمَاءَ عَلَيْهِم مِّدْرَ‌ارً‌ا‘‘

 (یعنی ہم نے ان پر بارش اتاری)حالانکہ سلف نے کہاہے کہ بنی اسرائیل پر بادلوں کاسایہ کیا اوریہ موسیٰ کامعجزہ تھا۔

اسی طرح

’’فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا‘‘

کی تفسیریوں کی ہے ای خالفواماامروابہ من التوکل والاستغفار (یعنی ان کا بات کوبدلنایہ تھاکہ توکل اور استغفار کا جوحکم ہواتھا اس کی مخالفت کی) حالانکہ حدیث میں بدلنے کی تفسیریہ کی ہے۔کہ سجدے ۔۔کے بل گھسٹتے ہوئے داخل ہوئے اورحطۃ کی جگہ حنطتہ کہا۔

اسی طرح قالت ہومن عنداللہ کی جگہ پھلوں کی تفسیرمیں لکھتے ہیں۔

کانت تنسب ماکان عندہاالی اللہ لقولہ تعالی ومابکم من نعمۃ فمن اللہ

(یعنی جومریم علیہماالسلام کے پاس تھا) اس کو اللہ کی طرف نسبت کرتی تھی کیونکہ سب نعمتیں اللہ کی طرف سے ہیں۔ توگویا مریم علیہا السلام کی کرامت ثابت نہیں ہوئی۔اسی واسطے حاشیہ میں صاف لکھتےہیں کہ

فلیس فیہ دلیل علی ان مریم الصدیقۃ کان یاتیہافاکہۃ الصیف فی الشتام وفاکہۃ الشتاء فی الصیف۔

’’اس آیت میں اس با ت پرکوئی دلیل نہیں کہ مریم علیہا السلام کے پاس گرمی کے میوے سردی میں اورسردی کے میوے گرمی میں آتے تھے۔‘‘

اسی طرح:

’’حَتَّىٰ يَأْتِيَنَا بِقُرْ‌بَانٍ تَأْكُلُهُ النَّارُ‌‘‘

کی تفسیرمیں لکھتے ہیں ای بحرقہ الکاہن بالنار(یعنی قربانی کو کاہن آگ کے ساتھ جلادے) حالانکہ سلف نے اس کی تفسیرآگ آسمانی کے ساتھ کی ہے ۔

اسی طرح:

’’يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَ‌بِّكَ لَا يَنفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا‘‘

کی تفسیرمیں یوم الموت لکھتے ہیں۔ حالانکہ حدیث میں ہے کہ شمس کا طلوع مغرب سے مرادہے۔

اسی طرح:

’’وَسَخَّرْ‌نَا مَعَ دَاوُودَ الْجِبَالَ يُسَبِّحْنَ وَالطَّيْرَ‌‘‘

کی تفسیرتذکرہ حین غفلۃ کے ساتھ کی ہے (یعنی پہاڑ اورپرندے داؤدعلیہ السلام کوغفلت  کے وقت یاد دلاتے تھے) پھراس پر یہ شعرپیش کیاہے۔

            برگ درختان سبزدرنظرہشیار                    ہرورقے دفترلیست معرفت کردگار

یعنی پہاڑوں اورپرندوں کا داؤدعلیہ السلام کے ساتھ تسبیح پڑھنا یہی تھاکہ ان کودیکھ کرخدا یاد آجاتاتھا۔ توگویا داؤدعلیہ السلام کاکوئی معجزہ ثابت نہیں ہوتا بلکہ تمام صلحاء کایہی حال ہے۔

اسی طرح :

’’فَاتَّخَذَ سَبِيلَهُ فِي الْبَحْرِ‌ سَرَ‌بًا‘‘

کی تفسیرمیں لکھتے ہیں:

’’شقاکمایسبح الحوت سبحاطبعیا‘‘

(یعنی مچھلی جیسے طبعی طورپرتیرتی ہے ویسی تیری ) (یعنی اس کےتیرنے سے پانی میں سرنگ نہیں بنی) اسی واسطے

’’فَاتَّخَذَ سَبِيلَهُ فِي الْبَحْرِ‌ سَرَ‌بًا‘‘

کی تفسیرمیں لکھتے ہیں تعجب یوشع من سرعتہ (یعنی یوشع نے مچھلی کی تیزرفتاری سے تعجب کیا) حالانکہ مسلم کی حدیث میں ہے۔ کہ سرنگ کی وجہ سے تعجب ہواتھا۔ نیزمسلم بخاری کی روایت میں ہے کہ مردہ تھی خضرعلیہ السلام کی جگہ پہنچے توزندہ ہوکرپانی میں داخل ہوگئی۔ مولوی ثناء اللہ اس سے صاف انکاری ہیں۔ چنانچہ ترکِ اسلام طبع اہلحدیث امر تسرص 113میں دہرم پال آریہ کومخاطب کرتے ہوئے لکھتے ہیں ’’بتلایئے اس آیت میں بھنی ہوئی کس لفظ کاترجمہ ہے۔‘‘انتہیٰ

پھرآگے چل کرص 114 میں لکھتے ہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام جب سفرکوچلے توخدا کے حکم سے ایک مچھلی کوپانی کے برتن میں رکھ لیا۔

پھراسی صفحہ میں چندسطروں کے بعدلکھتے ہیں۔ اصل میں آپ بھی معذورہیں قرآن شریف کوقرآن کی اصل زبان میں تو پڑھا نہیں۔ معمولی انگریزی یا اردومیں ترجمہ دیکھا اورکسی غیرمحقق واعظہ یا محلہ کی کسی بڑھیا سے سن لیا کہ مچھلی بھنی ہوئی تھی۔‘‘انتہیٰ

ناظرین خیال فرمائیں کہ کس قدر دلیری کے کلمے ہیں۔ گویانبی علیہ السلام کے ارشادمبارک کوکسی واعظ غیرمحقق کا یا محلہ کی کسی بڑھیا کا منقولہ بتاتے ہیں ۔معاذاللہ

یہ چندمثالیں بطورمشتے نمونہ ازخروارسے ہم نے ذکرکی ہیں۔ ان کے علاوہ اوربھی بہت ہیں جن میں انہوں نے سلف کے بلکہ حدیث کے بھی خلاف تفسیرکی ہے۔ بلکہ خلاف کرنا توکجاخلاف کرنے کو دیوانوں کا ھوّا کہاہے۔ چنانچہ خاندان غزنویہ نے جب ان کویہ الزام دیاکہ آپ کی تفسیرمفسرین (سلف )کے خلاف ہے تووہ ان کے جواب میں ’’الکلام المبین‘‘کے ص 68 میں لکھتے ہیں ۔’’مفسرین کےخلاف کا ذکرتو دیوانوں کا ھوّاہے اس سے تو نابالغ ڈراکرتے ہیں۔ (انتہی) (عبداللہ امرتسری)

اب بتلائیے کہ ان کے اہلحدیث ہونے کے دعوی میں اورمقلدین بلکہ متعصبین کے اس دعوی میں کہ ہمارا فرقہ قدیمہ ہے کیافرق ہے۔

  میرے دل کودیکھ کرمیری وفاء کودیکھ کر              بندہ پرورمنصفی کرناخداکودیکھ کر

مولوی رشیداحمدصاحب گنگوہی اورتقلیدشخصی          

مولوی اشرف علی صاحب تھانوی نے اپنے مرشدمولوی رشیداحمدصاحب گنگوہی کوایک خط لکھاجس کے لکھنے کی وجہ یہ تھی کہ میلاد مروجہ میں ذکر ولادت کے علاوہ بہت سی تخصیصات اورقیودات ہیں۔ جیسے خاص دنوں میں ہونا۔مجمع میں ہونا۔ اس کے لیے فرش وفروش اور روشنی کاانتظام ہونا۔ذکر کے لیے خاص طریق مقررہونا اورپھرایک موقعہ پرپہنچ کرسب مجمع کاکھڑے ہوجانا۔اس قسم کی تخصیصات اورقیودات کی وجہ سے مولوی اشرف علی تھانوی صاحب کو کچھ اشتباہ ہوگیا۔ اس اشتباہ کو دورکرنے کے لیے انہوں نے مولوی رشیداحمدصاحب کویہ خط لکھا جس کے ضمن میں تقلیدکا ذکربھی آگیا۔ یہ خط بہت طویل ہے۔ ہم بقدرضرورت نقل کرتے ہیں۔ اس کے بعدمولوی رشیداحمدصاحب کا جواب نقل کریں گے۔انشاء اللہ

مولوی اشرف علی صاحب کے خط کی نقل

’’اب اس وقت دو امرقابل عرض  ہیں کہ تقلیدمطلق کی آیا مطلقاً ممانعت ہے یا جبکہ اس قیدکومرتبہ مطلق میں سمجھاجائے یعنی اگرمطلق واجب تھا تو قیدکوبھی واجب سمجھاجائے اور اگرمندوب وموجب قرب تھا تو قیدکوبھی مندوب وموجب قرب سمجھاجائے۔ درصورت اولی تقلیدات عادیہ میں شبہ ہوگا اورصورت ثانیہ میں جب مطلق کوعبادت سمجھا اور قیدکو بناءً علی مصلحۃ تاعادت سمجھاجائے توفی نفسہ اسمیں قبح نہ ہوگا۔ اگرمودی بہ فسادعقیدہ عوام ہو اس میں قبیح بغیرہ ہوگا لیکن اسکا فاعل زبان سے اصلاح عقیدہ عوام باعلان کرتا رہے۔ اس وقت بھی رہیگایانہیں؟ اگر نہیں رہیگا فبہا۔ اور اگررہے گا تواس صورت میں بعض اعمال میں جوعوام میں شائع ہورہے ہیں اورظاہراً ان کی عقیدت میں ان کی نسبت غلووافراط بھی ہے اورخواص کے فعل بلکہ حکم سے اورقول سے بھی اس کی تائیدہوتی ہے اوراس کاوجوب شرعی بھی کسی دلیل سے ثابت نہیں ہوا اورعوام بلکہ خواص میں اس پر مفاسدبھی مرتب ہورہے ہیں۔ ایسے اعمال میں شبہ واقع ہوگا۔مثلاً تقلیدشخصی عوام میں شائع ہورہی ہے اور وہ اس کوعلماً وعملاً اس قدرضروری سمجھتے ہیں کہ تارک تقلید سے گوکہ اس کے تمام عقائدموافق کتاب وسنت کے ہوں اورقدربغض ونفرت رکھتے ہیں کہ تارکین صلاۃ فساق وفجار سے بھی نہیں رکھتے۔ اورخواص کاعمل وفتوے وجوب اس کامؤیدہے گوخود ان کوعلی سبیل الفرض اس قدرغلونہ ہو اور دلیل ثبوت اس کی یہ مشہور ہے کہ ترک تقلیدسے مخاصمت ومنازعت ہوتی  ہے جوکہ ممنوع ہے۔ سومؤدی الی الممنوع ممنوع ہوگا۔ پس اس کی ضدواجب ہوگی مگر دیکھاجاتاہے کہ بوجہ اختلاف آراء علماء وکثرت روایات مذہب واحدمیں اتفاق واتحادپایاجاتاہے۔ غرض اتفاق واختلاف دونوں جگہ ہے اورمفاسدکا مترتب یہ کہ اکثرمقلدین عوام بلکہ خواص اس قدر جامدہوتے ہیں کہ اگرقول مجتہدکے خلاف کوئی آیت یاحدیث کان میں پڑتی ہے ان کے قلب میں انشراح وانبساط نہیں رہتا۔ بلکہ اول استنکارقلب میں پیداہوتاہے۔ پھرتاویل کی فکرہوتی ہے خواہ کتنی ہی بعید ہوخواہ دوسری دلیل قوی اس میں اس تاویل کی وقعت نہ ہومگرنصرت مذہب کے لیے تاویل ضروری سمجھتے ہیں۔ دل یہ نہیں مانتاکہ قول مجتہدکوچھوڑکرحدیث صحیح صریح پرعمل کرلیں۔بعض سنن مختلف فیہامثلاً آمین بالجہروغیرہ پرحرب وضرب کی نوبت آجاتی ہے اورقرون ثلاثہ میں اس کا شیوع بھی نہ ہواتھا۔ بلکہ کیف مااتفق جس سے چاہا مسئلہ دریافت کرلیا۔ اگراس امرپراجماع نقل کیاگیاہے کہ مذاہب اربعہ کوچھوڑکرمذہب خامس مستحدث کرناجائزنہیں یعنی جومسئلہ چاروں مذہبوں کے خلاف ہواس پرعمل جائز نہیں کہ حق دائرہ منحصران چاروں میں ہے۔ مگراس پرکوئی دلیل نہیں کیونکہ اہل ظاہرہرزمانہ میں رہے اوریہ بھی نہیں کہ سب اہل ھَوَایَ ہوں وہ اس اتفاق سے علیحدہ رہے۔ دوسرے اگراجماع ثابت بھی ہوجائے مگرتقلیدشخصی پرتوکبھی اجماع بھی نہ ہوا۔ البتہ ایک واقع میں تلفیق کرنے کومنع لکھاہے تاکہ اجماع مرکب کےخلاف نہ ہوجائے باوجودان سب امورکے تقلیدشخصی کااستحسان ووجوب مشہور ومعمول ہے۔ سو اس کا قبح کس طرح مرفوع ہوگا‘‘؟انتہی عبارتہ     (تذکرۃ الرشیدحصہ اول صفحہ 130۔131)

مولوی رشیداحمدصاحب کاجواب

’’اربندہ رشیداحمدعفی عنہ ۔بعدسلام مسنون مطالعہ فرمانیدہ خط آپ کاآیا بظاہرآپ نے جملہ مقدمات محررہ بندہ کوتسلیم کرلیا اورقبول فرما لیا۔ البتہ تقلیدشخصی کی نسبت کچھ تردّد آپ کوباقی ہے لہذااس کاجواب لکھواتا ہوں مقیدبامرمباح میں اگرمباح حدسےنہ گزرے یا عوام کوخرابی میں نہ ڈالے توجائز ہے اور اگردونوں سے کوئی امرواقع ہوجائے تو ناجائز ہوگا۔اس مقدمہ کوخودتسلیم کرتے ہو۔اب تقلیدکوسنو۔کہ مطلق تقلید مامور بہ ہے۔

 لقولہ تعالی ’’فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ‌ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ ‘‘

اوربوجہ دیگرنصوص مگربعد ایک مدت کے تقلیدغیرشخصی کے سبب مفاسد پیدا ہوئے کہ آدمی بہ سبب اس کے لااُبالی اپنے دین سے ہوجاتاہے۔ اور اپنی ہوائے نفسائی کا اتباع گویا اس میں لازم ہے کہ طعن علماء مجتہدین وصحابہ کرام اس کا ثمرہ ہے۔ ان امورکے سبب باہم نزاع بھی پیداہوتاہے۔ اگرتم بغور دیکھوگے تو یہ سب امورتقلیدغیرشخصی کے ثمرات نظرآئیں گے اور اس پر ان کا مرتکب ہونا آپ پر واضح ہوجائے گا۔ لہذاتقلیدغیرشخصی اس بدنظمی کےسبب گویا ممنوع من اللہ ہوگئی۔ پس ایسی حالت میں تقلیدشخصی گویا فرض ہوگئی اس واسطے کہ تقلید مامور بہ کی دو2نوع ہیں۔ شخصی وغیرشخصی۔شخصی بمنزلہ جنس ہے اورمطلق کا وجودخارج میں بدوں اپنے کسی فردکے محال ہے- پس جب غیرشخصی حرام ہوئی بوجہ لزوم مفاسد تو اب شخصی معین مامور بہ ہوگئی اور جو چیز کہ خدا تعالی کی طرف سے فرض ہو اگراس میں کچھ مفاسدپیدا ہوں اور اس کا حصول بدون اسی ایک فردکے ناممکن ہو تو وہ فردحرام نہ ہوگا بلکہ ازالہ ان مفاسد کا ان سے واجب ہوگا۔ اور اگرکسی مامورکی ایک نو ع میں نقصان ہو اور دوسری نوع اس نقصان سے سالم ہو تو وہی فرد خاصتہ ً مامور بہ بن جاتاہے۔ اور اس کےعوارض میں اگرکوئی نقصان ہو تو اس نقصان کو ترک کرنا واجب ہوگا نہ اس فرد کا یہ حال وجوب تقلیدشخصی کاہے۔ اسی واسطے تقلیدغیرشخصی کوفقہاء نے کتابوں میں منع لکھاہے۔ مگرجو عالم غیرشخصی کےسبب مبتلا ان مفاسد مذکورہ کا نہ ہو اور نہ اس کےسبب سے عوام میں ہیجان ہو اس کی تقلیدغیرشخصی اب بھی جائز ہوگی۔ مگر اتنا دیکھنا چاہیئے کہ تقلیدشخصی وغیرشخصی دو نوع ہیں کہ شخصیت وغیرشخصیت دونوں فصل ہیں جنس تقلیدکی کہ تقلید کا وجود بغیر ان فصول کے محال ہے۔ کیونکہ یہ فصول ذاتیات میں داخل ہیں پس اس کا حال قیودمجلس میلاد سے جدا ہے بادی النظرمیں یہ دونوں یکساں معلوم ہوتے ہیں ورنہ اگرغورکیا جائے تو واضح ہے کہ ذکر ولادت جدا شئے ہے اورفرش فروش روشنی وغیرہ قیودمبحوثہ کوئی فصل ذکرکی نہیں بلکہ امورمنضمہ ہیں کہ بدوں ان کے اوپرکے کلیہ سے مباح منضم  کا حال معلوم ہوچکا کہ جب تک اپنی حدپرہوگاتوجائز اورجب اپنی حدسےخارج ہواتو ناجائز۔ اورامورمرکبہ میں اگرکوئی ایک جزوبھی ناجائز وحرام سے حرام ہوتاہے ۔یہ کلیہ فقہ کا ہے۔ میں امیدکرتا ہوں کہ اس تقریر سے آپ کی اس طویل تقریر کا جواب حاصل ہوگیا ہوگا۔ جوآپ نے دوبارہ تقلیدلکھی ہے لہذا زیادہ بسط کی حاجت نہیں ہے کیونکہ تم خودفہیم ہو۔‘‘انتہی کلامہ ۔  (تذکرۃ الرشیدحصہ اول صفحہ 132۔133)

محدث روپڑی صاحب فرماتےہیں :

مولوی رشیداحمدصاحب کے جواب کاخلاصہ یہ ہے کہ آیۃ کریمہ :

’’فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ‌ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ ‘‘

میں مطلق تقلیدکاحکم ہے اور اس کی دونوع ہیں۔ شخصی اورغیرشخصی۔ غیرشخصی اگرچہ کچھ مدت تک جاری رہی مگربعدایک مدت کے اس میں مفاسد پیدا ہوگئے اس لیے یہ ممنوع ہوگئی اورتقلیدشخصی واجب ہوگئی۔ کیونکہ مطلق تقلید کے اداکرنے کی یہی ایک صورت باقی رہ گئی ہے اوراس میں بھی کچھ مفاسدپیدا ہوں تو ان مفاسدکو دورکرنا چاہیے۔ نہ کہ تقلیدشخصی کوحرام کہاجائے ۔

ناظرین خیال فرمائیے کہ اس جواب میں مولوی رشیداحمدصاحب نے کیسے آنسو پونچھے ہیں۔ اتنا خیال نہیں کیا کہ جب تقلیدغیرشخصی مفاسدکی وجہ سے ممنوع ہوگئی توتقلیدشخصی کیوں ممنوع نہ ہوگی اورجیسے تقلیدشخصی سے پیدا شدہ مفاسد دور ہوسکتے ہیں توتقلیدغیرشخصی سے مفاسدکیوں دورنہیں ہوسکتے ؟ اگریہ خیال ہوکہ تقلیدغیرشخصی میں مفاسد زیادہ ہیں تو یہ بھی خلاف واقعہ ہے۔ چنانچہ ہم نے تعریف اہلحدیث حصہ دوم میں صفحہ 83سے صفحہ 145تک اس کی کافی تفصیل کی ہے اورمولوی اشرف علی صاحب کا مذکورہ بالا خط بھی اس کا شاہد عدل ہے بلکہ تقلیدغیرشخصی میں قطعاً مفاسدنہیں کیونکہ خیرقرون کی روش ہے اور جو مفاسدمولوی رشیداحمدصاحب نےذکرکیے ہیں۔ وہ درحقیقت خیرقرون کی روش کی مخالفت سے پیدا ہوتے ہیں۔ خواہ اس طرح سے مخالفت کی ہو کہ تقلیدشخصی شروع کر دی یا اس طرح سے مخالفت کی ہوکہ قرآن وحدیث کا مطلب سلف کے خلاف سمجھا ہو۔ اس طرح سے مخالفت کی ہوکہ اپنی پیدائش ،وفات ،بیاہ ،شادی وغیرہ میں افراط وتفریط سے کام لیا ہو۔ بہرصورت سب مفاسد کا منبع مخالفت سلف ہے۔موافقت سلف اگرمفاسد کا منبع ہو تو ان کوخیرقرون کہنا ہی صحیح نہیں۔ کیونکہ خیرقرون کے معنے یہ ہیں کہ ان کی روش سب روشوں سے بہترہے۔

پھراخیرمیں مولوی رشیداحمدصاحب نے میلاد مروجہ تقلید میں جوفرق بتلایا ہے کہ ذکر ولادت ان قیودکے بغیرہوسکتاہے اورتقلید کا وجود بدوں ان فصول وشخصیت اورغیرشخصیت کے محال ہے۔‘‘یہ بھی غلط ہے کیونکہ خیرقرون میں (حسب زعم ان کے)تقلیدتھی اورشخصیت نہ تھی اورمقلدین میں تقلیدہے اورغیرشخصیت نہیں۔ پس دونوں کے بغیرتقلیدکا وجود پایا گیا۔

اگرکہاجائے کہ دونوں میں سے ایک کا ہونا ضروری ہے۔ یعنی یہ نہیں ہوسکتا کہ تقلید کا وجود ہو اور وہاں نہ شخصیت ہو نہ غیرشخصیت۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ جیسے شخصیت کے ساتھ غیرشخصیت کولیا ہے اسی طرح میلاد میں قیودکے ساتھ غیرقیودکولیاجائے توتقلیدمیں اورمیلادمیں کچھ فرق نہیں رہے گا۔ یعنی جیسے تقلیدمیں شخصیت اورغیرشخصیت سے ایک کا ہونا ضروری ہے اسی طرح ذکر ولادت میں قیود اورغیرقیود سے ایک کا ہونا ضروری ہے۔ پس جیسے شخصیت غیرشخصیت فصل ہیں اسی طرح قیود و غیرقیودبھی فصل ہوں گے۔

یہ جواب تو مولوی رشیداحمدصاحب کی روش کے موافق تھا اب اصل تحقیق سنیے:

اصل تحقیق

مولوی رشیداحمدصاحب نے یہاں ڈبل غلطی کی ہے اورتقلیدکی خاصیت ہی ایسی ہے کہ اس کے مرتکب کو سیدھی بات نہیں سوجھتی۔ کیونکہ تقلیدخود ایک ٹیڑھا رستہ ہے۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ شخصیت کے دومعنے ہیں۔ ایک یہ کہ جب مسئلہ پوچھنے کی ضرورت ہوتو کسی شخص سے پوچھے غیرشخص سے نہ پوچھے اوریہ بات ظاہرہے کہ شخصیت محل نزاع نہیں اور نہ ہوسکتی ہے۔ کیونکہ دنیا میں جو ہے شخص ہی ہے نہ کہ غیرشخص تو غیرشخص سے پوچھنے کی کوئی صورت نہیں۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ پوچھنے کے لیے ایک شخص کومعین کرلے۔ یعنی دل میں اس بات کا التزام کرلے کہ ہرمسئلہ فلاں شخص سے پوچھوں گا یہ شخصیت محل نزاع ہوسکتی ہے اورہے۔ کیونکہ اس کے مقابلہ میں غیرشخصیت ہے۔جس کی صورت یہ ہے کہ اس قسم کا التزام نہ کرے۔خواہ ایک سے پوچھنے کا اتفاق ہو یاکئی ایک سے اتفاق ہو تواس کاغیرشخصیت ہونا ظاہرہے۔ اگر ایک سے اتفاق ہو تو اس کے غیرشخصیت ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس نے التزام نہیں کیا۔ مثلاً وہ ایک جگہ رہتاہے اور وہاں ایک ہی عالم ہے تو اس سے ہمیشہ مسئلہ پوچھ کرعمل کرلیتاہے مگردل میں یہ التزام نہیں کہ اگرکوئی دوسراعالم یہاں آجائے یا مجھے دوسری جگہ جانے کااتفاق ہو تو پھربھی اسی کامسئلہ مانوں گا۔ تویہ صورت غیرشخصیت ہی ہوگی کیونکہ اس شخص معین کاالتزام نہیں کیا بلکہ اتفاق ایسا ہوگیاکہ وہ ایک ہی سے پوچھتارہا۔

جب شخصیت کے دونوں معنے معلوم ہوچکے اوریہ بھی معلوم ہوچکا کہ دوسرامحل نزاع ہے نہ کہ پہلا تو اب بتلائیے کہ اس التزام کومسئلہ پوچھنے میں کیا دخل ہے ؟ ظاہرہے کہ کوئی دخل نہیں جیسے میلاد مروج میں ذکر ولادت کے ساتھ قیود زائدلگے ہوئے ہیں۔ جن کومولوی رشید احمد صاحب نے امور منضمہ کہاہے۔ اسی طرح کسی سے مسئلہ پوچھنے کے ساتھ اس قسم کا التزام ایک قید زائد یا امرمنضم ہے۔ پس کوئی وجہ نہیں کہ میلاد مروج کو تو بدعت کہاجائے اورتقلیدشخصی متنازعہ فیہ کو بدعت نہ کہاجائے۔

منطقی اصلاحات میں ڈبل غلطی

مولوی رشید احمدصاحب نے اس جگہ منطقی اصلاحات میں بڑی ڈبل غلطی کی ہے۔خدا جانے مہارت نہ تھی یاتقلید کے اثرسے ایسا ہوا ۔ دیکھیے! شخصیت کے معنے میں دھوکہ کھا کر اس کوفصل قرار دینا تو الگ رہا اس کے مقابلہ میں غیرشخصیت کوبھی فصل قراردے رہے ہیں۔ حالانکہ غیرشخصیت مفہوم عدمی ہے جوکسی صورت وجودی شئے (تقلید) کافصل بننے کے قابل نہیں۔ پھر اس سے بڑھ کردیکھیے یہ کس قدرغلطی کی ہے کہ فرماتے ہیں۔’’مطلق تقلید ماموربہ ہے

لقولہ تعالی ’’فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ‌ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ ‘‘

اوراس کی دونوع شخصی اورغیرشخصی قرار دی ہیں اور یہ خیال نہیں کیا کہ جس مطلق تقلید کا امر اس آیت میں ہے وہ غیرشخصی ہے۔ کیونکہ التزام کی قیدنہیں اورقرآن وحدیث میں جوقید نہ ہو اس قید کا اضافہ کرنا قرآن وحدیث کی مخالفت ہے۔ تو پھرشخصی اس کا نوع کیسے بنی؟اگراس کو اصولی طورپرسمجھناہو تو یوں سمجھئے کہ :نورالانوا وغیرہ میں لکھاہے کہ خبرواحدکے ساتھ کتاب اللہ پر زیادتی درست نہیں۔ جیسے اللہ تعالی فرماتاہے

’’فَاقْرَ‌ءُوا مَا تَيَسَّرَ‌ مِنَ الْقُرْ‌آنِ‘‘

اس آیت میں مطلق قرأت کاحکم ہے توحدیث کے ساتھ اگر فاتحہ کی تعیین کی جائے تویہ کتاب اللہ پرزیادتی ہے جونسخ ہے۔ پس اسی طرح تقلیدشخصی کا ’’فاسئلوااہل الذکر‘‘ کے خلاف سمجھنا چاہیے نہ کہ مامورمیں داخل ہے۔ بلکہ زیادہ خلاف سمجھنا چاہیے۔کیوں کہ تقلیدکی بابت تو کوئی حدیث بھی نہیں آئی۔

اگراور وضاحت کی ضرورت ہوتوسنیے :

عام بول کر خاص من حیث الخاص کا ارادہ کرنا مجاز ہے کیونکہ اس کی حیثیت سے یہ خاص لفظ کا موضوع نہیں اور یہ بات ظاہرہے کہ لفظ کومجازی معنے پرحمل کرنا اس لفظ کی مخالفت ہے۔ اسی لیے مجازی معنے کے لیے کوئی قرینہ قائم کرنا پڑتاہے۔ جب خاص کر یہ حالت ہے تو بتلایئے کہ تقلیدشخصی (جس کی حقیقت میلاد مروج کی طرح امرمنضم سے پیدا ہوئی ہے) اس آیت میں نوع ماموربہ کس طرح بنی؟

جوکہناہے سوکہہ لیکن سمجھ کرمردنعمانی         چوں کفر ازکعبہ پرخیزد کجا ماندمسلمانی

اسی لیے تعریف اہلحدیث حصہ دوم میں صفحہ 83سے 145تک ہم نے بڑے زوروشور سے لکھاہے کہ تقلیدشخصی قرآن وحدیث کے بھی خلاف ہے اوراجماع صحابہ  بلکہ خیرقرون کی روش کے بھی خلاف ہے۔ اور یہ آیت کریمہ ’’فاسئلوااہل الذکر‘‘وغیرہ میں جس سوال کاذکرہے اول تو وہ تقلید ہی نہیں بلکہ قرآن وحدیث کی اتباع ہے اگرکوئی زورا زوری اس کانام تقلیدرکھ لے تواس کی خوشی۔ وہ خواہ مجتہدکوبھی مقلدکہہ دے کیونکہ مجتہدبھی قرآن وحدیث کی اتباع کرتاہے ،سچ ہے۔

جنوں کانام خردرکھ دیاخروکاجنوں              جوچاہے آپ کاحسن کرشمہ سازکرے

ایک بات یہاں اورسنیے :

جس تقلیدکی نسبت اصل نزاع ہے وہ چار اماموں کی تقلیدہے جس کی صورت یہ ہے کہ کسی امام سے مسئلہ پوچھنے کے وقت یوں کہاجائے کہ اس مسئلہ میں امام ابوحنیفہ صاحب ؒ کا یا فلاں امام کا ارشادہے ؟ اور آیۃ کریمہ ’’فاسئلوااہل الذکر‘‘ میں جس سوال کا ذکرہے اس کی صورت یہ ہے کہ علم نہ ہو تو کسی علم والے کوکہے کہ اس مسئلہ میں خدارسول ﷺ کاکیاارشادہے نہ کہ معصوم کی جگہ غیرمعصوم ....امام ابوحنیفہ ؒ کو یا کسی اور امام کو دیکر یوں کہے کہ اس مسئلہ میں امام ابوحنیفہ ؒ کا یا فلاں امام کا کیا ارشادہے۔ اب بتلائیے کہ اس آیت کوتقلید متنازعہ فیہ سے کیا تعلق؟ اگر امام صاحب ؒ زندہ ہوتے تو ان سے یہی سوال ہوتا کہ اس مسئلہ میں خداورسول ﷺ کاکیا ارشادہے۔ اور اہل الذکر میں ذکرسے مرادکتاب اللہ ہے۔ یہ بھی اسی پر دلالت کرتاہے کہ خداورسول ہی کا ارشاد پوچھے۔ بلکہ ’’ان کنتم لاتعلمون‘‘ کے بعد بالبینات والزبر ہے۔ وہ بھی اسی طرف اشارہ ہے اورمسلمان کی شان بھی یہی ہے کہ خداورسول کا ارشاد پوچھے نہ یہ کسی امام کے مذہب کا التزام کرکے یوں سوال کرے کہ فلاں امام کاکیا ارشادہے۔ پھرخدا جانے اس آیت کومحل متنازعہ فیہ میں کیوں پیش کیاجاتاہے اس آیت میں نہ اس التزام کاکوئی ذکرہے نہ اس طرح سوال کرنے کاکوئی اشارہ ہے۔ ان باتوں پر اس آیت سے استدلال کرنا الفاظ آیت سے نہایت بعیدہے۔ تعجب ہے کہ اصول فقہ میں توخبرِواحد سے مطلق کومقیدکرنے کی اجازت نہیں دی۔ یہاں اپنی طرف سے ہی سب تصرفات ہورہے ہیں۔

جہاں ہماراذوالجلال                         گدھاخچرسبھی حلال

واللہ!ہمیں رہ رہ کرتعجب آتا ہے کہ ایک کام رسول اللہﷺ دو طرح سے کرتے ہیں۔ جیسے نماز سے سلام پھیرکرکبھی دائیں طرف منہ کرکے بیٹھناکبھی بائیں طرف۔ اس میں ایک جانب کا التزام توشیطانی کام ہو جیساکہ عبداللہ ابن مسعود سے روایت ہے۔ اور ایک دوسرا کام جس پرعمل ہونا توکجا قرآن وحدیث کے بھی خلاف ہے اور اجماع صحابہ  بلکہ خیرقرون کی روش کےبھی خلاف ہے بلکہ اصول فقہ کے بھی خلاف ہے۔ اس کوآج رحمانی کام کہا جاتا ہے بلکہ اعلی سے بھی اعلی درجہ تک پہنچایا جاتاہے یعنی فرض خیال کیاجاتاہے۔

 بہ بیں تفاوت رہ ازکجاست تایکجا

ناظرین !خیال فرمائیں کہ افتاء کے گدی نشینوں کی بے خبری آج کہاں تک نوبت پہنچا رہی ہے خیراورعلوم خاص کرقرآن وحدیث سے ان کی بے خبری تو کوئی تعجب کی بات نہیں۔ کیونکہ تقلیدکی اندھیری کوٹھڑی میں پڑے ہیں۔ مگرجب ہم ان کے اصول فقہ میں جو ان کے تقلیدی مذہب کی روح رواں ہے۔ کمزورپاتے ہیں تو بے ساختہ زبان سے نکل جاتاہے۔

          نہ خداہی ملانہ وصال صنم             نہ اِدھرکے رہے نہ اُدھرکے رہے  

وباللہ التوفیق

 


فتاویٰ ابن باز

جلد اول

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ