ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:
الحمدللہ
جب خاوند کے حرام کردہ کام کا ارتکاب کرے مثلا باجماعت نماز کی ادائيگي میں سستی ، یا نشہ کرنا ، یا پھر رات بھر جاگنا ، توعورت اس پر اپنے خاوند کونصیحت کرے تواس میں وہ گنہگار نہیں بلکہ وہ عنداللہ ماجور ہوگي ۔
اوراس میں مشروع یہ ہے کہ نصیحت کرنے میں رویہ نرم ہو اوراسلوب بھی اچھا اوربہتر استعمال کیا جائے ، اس لیے کہ ایسا کرنے میں اس کی قبولیت زيادہ ہوگي اورفائدہ بھی ہوگا ۔ ان شاء اللہ ۔ .
فضیلۃ الشیخ عبدالعزيز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ تعالی دیکھیں میگزين : المجلۃ الحسبۃ عدد نمبر ( 39 ) ص نمبر ( 15 ) ۔