سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(13) ضاد کو دال کے مشابہ پڑھنا

  • 26106
  • تاریخ اشاعت : 2018-05-05
  • مشاہدات : 284

سوال

 السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا فرماتےہیں علمائے دین ومفتیان ثمرع متین وقاریان قرآن مجید دو واقفان علم تجوید اس مسئلہ میں کہ اصل صوت ضاد معجمہ کے مشابہ دال مغمہ کے ہے یامشابہ ظائے معجمہ کے اور اگر کوئی شخص ضاد کی جگہ دال مہملہ پڑھے تو نماز اس کی فاسد ہوگی یا نہیں اور ایسے ہی اگر کوئی شخص بجائے ضاد ظاپڑھے بایں جہت کہ ادا کرناضاد کا مخرج سے سخت دشوار ہے اور مشابہت دونوں میں بہت ہے اور فرق کم تو بھی نماز اس کی فاسد ہوگی  یا نہیں اور جو شخص اصرار کرے اس بات پر کہ ضاد کو مشابہ ظا کے پڑھنے سے نماز فاسد ہوجاتی ہے اورجماعت میں تفرقہ ڈالے اس کا کیا حکم ہے۔بینوا توجروا۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

صوت ضاد معجمہ کی ہرگز مشابہ دال مفخمہ کے نہیں اور پڑھنا اس کامشابہ دال کے بالکل غلط ہے بلکہ وہ مشابہ ظائے معجمہ کے ہے پس یہاں دو امر ہیں اول مشابہ نہ ہونا  ضاد معجمہ کا دال مہملہ کے دوم یہ کہ وہ مشابہ ظائے معجمہ کےہے پہلے امر کا بیان یہ ہے کہ دال مہملہ اور ضاد کے مخرج میں بھی مبائنت ہے اور اکثرصفات میں بھی مفائیرت ۔مخرج دونوں کا علیحدہ ہوناتو مثل آفتاب ظاہر ہے اس واسطے کہ مخرج ضاد کا تمام کنارہ زبان کا اورکرسی اوپر کے دونوں ڈاڑھوں کی جن کواضراس کہتے ہیں داہنی ہوں خواہ پائیں اور مخرج دال کا نوک زبان اور جڑ اوپر کے دونوں دانتوں کی ہے جن کو ثنایائے علیا کہتے ہیں۔

علامہ زمخشری تفسیر کشاف میں لکھتے ہیں:"مخرجا أن الضاد مخرجهامن أصل حافة اللسان وما  يليها من الأضراس " [1]

 اور قاضی ناصرالدین بیضاوی انوار التنزیل میں ترقیم کرتے ہیں۔

"مخرجا  أن  الضاد  مخرجها من أصل حافة اللسان وما يليها من الأضراس "

ایسے ہی رضی اور جہد المقل اور اتقان اور شرح جزری اورشافیہ میں ہے باقی رہی مفائرت صفات میں سوبیان اس کا یہ ہے کہ اکثر صفات ضاد کی مبائن ومضاد ہیں صفات دال کے اور وہ صفات سات ہیں۔

1۔قلقلہ                                                   2۔شدت

3۔اصمات                                              4۔انفتاح

5۔ترقیق                                                 6۔استفسال

7۔آنی ہونا بھی صفت دال ہے۔

مولانا محمد مرعشی جہد المقل میں کہ کتاب نہایت عجیب وغریب ہے۔علم تجوید میں فرماتے ہیں۔الرخاوۃ وللجھر والاستعلا ردالاطباق والتفخیم والاستطالۃ والاصمات من صفات الضاد المعجمۃ والنفشی عند البعض ایضا انتھی اور ساکنہ بھی ضاد کی صفت ہے کمافی منھاج النشرو طیبۃ النشر والعدۃ وخلاصۃ النوادر وغیرھا اب غور کرو کہ اکثر صفات دال اور ضاد میں تبائن وتضاد ہے دیکھو فلقلہ ضد سکون ہے اور شدت۔ضد رخاوت اورانفتاح ضد اطباق اورترقیق ضد تفخیم اور استسفال ضد استعلا ادرآنی ہونا ضد استطالت اورضاد میں تفشی ہے دال میں نہیں  پس ثابت ومحقق ہوا کہ ضاد اور دال میں مبائنت کلی ہے باعتبار مخرج اور اکثر صفات کے پس پڑھنا ضاد کا مشابہ دال کے صوت میں باطل وغلط ہے کیونکہ مثل تباشیرصبح تابان ودرخشاں ہے کہ ضاد کو مشابہ دال مہملہ پڑھنا محال عادی ہے مگر دال کی مخرج اور اس کی صفات سے اور عیان ہے کہ جو داں کی مخرج سے اور اس کی صفات سے ادا ہوگا وہ ضاد نہ ہوگا۔

"حروف اپنے مخرج سے متجاوز نہیں ہوسکتے جہد المقل کی شرح میں ہے اور انہوں نے اپنی زبان کے کناروں کوڈبڈھوں کے ساتھ ملایا ہے۔"

بلکہ وہ دال ہوگی۔اوردوسرے امر کا بیان یہ ہے کہ ضاد اور ظامشترک ہیں اکثر صفات میں گومبائن ہیں مخرج میں صفات ضاد کی ابھی معلوم ہوچکیں اورصفات ظاکی یہ ہیں جہر رخاوت استعلا اطباق تفخیم اصمات جہد المقل اور اس کی شرح میں ہے:

"الاصمات والجهر والرخاوة والاستعلاء والاطباق والتفخيم من صفات الظاء المعجمة انتهي"

اور بعض کے نزدیک ساکنہ بھی ظا کی صفت ہے ۔کما فی منھاج النشر وطیبۃ النشر وغیرھا۔اب دیکھو کہ صفات ضاد اور ظا میں کس قدر اتفاق ہے کہ بجز استطالت کے اور کچھ فرق نہیں ومعہذا اشتراک مذکور کتب معتمدہ میں بخوبی مصرح ہے۔اتقان فی علوم القرآن میں مسطور ہے:

"الضاد والظاء اشتر كا صفة جهر ادرخاوة واستعلا اوانفردت الضاد بالاستطالة انتهي"     

اوررسالہ مولانا عبدالرحیم صاحب میں مذکور ہے ۔صفت ضاد موافق ظا است انتہی اور اشتراک ضاد اور ظا اک دلیل ظاہر اوربرہان باہر ہے مشابہت صوتی پر بلاشبہ چنانچہ علمائے محققین نے تصریح فرمائی ہے شیخ القراء استاذ المجودین علامہ ابوطالب مکی رعایہ میں ارشاد فرماتے ہیں:

"والضاد يشبه لفظها بلفظ الظاء، لأنها من حروف الإطباق، ومن الحروف المستعلية ومن الحروف المهجورة، ولولا اختلاف المخرجين وما في الضاد من الاستطالة، لكان لفظهما واحدًا، ولم يختلفا في السمع"

اور امام رازی تفسیر کبیر میں لکھتے ہیں:

المختارعندنا أن اشتباه الضاد بالظاء لا يبطل الصلاة ويدل عليه أن المشابهة حاصلة فيهما جدا والتميز عسير"

اور مولانامرعشی جہد المقل میں ترقیم فرماتے ہیں:

"الفرق بين الضاد والظاء والذال المعجمات الكل متشاركة في الجهر والرخاوة ومتشابهة في السمع ولكن الأخيرين من مخرج واحد والضاد ليس من مخرجهما"

اور اس کے بعد لکھتے ہیں۔

"فإذا نطقت بالضاد المعجمة من مخرجها وصفاتها فيشبه صوتها صوت الظاء المعجمة بالضرورة "

اور خلاصہ کلام یہ کہ تمام فقہائے اعلام ان حرفوں کی مثال میں کہ جن میں مشابہت زیادہ ہے اور فرق دشوار کا لضاد مع الظاء لکھتے ہیں چنانچہ درمختار اور فتاوی جزریہ اور رسائل الارکان ادرخلاصۃ الفتاوے اور رد المختار حاشیہ درمختار اورکتابوں میں مرقوم ہے پس اگرضاد اور دال میں مشابہت ہوتی تو بجائے کالضاد مع الظاء کے کالضاد مع الدال کہتے واذ لیس فلیس بالجملہ باتفاق علمائے تجوید وفقہا ومفسرین اورتمام محققین ثابت اور محقق ہے کہ ضاد صوت میں مشابہ ظاء کے ہے نہ مشابہ دال کے پس اس کو مشابہ ظا کے پڑھنا صحیح اور درست ہے اور مشابہ دال کے پڑھنا غلط اور بے اصل۔اورپڑھنا دال کامقام ضاد کے غلط محض ہے اور باطل صرف کیونکہ کیونکہ پڑھنا دال کا بجائے ضاد مثل پڑھنے ظا کے ہے بجائے صاد اور وہ مفسد نماز ہے وقت تغیر معنے کے چنانچہ کتب معتمدہ مثل فتح القدیر وفتاوے قاضی خان وعالمگیری وغیرہ میں مصرح ہے بلکہ علمائےاعلام نے بعض مقامات پر تصریح کی ہے اس بات کی کہ دال مہملہ کو بجائے ضاد معجمہ کے پڑھنے سے نماز فاسد ہوجاتی ہے۔غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی میں مذکور ہے۔خضر بالدال المھملۃ اوالمعجمۃ مکان الضاد تفسد ۔

اور بجائے ضاد کوئی شخص ظائے معجمہ پڑھے بسبب تعسر فرق اور زیادتی مشابہت کے تو نماز اس کی فاسد نہ ہوگی اس واسطے کہ ادا کرنا اس کا بہت دشوار ہے فتاویٰ قاضی خان میں موجود ہے۔

"فان امكن الفصل بين الحرفين من فيرمشقة كالطاء مع الصادفقرأ الطالعات وكان الصالحات تفسد صلونه"

اور خلاصۃ الفتاویٰ میں ہے:

"وان كان لايمكن الفصل بين الحرفين الا بمشقة كالظا ء مع الضاد والصاد مع السي ....."

اوربرہان میں مرقوم ہے:

"أن الفصل إن كان بلا مشقة كالظاء مع الضاد فقرأ الطالحات مكان الصالحات تفسد , وإن كانبمشقة الضاد مع الظاء , والسين مع الصاد والطاء مع التاء قيل : تفسد وأكثرهم : لا..."

اور مولانا شیخ جمال ابن عبد اللہ مفتی مکہ معظمہ نے اپنے فتوے مہری میں لکھا ہے:

"وابدال الضاد ظاء وهي لغة اكثر العرب ومحمد بن سلمة قال لا تفسد لانه قل من يفرق بينهما في اللفظ ونقل هم ان بعض العرب يبدل الضاد بالظاء مطلقا انتهي"[2]

اور جو شخص اصرار کرتا ہے اس بات پر کہ ضاد کو مشابہ ظائے معجمہ کے پڑھنے سے نماز فاسد ہوتی ہے اور فساد وتفرقہ جماعت میں ڈالتا ہے۔وہ شخص خاطی اور جاہل ہے اور نابلد علوم دینیہ سے اور قابل اخراج اور نکالنے کے ہےی مسجد سے اور اگر باوجود افہام وتفہیم کے قبول نہ کرے تو اس کے پیچھے نماز نہ پڑھنا چاہیے تخذیر افقط  واللہ سبحانہ اعلم بالصواب وعند المفاتیح الابواب والیہ الایاب فی کل باب نمقہ العبد الخابل الجافی النیذ امیر احمد التقوی السہسوانی فی عاملہ اللہ بالنور الشعشانی والترحم الصمدانی(سید امیر احمد نقوی 1283)

(احمد۔سید محمد نذیرحسین 1281۔مولوی سراج احمد صاحب شاگرد رشید حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز صاحب۔محمد مسعود بلوی۔حسبنا اللہ بس حفیظ اللہ۔مولوی حفیظ اللہ خان دہلوی)

من اجاب اصاب واجاد فی الجواب واللہ اعلم بالصواب وعندہ ام الکتاب حررہ العبد الضعیف الراجی الی رحمۃ اللہ القوی السید امیر حسین السہوانی النقوی عاملہ اللہ بلطفہ الازلی۔(سید امیر حسن)

(محمد بشیر عفی عنہ۔مولوی محمد بشیر صاحب سہسوانی) (محمد نور اللہ عفی عنہ)

فی الواقع صوت ضاد معجمہ کی مشابہ صوت ظا کے ہے ذال کے نہیں کیونکہ دال اورضادمیں بتائین کلی ہے باعتبار مخرج اور اکثر صفات کے بخلاف ظاء کے کہ اس میں اورضاد معجمہ میں اتفاق سے اکثر صفات میں فقط فرق استطالت کا ہے اور دہ موجب مشابہت کا دال سے نہیں کما لایخفی پس اگر کوئی بجائے ضاد ظا پڑھے نماز اس کی فاسد نہ ہوگی غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی میں مسطور ہے۔

"وان لم يكن كالظاء مكان الضاد والصاد مكان السين وايطاء مع التاء فقد اختلفوا فاكثرهم علي عدم الفساد لعموم البلوي انتهي"

(سید عبدالباری نقوی سہسوانی)

فی الحقیقت ضاد معجمہ مشتبہ الصوت دال مہملہ سے نہیں ظائے معجمہ سے ہے اور ایسے ہی  فتاوی جامع الروایات میں ہے۔واللہ اعلم سبحانہ اعلم۔

(ابوتراب علی) (مولوی تراب علی خانپوری)

ضاد حقیقت میں مشتبہ الصوت ظا سے ہے دال سے نہیں مفتی عنایت صاحب نے بھی محاسن الافضل میں یہی تحقیق فرمایا ہے۔سید سبط احمد نقوی سہسوانی۔الجواب۔حق المجیب محقق۔(محمد عبداللہ)


[1]۔ضاد کا مخرج زبان کے کنارہ اور بالائی ڈاڑھوں کی جڑ ہے۔

[2]۔(خلاصہ عربی عبارات) اگرضاد کو دال کی آواز میں پڑھا جائےگا تو نماز باطل ہوجائے گی اور اس کی صحبت کا کوئی بھی قائل نہیں ہے اور اگردوحرفوں میں آسانی سے امتیاز نہ کیا جاسکے جیسے ضاد اور ظاء سین اور صاد اورطاء تو ایک کے بجائے اگر دوسرا پڑھا جائے تو اکثر کے نزدیک نماز صحیح ہے۔اگر کوئی حرف مقدم موخر ہوجائے یابدل جائے تو اگر معنی میں تبدیل نہ ہوتو نماز درست ہے۔

     ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاوی نذیریہ

جلد:2،کتاب الاذکار والدعوات والقراءۃ:صفحہ:40

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ