سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
(342) مقتدی اقتداء میں زیادہ تاخیر نہ کرے
  • 24352
  • تاریخ اشاعت : 2024-11-10
  • مشاہدات : 851

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک آدمی امام کے پیچھے نماز فرض ادا کرتا ہے جب امام رکوع میں یا سجدے میں جاتا ہے یا سجدہ سے سَر اٹھاتا ہے تومقتدی کافی دیر بعد سجدہ سے سَر اٹھاتا ہے۔ امام سجدہ میں پانچ بار یا سات بار تسبیح پڑھتا ہے تو ایک مقتدی ہے وہ اس سے بھی زیادہ دیر لگاتا ہے کہ امام دوسرے سجدے جا چکا ہوتا ہے اور وہ پہلے ہی سجدے میں پڑا ہے کیا ایسے آدمی کو جماعت کا ثواب ملے گا یا نہیں؟ جس نے امام کی اقتداء نہیں کی۔ باقی حدیث پاک کے حوالہ سے سجدہ کی تسبیح کی تعداد بتائیں کتنی ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

بلا ریب مقتدی کے جملہ افعال امام کے بعد ہونے چاہئیں۔ لیکن امام کی اقتداء سے غافل رہنا نماز کے وجود کو خطرہ میں ڈالنا ہے۔ جو کسی طور درست نہیں۔ لہٰذا اس سے اجتناب ضروری ہے۔ تسبیحات کے لیے کوئی عدد مقرر نہیں۔ حسبِ آسانی پڑھی جا سکتی ہیں۔ علامہ شوکانی رحمہ اللہ  فرماتے ہیں:

’ وَلَا دَلِیلَ عَلٰی تَقیِیدِ الکَمَالِ بِعَدَدٍ مَّعلُومٍ، بَل یَنبَغِی الاِستِکثَارُ مِنَ التَّسبِیحِ عَلٰی مِقدَارِ تَطوِیلِ الصَّلٰوةِ مِن غَیرِ تَقِیِیدٍ بِعَدَدٍ ‘نیل الأوطار:۲۵۶/۲

یعنی تسبیحات مقرر کرنے کی کوئی دلیل نہیں۔ بلکہ نماز کی طوالت کے اعتبار سے اضافہ ہونا چاہیے۔

  ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ حافظ ثناء اللہ مدنی

کتاب الصلوٰۃ:صفحہ:316

محدث فتویٰ

تبصرے