سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(193) کیا رؤیت ہلال وغیرہ میں برقی تار کی خبر معتبر ہے؟

  • 22958
  • تاریخ اشاعت : 2017-09-26
  • مشاہدات : 203

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

امورشرعیہ مثل رؤیت ہلال، طلاق ،عتاق ،ہبہ ،عطیہ، بیع وشراء وغیرہ میں تار برقی کی خبر معتبر ہے یا نہیں؟المستفتی : مولوی ضیاء الرحمٰن ۔کولوٹولہ رتو سرکار لین نمبر6کلکۃ۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

چونکہ تار برقی کی خبر من جملہ اخبار ہے لہٰذا امور شرعیہ میں اس کے معتبر یا نامعتبر ہونے کے بھی وہی شرائط ہیں۔جو عام اخبار کے شرائط ہیں امور شرعیہ میں خبر متواتر توعلی الا طلاق معتبر ہے اس کے راوی کیسے ہی ہوں اس کے راویوں کے حالات کی تفتیش کی کہ وہ ثقہ ہیں یا نہیں کچھ ضرورت نہیں ہے رہی خبر غیر متواتر یعنی خبر آحاد سوخبر آحاد کے معتبر ہونے کی یہ شرط ہے کہ اس خبر کی راستی اور سچائی کسی طریق سے ثبوت کو پہنچ جائے کہ اس خبر کے راوی ثقہ ہیں خواہ اس طریق سے کہ وہاں ایسے قرائن موجود ہیں جو اس خبر کی راستی اور سچائی کو ظاہر کر رہے ہیں۔

واضح ہو کہ ہر ایک تار کی خبر میں کم از کم غا لباً تین راوی ضرورہوتے ہیں جن کے حالات کی تفتیش کہ وہ ثقہ ہیں یا نہیں ؟ایک نہایت ضروری امر ہے بشرطیکہ وہ خبر متواتر نہ ہو یا وہاں ایسے قرآئن موجود نہ ہوں جو اس خبر کی راستی اور سچائی پر دلالت کرتے ہوں۔

1۔وہ تار باب جو معتبر بھیجتا ہے۔

2۔وہ تار بابو جس کے پاس بابو نمبر (1) خبر بھیجتا ہے۔

3۔وہ شخص جو بابو نمبر(1)سے خبر بھیجنے کی استدعاکرتا ہے اور کبھی کبھی یہ استدعا بواسطہ ہوتی ہے تو ایسی حالت میں نمبر (1)و نمبر (3) کے درمیان وہ راوی جو واسطہ پڑتا ہے بڑھ جاتا ہے اور بڑھ کر کبھی سب مل کر چار ہو جاتے ہیں اور کبھی چار سے بھی زیادہ ہوجاتے ہیں جب کہ واسطہ ایک سے زائد ہو جا تا ہے اور کبھی نمبر (3)کے انگریزی میں ہونے کی وجہ سے کسی انگریزی دان سے مضمون تار کے انگریزی میں لکھوانے کی ضرورت پڑتی ہو۔ ایسی حالت میں راویوں کی تعداد اور بھی بڑھ جاتی ہے۔اور بھی واضح ہو کہ نمبر (3)کے حالات کی تفتیش میں صرف اسی قدر کا فی نہیں ہے کہ وہ ثقہ ہے یا نہیں؟ بلکہ اس کی بھی ضرورت ہے کہ اس نے فی الواقع نمبر (1) سے خبر بھیجنے کی استدعا بھی کی ہے یا نہیں؟ کیونکہ کبھی ایسا بھی وقع میں آتا ہے کہ نمبر(3)نے فی الواقع خبرنہیں بھجوائی ہے بلکہ اس کے نام سے کبھی دغا باز نے جھوٹی خبر بھجوا دی ہے جس کی اس کو خبر نہیں۔

اس جواب میں جو جو باتیں لکھی گئی ہیں ہر چند ایسی صاف اور واضح ہیں جن کے لیے کسی کتاب کے حوالے کی ضرورت نہیں ہے تاہم ایک عبارت کتاب"النظر شرح نخبۃ الفکر" سے نقل کردی جاتی ہے وھی ھذہ

)وَفيها) أي: فِي الآحَادِ، (المَقْبُولُ) وَهُو مَا يَجِبُ العَمَلُ بِهِ عِنْدَ الجُمْهُورِ.
)وَ)فيها،(المَرْدُودُ)وَهُو الذي لَمْ يَتَرَجَّحْ صِدْقُ المُخْبِرِ بهِ.
)لِتَوَقُّفِ الاسْتِدْلاَلِ بِهَا عَلَى البَحْثِ عَن أَحْوَالِ رُوَاتِهَا دُونَ الأولِ) وَهُو المُتَوَاتِرُ، فَكُلُّهُ مَقْبُولٌ؛ لإِفَادَتِهِ القَطْعَ بِصِدْقِ مُخْبِرِهِ بِخِلافِ غَيرِهِ مِنْ أَخْبَارِ الآحَادِ. 
لَكِنْ إِنَّمَا وَجَبَ العَمَلُ بِالمَقْبُولِ منها؛ لأنَّها:- إمَّا أَنْ يُوجَدَ فيها أَصْلُ صِفَةِ القَبُولِ، وَهُو ثُبُوتُ صِدْقِ النَّاقِلِ.- أو أَصْلُ صِفَةِ الرَّدِّ، وَهُو ثُبُوتُ كَذِبِ النَّاقِلِ أولا. فَالأولُ: يَغْلِبُ عَلَى الظّنِّ ثُبُوتُ صِدْقِ الخَبَرِ؛لِثُبُوتِ صِدْقِ نَاقِلِهِ فَيُؤخَذُ بِهِ.وَالثَّانِي:يَغْلِبُ عَلَى الظّنِّ كَذِبُ الخَبَرِ؛لِثُبُوتِ كَذِبِ نَاقِلِهِ فَيُطْرَحُ. 
وَالثَّالِثُ:إِنْ وُجِدَتْ قَرِينَةٌ تُلْحِقُهُ بِأَحَدِ القِسْمَيْنِ التَحَقَ،
وَإِلاَّفَيُتَوَقَّفُ فيه. وَإِذَا تُوُقِّفَ عَن العَمَلِ بِهِ صَارَ كَالمَرْدُودِ لاَ لِثُبُوتِ صفةِ الرَّدِّ، بَلْ لِكَونِهِ لَمْ تُوجَدْ فيه صِفَةٌ تُوجِبُ القَبُولَ، وَاللهُ أَعْلَمُ.[1](انتھی واللہ اعلم)

(اخبار آحاد میں سے ایک مقبول ہے اور وہ جمہو ر کے نزدیک واجب العمل ہوتی ہے اور اس میں ایک مردود ہے جس کے منجر کا سچ راجح نہ ہو۔ کیوں کہ اس سے استدلال کرنے کے لیے اس کے راویوں کے احوال کی جانچ پڑتال کرنا پڑتی ہے برخلاف پہلی قسم کے اور یہ متواتر ہے کیوں کہ متواتر تمام کی تمام مقبول ہوتی ہیں اس لیے کہ اخبار آحاد کے برخلاف وہ اپنے منجر کی سچائی کے قطعی علم کا فائدہ دیتی ہے۔البتہ اخبار آحاد میں سے جو مقبول ہے اس پر عمل کرنا واجب ہے کیوں کہ یا تو اس میں اصل صفت قبول پائی جائے گی اور وہ ہے اس کے ناقل کے سچ کا ثابت ہونا یا اس میں اصل صفت رد پائی جائے گی۔اور وہ ہے اس کے ناقل کے جھوٹ کا ثابت ہونا یا اس میں یہ دونوں چیزیں نہیں پا ئی جائیں گے۔ پس (مقبول ) کے متعلق اس کے ناقل کے سچ کے ثابت ہونے کی وجہ سے غالب گمان یہی ہے کہ وہ خبر سچی ہے لہٰذا وہ مقبول ہے جب کہ دوسری کے متعلق اس کے ناقل کے جھوٹ کے ثابت ہونے کی وجہ سے غالب گمان یہی ہے کہ وہ خبر جھوٹی ہے لہٰذا وہ مردودہے۔ رہی تیسری قسم تو اگر اس کو مذکورہ بالا دو قسموں (مقبول و مردود)کے ساتھ ملانے والا کوئی قرینہ مل جائے جو وہ اس کے ساتھ مل جائے گی ورنہ اس میں توقف کیا جائے گا۔ جب اس پر عمل میں توقف کیا جائے تو وہ مردود کی طرح (متروک العمل ) ہوجائے گی لیکن اس وجہ سے نہیں کہ اس میں صفت رد پائی گئی ہے بلکہ اس وجہ سے کہ اس میں صفت قبول نہیں پائی جاسکی )کتبہ: محمد عبد اللہ (14/ذیقعدۃ 1327ھ)


[1] ۔نزھۃ النظر لابن حجر (ص2/1)

  ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

مجموعہ فتاویٰ عبداللہ غازی پوری

کتاب الصوم ،صفحہ:383

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ