سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(215) امام طبرانی کا قول

  • 21980
  • تاریخ اشاعت : 2017-08-26
  • مشاہدات : 489

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

تو کیا ہم امام طبرانی رحمۃ اللہ علیہ  کے اس قول کو قبول کریں؟(فتاوی المدینہ:124)

حافظ طبرانی رحمۃ اللہ علیہ  نے" معجم الصغیر" میں ایک حدیث لانے کے بعد اس کی سند یوں ذکر کی۔

"حدثنا عبداللہ بن محمد بن جمعۃ الدمشقی حدثنا العباس بن الولید بن مزید اخبرنی ابی حدثنا ابن لھیعۃ"پھر اس کے بعد باقی سند لائے۔ پھر فرمانے لگے کہ یزید بن ابی حبیب سے صرف ابن لہیعہ نے روایت کیا ہے اور ولید بن یزید ان لوگوں میں سے ہیں کہ جنہوں نے ابن لہیعہ سے کتابیں جلنے سے پہلے حدیث سنی تھی۔ ’’سوال یہ ہے کہ ابن لہیعہ کے ترجمہ میں اکثر محدثین نے یہ لکھا کہ اس کی کتابیں جل گئی ہیں۔ جلنے سے پہلے صرف عبادلہ ثلاثہ کا اس سے سماع ثابت ہے۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ہم ایک تحفظ کی بنیاد پر ان کے قول کو قبول کریں گے کیونکہ ممکن ہے کہ ان سے یہ بات وہم کی وجہ سے نکل گئی ہو۔ واللہ اعلم ۔

 ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ البانیہ

رواۃ کے حالات کی پہچان    صفحہ:286

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ