سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(293) نماز تراویح کے ساتھ فرض نماز کی نیت کرنا

  • 1749
  • تاریخ اشاعت : 2012-08-08
  • مشاہدات : 1062

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
ایک آدمی مسجد میں دیر سے آتا ہے آگے تراویح کی نماز باجماعت ہو رہی ہے نیا آنے والا فرض نماز کی نیت کر کے تراویح کی نماز کے ساتھ کھڑا ہو جاتا ہے اور اپنی نماز مکمل کرتا ہے کیا اس طرح کرنا درست ہے۔ اور کچھ لاہور کے سلفی لوگ کہتے ہیں کہ تراویح گھر میں پڑھنی چاہیے مسجد میں باجماعت نہیں۔ آپ کیا کہتے ہیں؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک آدمی مسجد میں دیر سے آتا ہے آگے تراویح کی نماز باجماعت ہو رہی ہے نیا آنے والا فرض نماز کی نیت کر کے تراویح کی نماز کے ساتھ کھڑا ہو جاتا ہے اور اپنی نماز مکمل کرتا ہے کیا اس طرح کرنا درست ہے۔ اور کچھ لاہور کے سلفی لوگ کہتے ہیں کہ تراویح گھر میں پڑھنی چاہیے مسجد میں باجماعت نہیں۔ آپ کیا کہتے ہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

نفل نماز کے پیچھے فرض نماز ادا کرنا درست ہے عمرو بن سلمہ کی امامت اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما کی نماز عشاء رسول اللہﷺ کی اقتدا میں پڑھ کر اپنے محلہ میں جا کر عشاء کی امامت(بخاری الاذان باب اذا طول الامام وکان للرجل حاجۃ فخرج وصلی۔ مسلم صلاۃ باب القراءۃ فی العشاء)والے دونوں واقعے اس کی دلیل ہیں۔ قیام رمضان میں تین فضیلتیں ہیں۔ (۱) وقت کی فضیلت پچھلی رات قیام پہلی رات قیام سے افضل ہے۔ (۲)باجماعت قیام بے جماعت قیام سے افضل ہے۔ (۳) گھر میں قیام مسجد میں قیام سے افضل ہے۔ گھر میں پچھلی رات باجماعت قیام کرنے سے تینوں فضیلتیں حاصل ہو جائیں گی باقی کوئی شخص یہ تین فضائل حاصل نہیں کر سکتا تو اسے ایک دو فضائل سے بہرہ ور ہونے دینا چاہیے مسئلہ فقط افضل غیر افضل کا ہے جائز ناجائز کا نہیں۔

لفظ تراویح کی حقیقت

جس نماز کو لوگ لفظ تراویح سے یاد کرتے ہیں اس نماز کا یہ نام ’’تراویح‘‘ قرآن وحدیث سے ثابت نہیں ۔

رکعات تراویح اور مولانا محمد انور کشمیری حنفی کا موقف

مشہور ومعروف حنفی دیوبندی بزرگ حضرت مولانا محمد انور شاہ صاحب کشمیری رحمہ اللہ تعالیٰ کی جامع ترمذی پر تقریر ’’العرف الشذی‘‘ میں لکھا ہے :

«وَلاَ مَنَاصَ مِنْ تَسْلِيْمِ اَنَّ تَرَاوِيحَه عَلَيْهِ السَّلاَمُ کَانَتْ ثَمَانِيَةَ رَکْعَاتٍ وَلَمْ يَثْبُت فِیْ رِوَايَةٍ مِنَ الرِّوَايَاتِ اَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ صَلَّی التَّرَاوِيْحَ وَالتَّهَجُّدَ عَلَيْحِدَة فِی رَمَضَانَ»الخ ص 309 ط ديوبند

ترجمہ : اور یہ بات تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں کہ رسول اللہﷺ کی تراویح آٹھ رکعات تھیں اورروایات میں سے کسی ایک روایت میں ثابت نہیں کہ رسول اللہﷺنے رمضان میں تراویح اور تہجد الگ الگ پڑھی ہو ۔

وباللہ التوفیق

احکام و مسائل

نماز کا بیان ج1ص 230

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ