سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(210) امام بخاری کی طرف منسوب ایک بے اصل واقعہ

  • 13731
  • تاریخ اشاعت : 2015-02-03
  • مشاہدات : 514

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

انوار خورشید دیوبندی نے حافظ ابن حجر (ہدی الساری مقدمۃ فتح الباری ج۲ص۲۵۳) کے حوالے سے لکھا ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ تراویح کے بعد تہجد پڑھتے تھے۔ (حدیث اور اہلحدیث ص۶۸۳) کیا یہ بات صحیح ہے؟

دیکھئے رحمت للعالمین (۱؍۹۳) اور الرحیق المختوم اردو (ص۲۴۰، ۲۴۱)

کیا یہ اشعار پڑھنے والا واقعہ صحیح سند سے ثابت ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

حافظ ابن حجر کی بیان کردہ روایت کی سند کا ایک راوی مقسم یا مسبح یا نسبح بن سعید یا سعد ہے۔ دیکھئے ہدی الساری (ص۴۸۱) و تاریخ بغداد (ج۲ص۱۲) وتاریخ دمشق (ج۵۵ ص۵۸) بعض مخطوط میں فسیح یا مسیح لکھا ہوا ہے۔ ان ناموں کا کوئی راوی اسماء الرجال کی کتابوں میں نہیں ملا لہٰذا یہ مجہول ہے۔

خلاصہ: یہ واقعہ باطل و بے اصل ہے، امام بخاری رحمہ اللہ سے ثابت ہی نہیں ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام)

ج2ص484

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ