سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(191) کیا امام بخاری بچپن میں نابینا ہوگئے تھے؟

  • 13712
  • تاریخ اشاعت : 2015-02-01
  • مشاہدات : 953

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

مولانا ارشاد الحق اثری صاحب لکھتے ہیں:

’’حضرت امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ کی صغرسنی میں آنکھیں خراب ہوگئیں۔ جس کے نتیجہ میں ان کی بصارت جاتی رہی، امام بخاری کی والدہ محترمہ جو بڑی عابدہ اور صاحبِ کرامات خاتون تھیں، دعا کیا کرتیں کہ اے اللہ! میرے بیٹے کی بینائی درست کردو ایک رات خواب میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زیارت ہوتی ہے۔ آپ فرما رہے تھے کہ تمھاری کثرتِ دعاء کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے تمھارے بیٹے کی بینائی واپس لوٹا دی ہے۔ چنانچہ اس شب کو جب وہ بیدار ہوئیں تو دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے فرزند کی بینائی درست کردی۔ (تاریخ بغداد ص۱۰ ج۲۔ ھدی الساری ص۴۷۸)‘‘ (آفاتِ نظر اور ان کا علاج ص۶۰، ناشر ادارۃ العلوم الاثریہ فیصل آباد)

کیا یہ واقعہ بلحاظِ سند صحیح ہے؟ اس کی تحقیق فرما دیں۔ جزاکم اللہ خیرا


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس روایت کی سند متن تاریخ بغداد میں درج ذیل ہے:

’’حدثنی ابوالقاسم عبدالله بن احد بن علی السوذرجانی باصبهان من لفظه قال: نبانا علی بن محمد بن الحسین الفقیه قال: نبانا خلف بن محمد الخیام قال: سمعت ابا محمد عبدالله بن محمد بن اسحاق السمسار یقول: سمعت شیخی یقول: ذهبت عینا محمد بن اسماعیل فی صغره فرات والدته فی المنام ابراهیم الخلیل علیه السلام، فقال لها: یاهذه قدردالله علی ابنک بصره لکثرة بکائک اولکثرة دعائک، قال: فاصبح وقدرداللہ علیه بصره‘‘ (۲؍۱۰ ت۴۲۴)

اب اس سند کے راویوں کی تحقیق درج ذیل ہے:

۱: شیخ، یہ مجہول ہے۔

۲: ابومحمد المؤذن عبداللہ بن محمدبن اسحاق السمسار کے حالات نہیں ملے۔

۳: خلف بن محمد الخیام سخت ضعیف راوی ہے۔ اس کے بارے میں امام خلیلی نے فرمایا:

’’وهو ضعیف جدا‘‘ اور وہ سخت ضعیف ہے۔ (الارشاد للخلیلی ج۳ ص۹۷۲ ولسان المیزان ۴؍۴۰۴)

اس پر امام حاکم نیشاپوری اور ابن ابی زرعہ نے جرح کی ہے۔ ابوسعد الادریسی نے بھی اس کی تلیین (تضعیف) کی ہے۔

۴: علی بن محمد بن الحسین الفقیہ کے حالات نہیں ملے۔

۵: ابوالقاسم عبداللہ بن احمد بن علی السوذر جانی کے حالات نہیں ملے۔

نتیجہ: یہ سند سخت ضعیف ہے۔

حافظ ابن حجر العسقلانی نے ہدی الساری مقدمۃ فتح الباری میں لکھا ہے: ’’فروی غنجار فی تاریخ بخاری والالکائی فی شرح السنة فی باب کرامات الاولیاء منه ان محمد بن اسماعیل ذهبت عیناه فی صغره‘‘ (ص۴۷۸)

غنجا روالی روایت کی سند درج ذیل ہے:

’’انا خلف بن محمد قال: سمعت احمد بن محمد بن الفضل البلخی یقول: سمعت ابی یقول: ذهبت عینا محمد بن اسماعیل فی صغره‘‘ (تغلیق التعلیق ۵؍۳۸۸)

ابوعبداللہ محمد بن احمد محمد بن سلیمان بن کامل البخاری: غنجار کے حالات سیر اعلام النبلاء (۱۷؍۳۰۴) وغیرہ میں ہیں۔

خلف بن محمد الخیام سخت ضعیف ہے جیسا کہ ابھی گزرا ہے۔

احمد بن محمد بن الفضل البلخی کے حالات بھی مطلوب ہیں۔

تنبیہ: محمد بن احمد بن سلیمان: غنجاروالی روایت امام لالکائی نے ’’کرامات اولیاء اللہ‘‘ میں ’’اخبرنا احمد بن محمد بن حفص‘‘ عن غنجار کی سند سے بیان کررکھی ہے(ص۲۹۰ ح۲۲۹) لیکن نسخہ مطبوعہ میں کمپوزر یا ناسخ کی غلطی کی وجہ سے سند میں تصحیف وتحریف واقع ہوچکی ہے۔

نتیجہ: غنجار اور لالکائی والی روایت خلف بن محمد الخیام کی وجہ سے سخت ضعیف ہے۔

لہٰذا یہ سارا قصہ ثابت نہیں ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام)

ج2ص443

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ