سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(197) اسامہ بن لادن اور ان کا مسلک

  • 126
  • تاریخ اشاعت : 2011-12-05
  • مشاہدات : 923

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
کیا اسامہ بن لادن صحیح انسان ہے۔؟ کیا وہ قرآن و سنت کے مسلک پر ہے۔؟ کیا اس کی موت پر ہمیں افسوس ہونا چاہیے۔؟ یہ سوال مجھے ہمیشہ تنگ کرتے ہیں، اس لیے جواب کا طلب گار ہوں۔ اس کی شخصیت کے بارے مطلع کریں۔؟

 

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا اسامہ بن لادن صحیح انسان ہے۔؟ کیا وہ قرآن و سنت کے مسلک پر ہے۔؟ کیا اس کی موت پر ہمیں افسوس ہونا چاہیے۔؟ یہ سوال مجھے ہمیشہ تنگ کرتے ہیں، اس لیے جواب کا طلب گار ہوں۔ اس کی شخصیت کے بارے مطلع کریں۔؟


 

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

1۔میرے خیال میں شیخ اسامہ بن لادن کی زندگی یا اعمال وافعال کے دو پہلو ہیں۔ جہاں تک ان کے امریکہ کے ظلم وستم کے خلاف جہادوقتال کا معاملہ ہے تو علماء اس کی عموما تحسین کرتے ہیں جبکہ مسلمان ممالک کے حکمرانوں کے خلاف ان کے افکار ونظریات اس قابل نہیں ہیں کہ انہیں پسندیدگی کی نظر سے بھی دیکھا جائے مثلا وہ آل سعود کو ائمہ کفر قرار دیتے ہیں اور ’فقاتلوا ائمۃ الکفر‘ سے استدلال کرتے ہوئے موجودہ سعودی حکمرانوں کے خلاف قتال کو واجب قرار دیتے ہیں۔

2۔ پس امریکہ اور مغرب کے ظلم وستم کے خلاف ان کی جدوجہد قابل تحسین ہے جبکہ مسلمان ممالک کے خلاف ان کے کفر اور خروج کے فتاوی پر نکیر کرنی چاہیے۔ شیخ بن باز اور شیخ صالح العثیمین رحمہما اللہ نے ان کے ایسے فتاوی پر نکیر کی ہے۔شیخ بن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

''أما ما یقوم به الآن محمد المسعری وسعد الفقیه و أشباھھما من ناشری الدعوات الفاسدة الضالة فھذا بلا شک شر عظیم وھم دعاة شر عظیم وفساد کبیر والواجب الھذر من نشراتھم والقضاء علیھا وتلافھا وعدم التعاون معھم فی أی شیء یدعوا لی الفساد والشر والباطل والفتن لأن اللہ أمر بالتعاون علی البر والتقوی لا بالتعاون علی الفساد والشر ونشر الکذب ونشر الدعوات الباطلة التی تسبب الفرقة واختلال الأمن لی غیر ذلک؛ ھذا النشرات التی تصدر من الفقیه أو من المسعری أو من غیرھما من دعاة الباطل ودعاة الشر والفرقة یجب القضاء علیھا وتلافھا وعدم الالتفات لیھا ویجب نصیحتھم ورشادھم للحق وتحذیرھم من ھذا الباطل ولا یجوز لأحد أن یتعاون معھم فی ھذا الشر ویجب أن ینصحوا وأن یعودوا لی رشدھم وأن یدعوا ھذا الباطل و یترکوہ ونصیحتی للمسعری والفقیه وابن لادن وجمیع من یسلک سبیلھم أن یدعوا ھذا الطریق الوخیم وأن یتقوا اللہ ویھذروا نقمته وغضبه وأن یعودوا لی رشدھم وأن یتوبوا لی اللہ مما سلف.''(مجموع فتاوی ومقالات : جلد٩' ص ١٠٠)

'' فساد اور گمراہی پر مبنی افکار و دعوت پھیلانے والوں میں سے محمد المسعری اور سعد الفقیہ جیسے لوگ بھی شامل ہیں جواپنی دعوت لے کر کھڑے ہوئے ہیں۔بلاشبہ ان کی دعوت ایک بہت بڑا شر ہے اور یہ لوگ بھی ایک بڑے شر اور فتنے و فساد کے داعی ہیں۔پس یہ لازم ہے کہ ان کی تحریروں سے بچا جائے اور ان کے نظریات کے خلاف فیصلہ کیا جائے اور ان کی کتابوں کو تلف کیا جائے اور ان کے ساتھ ہر اس کام میں عدم تعاون کیا جائے جو فتنے ' فساد' باطل اور شر کی طرف لے کر جانے والاہے۔کیونکہ اللہ تعالی نے نیکی اور تقوی کے کاموں میں تعاون کا حکم دیا ہے اور فساد ' شر 'جھوٹ کی اشاعت اورایسے باطل افکار جو تفرقے اور امن و امان کی خرابی وغیرہ کا سبب بنتے ہوں' کی اشاعت سے منع فرمایا ہے۔ یہ تحریریں جو سعد الفقیہ اور مسعری وغیرہ ' جو شر' باطل اور امت میں تفرقے کے داعی ہیں'کی طرف سے شائع ہوتی ہیں' ان تحریروں کے خلاف فتوی دینااور ان کو تلف کرنا اور ان کی طرف عدم التفات واجب ہے۔اور ان لوگوں کو نصیحت کرنا اور ان کی حق بات کی طرف رہنمائی اور ان کو ان باطل افکار سے ڈرانا بھی ایک شرعی فریضہ ہے۔کسی بھی شخص کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ ان لوگوں کے ساتھ اس شرمیں تعاون کرے اور ان لوگوں پر یہ لازم ہے کہ وہ نصیحت حاصل کریں اورہدایت کے رستے کی طرف پلٹ آئیں اور اس باطل کو چھوڑ دیں۔مسعری' فقیہ اور اسامہ بن لادن اور جوشخص بھی ان کے رستے کو اختیار کرے' کو میری (یعنی شیخ بن باز کی)نصیحت یہ ہے کہ وہ اس گندے رستے کو چھوڑ دیں اور اللہ سے ڈریں اور اللہ کے انتقام اور غضب سے بچیں اور رشد و ہدایت کی طرف لوٹ آئیں اور جوکچھ ہو چکا اس سے اللہ کی جناب میں توبہ کریں کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالی نے اپنے بندوں کی توبہ قبول کرنے اور ان کے ساتھ احسان کا وعدہ فرمایا ہے۔''

شیخ صالح العثیمین رحمہ اللہ سعودی حکمرانوں کی تکفیر اور عیوب کے بارے رائج لٹریچر پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

''ولقد انتشر فی الآونة الآخیرة نشرات تأتی من خارج البلاد وربما تکتب فی داخل البلاد ' فیھا سب ولاة الأمور والقدح فیھم ولیس فیھا ذکر أی خلصة من خصال الخیر التی یقومون بھا وھذہ بلا شک من الغیبة و ذا کانت من الغیبة فن قراء تھا حرام وکذلک تداولھا حرام ولا یجوز أن یتداولھا ولا أن ینشرھابین الناس وعلی من رآھا أن یمزقھا أو یھرقھا لأن ھذہ تسبب الفتن تسبب الفوضی تسبب الشر ولقد حذر مفتی ھذہ المملکة شیخنا عبد العزیز بن باز وفقہ الله ورحمه بالدنیا والآخرة.'' (فتاوی فی التکفیر والخروج علی ولاة الأمر : ص ٢١)

''آج کل مملکت عربیہ اور دوسرے ممالک سے کچھ ایسی چیزیں نشر ہو رہی ہیں جن میں سعودی حکمرانوں کو بر ابھلا کہا جاتا ہے اور ان پر طعن کیا جاتا ہے اور ان نشریات میں ان کی کسی ایسی بھلائی یا اچھی خصلت کا تذکرہ تک نہیں ہوتا جسے وہ قائم کرتے ہیں اور یہ بلاشبہ غیبت میں شامل ہے۔ پس جبکہ یہ غیبت ہے تو اس کا پڑھنا بھی حرام ہے اور اسی طرح اس کا آگے پھیلانا بھی حرام ہے۔ ایسی نشریات کا پھیلانا یا ان کو عوام الناس کے مابین عام کرنا جائز نہیں ہے اور جو بھی شخص ایسی نشریات دیکھے وہ انہیں پھاڑ داسی طرح اس کا آگے پھیلانا بھی حرام ہے۔ ایسی نشریات کا پھیلانا یا ان کو عوام الناس کے مابین عام کرنا جائز نہیں ہے اور جو بھی شخص ایسی نشریات دیکھے وہ انہیں پھاڑ دے یا پانی میں بہا دے کیونکہ یہ فتنے' شر اور انتشار کا سبب بنتی ہیں اور مملکت عربیہ کے مفتی اعظم شیخ بن باز اس بارے متنبہ کر چکے ہیں کہ ان نشریات کو پھاڑ دینا چاہیے۔ اللہ شیخ پر دنیا اور آخرت میں رحم فرمائے۔''

 ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 2 کتاب الصلوۃ


ماخذ:مستند کتب فتاویٰ