سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(24) موجوده زمانےکے علماء کے اجماع کا حکم

  • 11335
  • تاریخ اشاعت : 2014-04-27
  • مشاہدات : 1084

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
کیا ہمارے زمانے کے علماء کا اجماع حجت ہے؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا ہمارے زمانے کے علماء کا اجماع حجت ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد

اجماع امت قطعی حجت ہے لیکن اہل علم کے تمام اقوال کا جاننا مشکل ہے ازر عادۃ ً ممکن نہیں اسی لیے ہم ترجیح دیتے ہیں کہ یقینی اجماع صحابہ کا اجماع ہے اور ہمارے زمانے کے علماء کے بغیر مأخذ کے کسی چیز پر اجماع کرنا جائز نہیں‘ کیونکہ حق و سنت کے اکثر مخالفین حجت پکڑ سکتے ہیں کہ ہم نے یہ قول متفقہ کیا ہے اور تم اجماع کے مخالف ہو۔

مراجعہ کریں الاحکام فی أصول الأحکام و ابن حزم:(4/147)-

اسی وجہ سے شیخ الاسلام عقیدہ واسطیہ میں فرماتے ہیں‘’’ضابطے کے مطابق اجماع وہی ہے جس پر سلف تھے‘کیونکہ بعد میں اختلاف بڑھ گیا اور امت منتشر ہو گیٔ۔مراجعہ کریں مجموع الفتاوٰی ابن عثیمین :(4/63)-

اجماع کی شروط یہ ہے کہ صحیح سند سے ثابت ہو بایں طور کہ یا تو مشہور بین العلماء ہو یا اس کا ناقل ثقہ ہو اور اس کی اطلاع وسیع ہو۔اور یہ کہ اس سے پہلے کوئی مستقل خلاف نہ ہو۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ الدین الخالص

ج1ص87

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ