سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(669) ہاروں الرشید نیک خلیفہ تھا

  • 11046
  • تاریخ اشاعت : 2014-04-09
  • مشاہدات : 511

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
بعض تب تاریخ خصوصا کتاب ’’الف لیلہ ولیلہ ‘‘ میں ذکر کیا گیا ہےکہ خلیفۃ المسلمین ہارون الرشید لہو ولعب کے سوا اور کچھ نہیں جانتا تھا ۔ وہ شرابیں پیتا تھا ، گانے والیوں کے رقص کو دیکھتا اور انہیں اپنے قریب رکھتا تھا ۔ امید ہے آپ رہنمائی فرمائیں گے کہ اس بہادر شخص کے بارے میں جو کہا گیا ہے یہ صحیح ہے یا نہیں ؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

بعض تب تاریخ خصوصا کتاب ’’الف لیلہ ولیلہ ‘‘ میں ذکر کیا گیا ہےکہ خلیفۃ المسلمین ہارون الرشید لہو ولعب کے سوا اور کچھ نہیں جانتا تھا ۔ وہ شرابیں پیتا تھا ، گانے والیوں کے رقص کو دیکھتا اور انہیں اپنے قریب رکھتا تھا ۔ امید ہے آپ رہنمائی فرمائیں گے کہ اس بہادر شخص کے بارے میں جو کہا گیا ہے یہ صحیح ہے یا نہیں ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ صریح جھوٹ اور قبیح ظلم ہے کیونکہ یہ خلیفہ بہت نیک تھا ، ایک سال حج کرتا اور ایک سال جہاد کرتا تھا ۔ اس کے زمانہ میں اللہ تعالی نے مسلمانوں کو بہت سے علاقوں  پر فتح عطا فرمائی اور اسلامی حکومت کے حدود دور دور تک پھیل گئے ، اور ہر طرف امن ، خوشحالی ارو خیر و بھلائی کا اس طرح دود دورہ تھا کہ بعد میں اس کی کوئی مثال نظر نہیں آتی ۔ پھر یہ خلیفہ نیک اور اچھے اخلاق و کردار کامالک تھا ، علماء کی صحبت اختیار کرتا ، ان سے فیض حاصل کرتا ، ان کے پندو نصائح کو سنتا ، روتا خشوع و خضوع کا اظہار کرتا ، تہجد ، تلاوت قرآن ، ذکر الہی اور اللہ تعالی کی عبادت میں کثرت سے مشغول رہتا تھا ۔ جیسا کہ آپ کی سیت سےمستقل کتاب میں یہ ساری باتیں مذکور ہیں ۔ جہاں تک اس کتاب ’’الف لیلہ ولیلہ ‘‘ کا تعلق ہے تو یہ ایسے من گھڑت جھوٹوں کا مجموعہ ہ ، جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ یہ ایک ایسے شخص کی ذہنی اختراع ہے ، جس میں امانت و دیانت نہیں ہے اور جس کا مقصود صرف یہ تھا کہ امت کو اس کے واجبات فراموش  کرا دئیے جائیں اور خرافات اور جھوٹے قصے کہانیوں کے پڑھنے یا سننے میں اس کا وقت ضائع کردیا جائے ، لہذا اس کتاب سے فریب خوردہ نہیں ہونا چاہیے ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص508

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ

ABC