سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
22 رجب کے کنڈے
  • 99
  • تاریخ اشاعت : 2024-05-23
  • مشاہدات : 642

سوال

22 رجب کے موقع پر “کنڈے” کرنے کی رسم کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ کیا قرآن و سنت یا صحابہ و سلف سے اس کا کوئی ثبوت ملتا ہے؟

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۲۲/رجب کوبعض جگہ کنڈے کرنے کا بڑا رواج ہے ،یہ مروجہ رسم مذہب اہل سنت والجماعت میں محض بے اصل ،خلافِ شرع اور بدعت ممنوعہ ہے ،کیونکہ بائیسویں رجب نہ حضرت جعفر صادقؒ کی تاریخ ِ پیدائش ہے اور نہ تاریخ وفات ۔پھر بائیسویں رجب کی تخصیص کیا ہے؟اور اس تاریخ کو حضرت جعفر صادقؒ سے کیا خاص مناسبت ہے ؟ہاں بائیسویں رجب حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تاریخ وفات ہے ۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس رسم کو محض پردہ پوشی کے لئے حضرت جعفر صادقؒ کی طرف منسوب کیا گیا ورنہ در حقیقت یہ تقریب حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات کی خوشی میں منائی جاتی ہے۔ جس وقت یہ رسم ایجاد ہوئی ،اہل سنت والجماعت کا غلبہ تھااس لئے یہ اہتمام کیا گیا کہ شیرینی بطور حصہ علانیہ نہ تقسیم کی جائے تاکہ راز فاش نہ ہو ، بلکہ دشمنان حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ خاموشی کے ساتھ ایک دوسرے کے ہاں جاکر اسی جگہ یہ شیرینی کھالیں جہاں اس کو رکھاگیا ہے، اور اس طرح اپنی خوشی و مسرت ایک دوسرے پر ظاہر کریں ، جب کچھ اس کا چرچہ ہواتو اس کو حضرت جعفر صادقؒ کی طرف منسوب کرکے یہ تہمت امام موصوف پر لگائی کہ انہوں نے خود خاص اس تاریخ میں اپنی فاتحہ کا حکم دیاہے حالانکہ یہ سب من گھڑت باتیں ہیں ۔لہٰذابرادران اہل سنت کو اس رسم سے بہت دور رہنا چاہئے ، نہ خود اس رسم کو بجالائیں اور نہ اس میں شرکت کریں۔

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے