سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
کیا اسلام میں خودکشی حرام ہے؟
  • 7174
  • تاریخ اشاعت : 2026-10-14
  • مشاہدات : 17

سوال

کیا اسلام میں خودکشی حرام ہے؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اسلام میں خود كشى کرنا  بہت بڑا جرم اور كبيرہ گناہ ہے، خود كشى كرنے والے شخص كو اسى طرح كى سزا دى جائےگى جس طرح اس نے اپنے آپ كو قتل كيا ہو گا۔

سیدنا ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

مَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِحَدِيدَةٍ فَحَدِيدَتُهُ فِي يَدِهِ يَتَوَجَّأُ بِهَا فِي بَطْنِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا، وَمَنْ شَرِبَ سُمًّا فَقَتَلَ نَفْسَهُ فَهُوَ يَتَحَسَّاهُ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا، وَمَنْ تَرَدَّى مِنْ جَبَلٍ فَقَتَلَ نَفْسَهُ فَهُوَ يَتَرَدَّى فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا (صحیح مسلم، الإيمان: 109)

جس نے اپنے آپ کو لوہے (کے ہتھیار) سے قتل کیا تو وہ ہتھیار اس کے ہاتھ میں ہو گا وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم کی آگ میں رہے گا، اسے اپنے پیٹ میں گھونپتا رہے گا۔ جس نے زہر پی کر خودکشی کی، وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم کی آگ میں اسے گھونٹ گھونٹ پیتا رہے گا۔ اورجس نے اپنے آپ کو کو پہاڑ سے گرا کر خود کشی کی، وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم کی آگ میں پہاڑ سے گرتا رہے گا۔

سیدنا ثابت بن ضحاك رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

مَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ عُذِّبَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ (صحيح مسلم، الإيمان: 110)

جس نے اپنے آپ کو کسی چیز سے قتل کیا قیامت کے دن اس کو اسی چیز سے عذاب دیا جائے گا۔

سیدنا جندب بن عبد اللہ رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

كَانَ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ رَجُلٌ بِهِ جُرْحٌ فَجَزِعَ فَأَخَذَ سِكِّينًا فَحَزَّ بِهَا يَدَهُ فَمَا رَقَأَ الدَّمُ حَتَّى مَاتَ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى بَادَرَنِي عَبْدِي بِنَفْسِهِ حَرَّمْتُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ (صحيح البخاري، أحاديث الأنبياء: 3463)

تم سے پہلے ایک شخص کو بہت زخم آئے۔ وہ ان کی تاب نہ لاکر گھبرا گیا۔ اس نے چھری پکڑی اور اپنا ہاتھ کاٹ دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ خون بند نہ ہونے سے اس کی موت واقع ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق فرمایا : میرے بندے نے خود میرے پاس آنے میں جلدی کی، لہذا میں نے جنت کو اس پر حرام کردیا ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور سزا خودکشی کرنے والے شخص کی نماز جنازہ  نہیں پڑھائی، تاکہ دوسرے لوگ  اس جیسے فعل سے باز رہیں ، البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے لوگوں کو اس کی نماز جنازہ پڑھنے کی اجازت دی۔ لہٰذا اہل علم،معزز اور معتبر افراد کے لیے بہتر ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا کرتے ہوئے خودکشی کرنے والے شخص کی نماز جنازہ پڑھنے سے اجتناب کریں۔

سیدنا جابر بن سمرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ:

أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ قَتَلَ نَفْسَهُ بِمَشَاقِصَ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ (صحيح مسلم، الجنائز: 978)

نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک آدمی لایا گیا جس نے اپنے آپ کو ایک چوڑے تیر سے قتل کر ڈالا تھا تو آپﷺ نے (خود) اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے