الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ کی قراءت کرنے کے بعد کسی سورت کی تلاوت کرنا سنت ہے ۔
سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِنَا فَيَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَتَيْنِ وَيُسْمِعُنَا الْآيَةَ أَحْيَانًا وَكَانَ يُطَوِّلُ الرَّكْعَةَ الْأُولَى مِنَ الظُّهْرِ وَيُقَصِّرُ الثَّانِيَةَ وَكَذَلِكَ فِي الصُّبْحِ )صحيح مسلم، الصلاة: 451)
رسول اللہ ﷺ ہمیں نماز پڑھاتے تو ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ اور دو سورتیں (ہر رکعت میں فاتحہ کے بعد ایک سورت) پڑھتے اور کبھی کبھار ہمیں کوئی آیت سنا دیتے۔ ظہر کی پہلی رکعت لمبی کرتے اور دوسری رکعت مختصر کرتے اور صبح کی نماز میں بھی ایسا ہی کرتے۔
آیۃ الکرسی بھی قرآن مجید کی عظیم ترین آیت ہے اس کی تلاوت بھی فرض نماز میں کی جا سکتی ہے۔
والله أعلم بالصواب.