سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
گود لیے بچے کے ساتھ حقیقی والد کی بجائے اپنا نام لکھنا
  • 7162
  • تاریخ اشاعت : 2026-09-28
  • مشاہدات : 13

سوال

اگر کوئی شخص کسی بچے کو گود لے، لیکن اس کے نام کے ساتھ اس کے حقیقی والد کا نام نہ لکھے، بلکہ اپنی طرف منسوب کر لے تو اس کی کیا سزا ہے؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

کسی بچے کو گود لے کر اس کے ساتھ اپنا نام لکھنا جائز نہیں ہے، حقیقی باپ کا نام ہی لکھا جائے گا۔

ارشاد باری تعالی ہے:

ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ (الأحزاب: 5)

انہیں ان کے باپوں ہی  کی نسبت سے پکارو، یہ اللہ کے ہاں زیادہ انصاف کی بات ہے، پھر اگر تم ان کے باپ نہ جانو تو  وہ دین میں تمھارے بھائی اور تمھارے دوست ہیں۔

حقیقی والد کے علاوہ کسی دوسرے کی طرف نسبت کرنا  کبیرہ گناہ ہے، ایسا کرنے والے کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت وعید فرمائی ہے۔

سیدنا ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لَيْسَ مِنْ رَجُلٍ  ادَّعَى  لِغَيْرِ أَبِيهِ، وَهُوَ يَعْلَمُهُ، إِلَّا كَفَرَ. وَمَنِ ادَّعَى قَوْمًا لَيْسَ لَهُ فِيهِمْ  فَلْيَتَبَوَّأْ  مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ (صحیح البخاري، المناقب: 3508، صحیح مسلم، الإيمان: 61)

جس شخص نے بھی جان بوجھ کر اپنے باپ کے سوا کسی اور کو اپنا باپ بنایا تو اس نے کفر کیا اور جس نے بھی اپنا نسب کسی ایسی قوم سے ملایا جس سے اس کا کوئی (نسبی) تعلق نہیں ہے تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے