الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک شخص مسجد میں کھڑا ہوا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ! آپ ہمیں کس مقام سے احرام باندھنے کا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا:
يُهِلُّ أَهْلُ المَدِينَةِ مِنْ ذِي الحُلَيْفَةِ، وَيُهِلُّ أَهْلُ الشَّأْمِ مِنَ الجُحْفَةِ، وَيُهِلُّ أَهْلُ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ (صحيح البخاري، العلم: 133)
اہل مدینہ ذوالحلیفہ سے، شام کے لوگ جحفه سے اور نجد کے باشندے قرن سے احرام باندھیں۔
اس لیے انسان مدینہ سے مکہ جاتے ہوئے مدینے والوں کے میقات سے احرام باندھے گا۔
نیت دل کے ارادے کا نام ہے۔ انسان جب کسی کام کے کرنے کا دل سے ارادہ کر لیتا ہے گویا کہ اس نے نیت کر لی۔ نیت کے معاملے میں عمرہ، حج اور دیگر عبادات میں کوئی فرق نہیں۔ جیسے باقی عبادات میں لفظوں سے نیت کرتے ہوئے یہ کہنا کہ ’’میں وضو کی نیت کرتا ہوں‘‘، ’’ میں دو رکعت نماز کی نیت کرتا ہوں‘‘ وغیرہ درست نہیں ہے، ایسے ہی عمرہ یا حج کی نیت کرتے ہوئے بھی یہ کہنا کہ ’’میں عمرے کی نیت کرتا ہوں‘‘یا ’’میں حج کی نیت کرتا ہوں‘‘ جائز نہیں ہے؛ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح نيت كرنا ثابت نہیں ہے۔
البتہ تلبیہ پڑھتے ہوئے ’’لَبَّيْكَ اللَّهُم عُمْرَةً‘‘ کہنا مسنون ہے۔ تلبیہ ایک مستقل ذکر ہے، یہ دل میں موجود نیت کو زبان سے بیان کرنا نہیں ہے۔
سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں:
سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهَلَّ بِهِمَا جَمِيعًا: لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا، لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا (صحيح مسلم، الحج: 1251)
میں نے اللہ کے رسول اللہ صلی الله عليہ وسلم کو (حج و عمرہ) دونوں کا تلبیہ پکا رتے ہو ئے سنا یہ کہتے ہو ئے (لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَّحَجًّا) (اے اللہ! میں حج و عمرہ کے لیے حا ضر ہوں، میں حج وعمرہ کے لیے حا ضر ہوں)۔
والله أعلم بالصواب.