سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
پنجاب حکومت کی سکیم سے الیکڑک بائیک لینا
  • 7158
  • تاریخ اشاعت : 2026-10-20
  • مشاہدات : 15

سوال

پنجاب حکومت طلبہ کو قسطوں پر کم قیمت میں الیکڑک بائیک دے رہی ہے اور بینک کو سود حکومت ادا کرے گی، کیا ایسے بائیک لے سکتے ہیں؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

بلاشبہ تعلیم انسان کا حقیقی زیور ہے۔ اسلام میں اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی وحی تعلیم ہی کے بارے میں نازل ہوئی۔ لہذا انسان کو علم حاصل کرنے کے لیے ہر ممکن سعی کرنا چاہیے، اور حکومت کی بھی ذمے داری ہے کہ وہ طلبہ کے ساتھ تعاون کرے اور انہیں ہر ممکن سہولت فراہم کرے، لیکن حکومتی تعاون غیر شرعی طریقے سے نہیں ہونا چاہیے۔

حکومت طلبہ کو جو ای بائیکس دے رہی ہے،  اس کے لیے فنانسنگ بنک کے ذریعے سے ہو رہی ہے۔ بنک نے وہ قرضے سود پر ہی دیے ہیں، لیکن حکومت طلبہ کو یہ سہولت فراہم کر رہی ہے کہ وہ سود طلبہ سے وصول کرنے کی بجائے حکومتی خزانے سے ادا کر رہی ہے، یعنی طلبہ کو جس رقم سے بائکس دی جا رہی ہیں  اس کی واپسی سود کے ساتھ کی جانی ہے۔

سرکاری ویب سائٹ پر یہ باب بڑی صراحت کے ساتھ موجود ہے کہ اس فنانسنگ میں سود کی ادائیگی حکومت کرے گی۔

Who will bear the interest cost of the financing?

Government of  Punjab         (https://bikes.punjab.gov.pk/)\

سٹوڈنٹس کو حکومتی شرائط  پر متفق ہونے کے بعد ہی موٹر بائکس دی جائیں گی۔ یہ فنانسنگ سودی ہے اس لیے اس سہولت سے فائدہ اٹھانا اور اس حکومتی سکیم کے مطابق بائکس لینا شرعی لحاظ سے ناجائز اور حرام ہے۔ کیونکہ قرض پر سود ادا کرنا ناجائز اور حرام ہے، چاہے اس سود کی ادائیگی آپ خود کر دیں یا آپ کی جگہ کوئی دوسرا کر دے۔

سود  کبیرہ گناہ ہے۔ بہت سی قرآنی آیات اور احادیث میں سود لین دین سے منع کیا گیا ہے، بلکہ سود لینے کو اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ اعلان جنگ قرار دیا گیا ہے۔

اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُؤُوسُ أَمْوَالِكُمْ لا تَظْلِمُونَ وَلا تُظْلَمُونَ (البقرة: 278-279)

اے لوگو جو ایمان لائے ہو!  اللہ سے ڈرو اور سودمیں سے جو باقی ہے چھوڑ دو، اگر تم مؤمن ہو۔ پھر اگر تم نے یہ نہ کیا تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے بڑی جنگ کے اعلان سے آگاہ ہو جاؤ، اور اگر توبہ کر لو تو تمہارےلیے تمہارے اصل مال ہیں، نہ تم ظلم کرو گے او رنہ تم پر ظلم کیا جائے گا۔

سیدنا جابر رضى اللہ عنہ بیان کرتےہیں کہ :

لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا، وَمُؤْكِلَهُ، وَكَاتِبَهُ، وَشَاهِدَيْهِ، وَقَالَ: هُمْ سَوَاءٌ (صحيح مسلم، المساقاة: 1598)

رسول كريم صلى اللہ علیہ وسلم نے سود كھانے والے، سود كھلانے والے ، سود لكھنے والے، اور سود كے گواہ بننے والوں  پر لعنت فرمائى ہے ، اور فرمایا: يہ سب (گناہ میں) برابر ہيں ۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے