سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
نماز قصر کرنے کے احکام
  • 7151
  • تاریخ اشاعت : 2026-09-28
  • مشاہدات : 12

سوال

نماز قصر کرنے کی کیا شرطیں ہیں تفصیل سے بیان کر دیں۔

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

چار رکعتوں والی نماز کی دو رکعتیں ادا کرنا قصر کہلاتا ہے۔

سفر میں نماز قصر کرنا افضل ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں کبھی بھی مکمل نماز نہیں پڑھی۔

سیدنا انس  رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم نے نبی ﷺ کے ہمراہ نکل کر مدینہ سے مکہ تک کا سفر کیا، آپ اس سفر کے دوران میں مدینہ واپسی تک نماز دو دو رکعت ہی پڑھتے رہے۔ راوی حدیث کہتے ہیں: میں نے حضرت انس  رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: آپ لوگ مکہ مکرمہ کچھ عرصہ ٹھہرے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، وہاں ہم نے دس دن قیام کیا تھا۔ (صحيح بخارى: 1081)

کتنے کلومیٹر سفر  کرنے پر قصر کی جا سکتی ہے؟ اس بارے میں راجح بات یہ ہے کہ  قرآن و حدیث میں سفر کی وجہ سے قصر کرنے کی رخصت دی گئی ہے ، لیکن مسافت کی تحدید نہیں کی گئی اور نہ ہی عربی زبان میں اس حوالے سے کوئی مسافت متعین کی گئی ہے، تو  جو معاشرے میں سفر سمجھا جاتا ہواتنی مسافت طے کرنے سے قصر کی جا سکتی ہے ۔

ارشاد باری تعالی ہے:

وَإِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنَّ الْكَافِرِينَ كَانُوا لَكُمْ عَدُوًّا مُبِينًا (النساء: 101)

اور جب تم زمین میں سفر کروتو تم پر کوئی گناہ نہیں کہ نماز کچھ کم کر لو۔

مندرجہ بالا آیت کا ظاہر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ قصر کا تعلق سفر کے ساتھ ہے، مسافت معین نہیں ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی قصر کرنے کی کوئی حد بیان نہیں کی بلکہ آپ نے قصر کو سفر کے ساتھ جوڑا ہے، اسے لیے بغیر کسی دلیل کے مطلق حکم کو مقید نہیں کیا جائے گا۔

مسافر شہر سے نکلنے کے بعد قصر کر سکتا ہے۔

 حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے نبی ﷺ کے ہمراہ مدینہ منورہ میں ظہر کی چار رکعت ادا کیں اور ذوالحلیفہ پہنچ کر دوگانہ شروع کر دیا۔ (صحیح بخاری: 1089)

اگر مسافر مقامی امام کے پیچھے نماز پڑھے  گا تو مکمل نماز (چار رکعات) ادا کرے گا۔

أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ سُئِلَ: مَا بَالُ الْمُسَافِرِ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ حَالَ الِانْفِرَادِ، وَأَرْبَعًا إِذَا ائْتَمَّ بِمُقِيمٍ؟ فَقَالَ: تِلْكَ السُّنَّةُ (إرواء الغليل: 571)

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا: کیا وجہ ہے کہ مسافر جب اکیلا نماز پڑھے تو دو رکعت پڑھتا ہے، لیکن جب کسی مقیم امام کی اقتدا کرے تو چار رکعت پڑھتا ہے؟ انہوں نے فرمایا: یہی سنت ہے۔

مقامی آدمی مسافر امام کے پیچھے پوری نماز پڑھے گا۔

سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ جب مکہ مکرمہ تشریف لاتے تو انہیں دو رکعتیں نماز پڑھاتے، پھر کہتے اے مکہ والو! تم اپنی نماز پوری کر لو ہم مسافر ہیں۔ (موطا امام مالک: 195)

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے