سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
بیوی کی دبر میں زبردستی لواطت کرنا
  • 7149
  • تاریخ اشاعت : 2026-11-07
  • مشاہدات : 10

سوال

ایک شخص اپنی بیوی کی قبل کی بجائے دبر میں زبردستی ہمبستری کرتا ہے۔ اس کی بیوی اسے منع کرتی ہے مگر باز نہیں آتا اور معمول بنایا ہوا ہے، جبکہ بیوی کے آگے کے مقام میں کوئی مسئلہ بھی نہیں ہے۔ مذکورہ شخص حاجی، پنج وقت نمازی اور ظاہری طور پر نیک نظر آتا ہے۔ شادی کو 8 سال ہوچکے ہیں اور دو بچے بھی ہیں۔ کیا بیوی کو ایسے شخص سے تعلق رکھنا چاہیے؟ اس شخص کی شرعی سزا کیا ہے؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

دبر میں جماع کرنا حرام اور کبیرہ گناہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص کو لعنتی قرار دیا ہے۔

سیدنا ابوہریرہ رضی الله عنہ فرماتے ہیں  کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

مَلْعُونٌ مَنْ أَتَى امْرَأَتَهُ فِي دُبُرِهَا ) سنن أبي داؤد،كِتَابُ النِّكَاحِ:2162) (صحيح)

ملعون ہے وہ شخص جو بیوی سے دبر میں مباشرت کرتا ہے۔

 

اگر خاوند بیوی کے بار بار سمجھانے کے باوجود اس گناہ سے باز نہیں آتا، تو وہ اپنے اہل خانہ میں سے کسی راز دان اور صاحب بصیرت شخص کو بتائے، وہ اس کو احسن طریقے سے نصحیت کرے اور اس عمل کے شرعی ، اخلاقی اور طبی لحاظ سے نقصانات کے بارے میں خبر دار کرے۔ اگر پھر بھی وہ باز نہیں آتا تو بیوی خاوند کو اپنے ساتھ تعلقات  قائم نہ کرنے دے، اگر وہ زبردستی کرتا ہے تو خلع لے لے۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے